جواز۔۔مختار پارس | مکالمہ


آسمانوں کو چومنے کا کیا جواز ہو سکتا ہے ! کیا بوسے ثبت کرنے کےلیے رخسارِ دل کافی نہیں؟ خاک نشیں اس عرشِ بریں کے بارے میں اتنے غلطاں کیوں رہتے ہیں جہاں پر قیام ممکن ہی نہیں تھا۔ غلطیاں سفر کو واجب کر دیتی ہیں۔ ہر وہ شخص جس سے غلطی سرزد ہو جاۓ، اس سے قیام چھین لیا جاتا ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ یہ کہکشاں سفر میں ہے۔ مٹی کا ایک غبار ہے، گرد ہے یا گرداب ہے، پتہ نہیں کیا ہے مگر اربوں نوری سالوں سے اپنے گرد اور دوسرے مٹی کے ڈھیلوں کے گرد گھومتا چلا جا رہا ہے۔ انسان کی ایک غلطی نے پوری کائنات کو سفر پر ڈال دیا۔ قیام کی خواہش ہماری جبلتوں سے نکال دی گئی۔ ہم برقی قمقمے جلا کر سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے اجالا کر دیا۔ خلاؤں میں ابھی بہت اندھیرے ہیں۔ یہ گیند اڑتی ہوئی کہاں جا کر گرے گی، ہمیں نہیں معلوم ۔

تاریخ میں انسان کو جب بھی کچھ سمجھ میں آیا ہے، وہ غلط ثابت ہوا ہے۔ جو نظر آتا ہے، وہ التباس ہے، جو محسوس ہوتا ہے، جہالت ہے، جو دکھائی نہیں دیتا، وہ حقیقت ہے۔ جہالت کے مرتبے بہت کوشش سے ملتے ہیں۔ کوشش کرنے والے کو لوگ سر پر بٹھاتے ہیں۔ جو جتنے بڑے مرتبے پر فائز نظر آتا ہے، اس کی وجہ اس کی جہد اور اسکا جہل ہے۔ حقیقت کا مرتبے اور منصب سے، عِلم اور عَلم سے،ثواب اور گناہ سے کوئی تعلق نہیں۔ دنیا کا یہ کاروبار بیوپاری نہیں چلا سکتے کہ انسانی خصائل خرید و فروخت سے وجود پذیر نہیں ہوسکتے۔ مذہب انسان کی روح ہے اور روح کو بیچنے والا شیطان ہے۔ بصری تقاضے ہمارے افکار کو پریشان کر دینے کےلیے کافی ہیں، ہمیں تو اس پار جانا ہے جہاں پر شراب و شِیر کی جوۓ امکاں بہہ رہی ہے،ہمیں تو خدا کی  محبت میں انسانوں کا قتلِ عام کرنا ہے،ہمیں تو مال و بنون کی التفات میں سرکشی کے محلات کو تعمیر کرنا ہے اور اطاعت کے قلعوں کو مسمار کرنا ہے۔ ایسے میں ہمیں وہ فقیر کہاں نظر آئیگا جو اشجارِ اخضر کے سایوں میں بیٹھا بے کسوں کے سروں پر ہاتھ رکھتا ہے، پرندوں کو دانہ دیتا ہے اور لوگوں سے کہتا ہے کہ ہم اس غلطی کے پھر سے متحمل نہیں ہو سکتے؛ اپنے رخسارِ دل پر ایک بوسہ رکھ کر اس سے پوچھو کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ جو وہ چاہتا ہے، وہی حقیقت ہے۔

ایک انسان اللہ کی رضا کے سوا کچھ نہیں چاہ سکتا۔ یہ بات اس کو اس کے دل کے سوا کوئی نہیں بتا سکتا۔ تقسیمِ اقتدار کے وقت جو دستور لکھا گیا، اس میں خلافت اس انسان کے حصے میں آئی جسے تخت و تاراج کا غم نہیں ہوتا۔ خدا کی نظر میں بادشاہ وہ ہے جو اس کے سوا کسی کا محتاج نہیں۔ اس نظامِ معاش میں رئیس وہ ہے جس کو یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ قیمت اس کی جیب سے نکل کر کسی اور مستحق کی جیب میں کیسے جاۓ گی ۔ اس نظامِ دفاع میں ریاست اس کو کہا گیا جو دریا کے کنارے کسی جانور کو بھی نہیں مرنے دیتی۔ حقوق کی عالمی دستاویز لکھنے والے نے کہا کہ جب میں نماز پڑھ رہا ہوتا ہوں اور فاطمہؑ آ جاتی ہے تو میرا دل کرتا ہے کہ میں نماز توڑ کر اس کا استقبال کروں مگر شاہوں کے سرکاری فرمان پڑھنے والوں کو یہ بات کہاں سمجھ آۓ گی جو شہرزادوں کے حقوق کو نظر آنے والے مراتب کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ خاتم کے نعرے لگا کر شاتم سے نجات مل جاۓ گی۔ کسی سے محبت کا دعویٰ کسی اور پر ظلم کی بنیادوں پر استوار نہیں ہو سکتا۔ ماں کی طرف مسکرا کر دیکھ لینا زمین پر ستر ہزار ٹَکریں مارنے سے کہیں بہتر ہے۔ اگر یہ مقام نظر نہ آۓ تو کیا اس طرف سے آنکھیں موند لینے کا کوئی جواز ہے؟

وجہِ تلاشِ آرزو دامِ دید سے ماورا ایک معاملہ ہے۔ ہر خواہش کے پاس کوئی نہ کوئی یقین، کہیں نہ کہیں مکین ہوتا ہے۔ یقین چشموں کی طرح صحرا میں بھی پھوٹ سکتا ہے اور کوہساروں میں بھی بہہ نکلتا ہے۔ بہتی ہوئی ندی کا پانی کوئی مٹی نہیں روک سکتی۔ مٹی کی خاصیت ہے کہ وہ بہہ جاتی ہے۔ اسے حکمِ سفر ہے اور اسے کسی کے کھیت کی آبیاری کرنا ہے اور کسی کی پیاس بجھانا ہے، کسی کو چاند کا عکس دکھانا ہے اور کسی کو ملہار کرنا ہے۔ کچے گھڑے آبِ رواں کے بغیر اس پار نہیں لگ سکتے۔ مسافر پرندے بھی بہتے پانیوں کی تلاش میں آتے ہیں۔ زندگی ایک قطرے میں بھی ہے اور ایک دریا میں بھی موجود۔ نہیں موجود تو صرف اس آبِ حیواں میں جہاں غفلت کے پھول کھڑے پانیوں میں ڈوب جانے والوں کے انتظار میں کھلے ہوتے ہیں۔

جو بات میرے آقاؐ کی حیات سے ثابت ہے، وہی سچ ہے۔ اگر فتح کے وقت سر جھکانے کی روایت ہے تو فخر و عناد میں دشمنوں کےلیے دشنام کا جواز نہیں۔ اگر شریکِ حیات سے کسی رنجش پر جنبشِ مژگاں کی مثال نہیں تو پھر کسی ہمراز و ہمسفر پر ہاتھ اٹھانے کا جواز نہیں۔ اگر منافقین کو ختم کرنے کےلیے مسجد گرانے کا واقعہ ثابت ہے تو پھر آج اس مثال کو نہ اپنانے کا جواز نہیں۔ اگر کلیساؤں کی حفاظت کا وعدہ تحریر ہے تو پھر کہیں بھی مندر گرانے کا جواز نہیں۔ اگر قلم کی سیاہی شہید کے خون سے زیادہ متبرک قرار دی گئی ہے تو ہماری گھن گرج کا کوئی جواز نہیں۔ طفلانِ مکتب کو ستون کی اوٹ میں پڑھانے والے اگر آتشِ شوق پر قابو نہیں رکھتے تو پھر تقویٰ کے دعوے کا ہرگز جواز نہیں۔ اگر کوئی اپنے بھائی کا حق چھینتے ہوۓ نہیں ڈرتا، کسی بہن کی چادر کو تارتار کرنے سے نہیں کتراتا اور ہمساۓ کا خیال بھی نہیں رکھتا تو پھرایک راہزن خدا سے آنکھیں چار کرنے کی ہمت کہاں سے لے آتا ہے؟ خدا کے نبیؐ کی مسجد میں اگر محبت بانٹی جاتی تھی تو میری عبادت گاہ میں نفرت کہاں سے آ گئی؟ رحمت نچھاور کرنے والے کی قوم سنگدلی کے پرچم کیسے بلند کر سکتی ہے؟ ہر وہ چیز جس کا جواز نہیں ہم سے کیوں سرزد ہو رہی ہے؟ ہر حقیقت ہم سے کیوں منہ چھپاتی ہے؟ ہمارے مرتبے ہماری گردنوں کو ہمارے گریبانوں میں دیکھنے پر مجبور کیوں نہیں کرتے۔ جہد و جہالت کے اس دور میں شاید شکوے کا بھی جواز نہیں! خدا کے قانون میں تبدیلی کا اختیار ہمیں حاصل نہیں۔ کیا یہ اس نے نہیں کہا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے؟ روزِ محشر اگر خدا نے کہہ دیا کہ عبادت کے یہ معیار تو میں نے کہے ہی نہیں تھے۔ یہ تو تم اپنی مرضی کا سامان اٹھا کر آ گئے  ہو۔ ۔ ۔ تو پھر ہم کیا کریں گے؟





بشکریہ

جواب چھوڑیں