تمسخر اور طنز سے ہٹ کر۔۔نذر حافی


ہم ہنسنا چاہتے ہیں، خوش رہنا چاہتے ہیں، زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں، ہنسی مذاق اور طنز و مزاح کا اپنا ہی ایک مزہ ہے، یہ مزہ اب ہمارا مزاج بھی بن گیا ہے۔ حالات و واقعات سے اب عبرتیں کم اور لطیفے زیادہ جنم لینے لگے ہیں۔ تمسخر، تنقید اور تخریبی طنز کے سوا سیکھنے اور سکھانے کا چلن تو کب کا ختم ہوچکا ہے، لیکن اس کے باوجود آیئے کچھ دیر تمسخر و طنز کو ایک طرف رکھ کر اس مختصر تحریر کو پڑھتے ہیں۔ ہماری ایک بڑی فاضل اور دانشور شخصیت کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ کسی مجلس میں واعظ نے ثقل اکبر اور ثقلِ اصغر پر گفتگو کی، گفتگو سطحِ عمومی سے بلند تھی، حاضرین میں سے ایک صاحب جلدی سے گھر گئے اور واعظ کے موقف کے خلاف استدلال کیلئے نہج البلاغہ لے کر آگئے، انہوں نے آتے ہی مجلس روکی اور بھرے مجمع میں حاضرین سے کہا کہ یہ دیکھئے کہ نہج البلاغہ میں کیا لکھا ہے اور حضرت واعظ کیا فرما رہے ہیں!!! اس سے مجلس میں وقتی طور پر بدمزگی پیدا ہوگئی، بہرحال واعظ نے دانشمندی کے ساتھ ثقل اکبر اور ثقلِ اصغر پر مزید روشنی ڈالی، جس سے مجلس میں آیا ہوا اُبال اپنی جگہ بیٹھ گیا۔

بعد ازاں متولی نے عینی شاہد دانشور سے اس بارے میں استفسار کیا، عینی شاہد نے کہا کہ میں تو آپ کو بتاوں گا کہ کیا ہوا، لیکن پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ کیوں ناراض ہیں اور آپ کو کیا رپورٹ دی گئی ہے۔ متولی نے کہا کہ مجھے یہ جان کر بہت افسوس ہوا ہے کہ مقصر واعظ نے منبر سے حضرت علی اکبرؑ اور حضرت علی اصغر ؑ کی شان میں گستاخی کی ہے۔۔۔ اسی طرح کا ایک اور مصدقہ واقعہ بھی پیش خدمت ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صاحب نے ایک بڑے میاں کے ساتھ تقلید کے مسئلے پر کافی عرصہ گفتگو کی۔ بالآخر بڑے میاں تقلید کرنے کے قائل ہوگئے، فرطِ جذبات میں اُن کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے، کہنے لگے کہ میں نے ساری زندگی جہالت میں گزار دی۔۔۔ اے کاش پہلے مجھے ان ساری باتوں کی سمجھ آجاتی، اے کاش میں پہلے ہی کسی واجدالشرائط فقیہ کی تقلید کرتا، آنسو پونچھنے کے بعد کہنے لگے کہ آغا صاحب آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے ہلاکت سے نجات دی، بس اب یہ بتایئے کہ میں اپنی تقلید کو تبدیل کیسے کروں!؟ اس بات پر آغا صاحب چونک کر بولے، اچھا تو آپ پہلے بھی کسی کی تقلید کرتے تھے!؟ بزرگوار نے سسکتے ہوئے کہا کہ جی ہاں پہلے میں امام علیؑ کی تقلید کرتا تھا، اب نہیں کروں گا۔۔۔

اب ایک واقعہ اُن کا بھی پڑھ لیجئے جنہیں اپنے عالم ہونے کا خبط ہو جاتا ہے، یہ بنیادی طور پر دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو تین چار سال مدرسوں میں لگانے کے بعد عالم دہر بن جاتے ہیں اور دوسرے وہ جو ذاتی مطالعات، تنظیمی دروس اور علماء کی نشستوں کے بعد خواص میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسے ہی صاحب کہتے تھے کہ مسئلہ خلافت اور فدک پر سیدہ دو عالم ؑ نے کئی ریلیاں اور جلوس نکالے تھے، اُن کا کہنا تھا کہ بی بی ؑ نے جو احتجاج کئے ہیں، اُن سے ہمیں آگاہ ہی نہیں کیا جاتا۔ ایک مرتبہ اس بات پر اُنہیں کسی نے ٹوکا تو کہنے لگے کہ آپ کو نہیں پتا، ابھی ایران میں احتجاجاتِ حضرت فاطمہ ؑ کے نام سے ایک کتاب بھی چھپی ہے۔ یعنی وہ صاحب فارسی کے احتجاج کو اردو کا احتجاج سمجھ رہے تھے اور احتجاجی جلسے جلوسوں اور ریلیوں کو سیدہ دو عالم ؑ کی سُنت کہنے پر بضد تھے۔۔۔

اب اگر آپ واقعتاً عبرت کیلئے اس تحریر کو پڑھ رہے ہیں تو پھر ہمارے ایک انتہائی فاضل اور دانشور دوست کا یہ ذاتی واقعہ بھی پڑھئے، وہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اَنِ اعبُدُوا اللهَ وَ اجتَنِبُوا الطّاغوت کے موضوع پر ڈیڑھ گھنٹے کی مفصل گفتگو کی، انہوں نے اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے پرہیز کرو، کے مسئلے کو خوب بیان کیا، بعد ازاں ایک صاحب نے ان سے کہا کہ میں نے اس بارے میں پہلے بھی بہت سُن رکھا تھا، لیکن جیسے آپ نے سمجھایا ہے، ایسے کوئی نہیں سمجھا سکا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ کونسی بات آپ کو زیادہ سمجھ آگئی ہے، وہ کہنے لگے کہ یہی بات کہ ہمیں اللہ کی عبادت کرنی چاہیئے یعنی نماز پڑھنی چاہیئے اور معصومینؑ کے تابوت نہیں نکالنے چاہیئے۔۔۔ یعنی وہ صاحب اللہ کی عبادت کو صرف نماز اور طاغوت کو تابوت سمجھے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔ محرم الحرام کی آمد سے پہلے ان واقعات کو بیان کرنے کا ایک مقصد ہے اور وہ مقصد یہی ہے کہ ایک تو ہمیشہ خطباء و ذاکرین کا علمی و فکری پسِ منظر جانچ کر اُنہیں دعوت دیجئے، تاکہ کہیں احتجاجات ِسیدہ ؑ والا مسئلہ نہ ہو جائے اور دوسرے یہ کہ علماء و ذاکرین بھی مخاطبین کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھ کر بات کریں، تاکہ ثقلِ اصغر اور ثقلِ اکبر والا معاملہ نہ ہو۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں