موٹروے جیسے سانحات، کچھ بنیادی وجوہات – ثوبیہ بتول

پردہِ تہذیب میں غارت گری‎

کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا کہ ملک کے طول و عرض میں زیادتی کے واقعات پیش نہ آتے ہوں۔ اس بدترین ظلم کا شکار ہونے والوں کی زیادہ تعداد تین سے دس کی عمر کی بچیاں اور بچے ہیں۔ بہت سے ایسے واقعات ہیں جو لوگ بدنامی کے ڈر سے رپورٹ نہیں کرواتے۔

پچھلے دنوں وفاقی وزیر شہر یار آفریدی نے انکشاف کیا کہ بچوں کی ریپ کی لاکھوں وڈیوز برآمد ہوئی ہیں۔ اور وہ لوگ اس پہ تفتیش کر رہے ہیں۔ پھر ڈارک ویب کی بات بھی سامنے آئی کہ لوگ زیادتی کے بعد قتل کرتے ہیں ٹانگیں اور بازوں کاٹ دینا اس سب کی وڈیو بنا کے ڈارک ویب پہ ڈال دیتے ہیں اس سے ان کو پیسے ملتے ہیں۔

جب ڈاکٹر شاھد مسعود نے اشارہ دیا تھا کہ اس میں پاکستان کی کچھ طاقتور شخصیات شامل ہیں۔اس بات پہ انہیں چینل کی جاب سے ہاتھ دھونا پڑا۔ شاھد صاحب کی زندگی کو خطرہ پیدا ہوگیا۔۔۔ یہ معاملہ یوں دب گیا۔۔۔۔

یہ تو صرف ایک پہلو ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو صرف اپنی ہوس پوری کرنے کے لئیے کسی کی عزت سے کھیلتے ہیں۔۔ ہوس کے ساتھ ساتھ بے رحمی کی ایسی ہوشربا داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ شیطان پہ کانوں کو ہاتھ لگائے۔۔۔۔

کوئی اکا دکا واقعہ ہو تو اس کی مخصوص وجہ سمجھ کے بندہ صبر کر جاتا ہے۔ یہاں تو پوری ایک سیریز چل پڑی ہے۔ ایسے میں سنجیدہ شہری سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے ایسے کونسے عوامل ہیں جو ریاست میں ان واقعات کو پروموٹ کرنے میں، پھلنے پھولنے میں، ان کی آبیاری کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔۔

مثلاََ:
پاکستان کے تقریبا ہر بڑے شہر میں ایسے تھیٹر موجود ہیں جہاں ڈرامے کے نام پہ اسفل درجے کی فحاشی دکھائی جاتی ہے۔ ”صرف بالغوں کے لئیے” کے جملے کے ذریعے ٹین ایجرز کی بڑی تعداد کے لئیے کشش کا سامان کیا جاتا ہے۔۔۔ صرف چند روپے میں یہ گھٹیا تفریح ہر آدمی کی پہنچ میں ہے۔

موبائل ہر شخص کے ہاتھ میں ہے۔ نوجوان نسل پورن وڈیوز دیکھ رہی ہے۔ والدین کے پاس اولاد کی ”سرچ ہسٹری” چیک کرنے کا وقت نہیں۔۔ ریاست کو پابندی لگانے کی پرواہ نہیں۔۔

معاشی افراط و تفریط عروج پر ہے۔ شدید غربت اور محرومی کا نتیجہ نوے فیصد جرائم کی صورت میں نکلتا ہے۔کیا وجہ ہے کہ سٹریٹ کرائمز اور ریپ کیسز میں اکثر مجرموں کا تعلق ایسے محروم طبقات سے ہوتا ہے۔۔

تعلیم، جہیز، معاشی مسائل کی وجہ سے بچے بچیوں کی لیٹ شادی کا رواج شدت پکڑ گیا ہے۔۔ اس لئیے بڑی تعداد جبلی خواہشات سے مجبور ہوکر غلط راستوں پہ چل نکلتی ہے جس کے نتائج آئے روز کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے مردہ ناجائز بچوں کے ملنے کی صورت میں نکل رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے ہزاروں زندہ بچے ہیں جن کی ولدیت کے خانے میں عبدالستار ایدھی کا نام لکھا ہے۔۔

پانچویں وجہ ہماری اشرافیہ اور سٹیک ہولڈرز کا مفاد اسی میں ہے کہ پولیس ان کی کاسہ لیس بن کے رہے۔ وہ درستی کا عمل کبھی نہیں ہونے دیں گے۔۔یہ پولیس مجرموں کو تحفظ دیتی ہے۔۔۔۔

کوئی بہت پرانی بات نہیں ہے جب انٹرنیٹ اور موبائل نے عام نہیں ہوا تھا۔دیہاتوں قصبوں میں رواج تھا ک مغرب کے بعد کوئی لڑکا یا بچہ گلی پھرتا نظر آتا تھا تو گاوں محلے کے بزرگ کہا کرتے تھے ”اوئے باہر کیا کر رہا ہے چل گھر، شام ہوگئی”۔ اب سوشل فیبرک ایسا ہوگیا ہے کہ کوئی کسی کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔ایک بدترین قسم کی تنہائی نے آگھیر ہے۔ ساتھ والے ہمسائے کا پتہ نہیں۔۔۔ خودغرضی کا مظاہرہ ہم نے اس زیادتی کے کیس میں بھی دیکھا کہ خاتون نے راہ چلتے آدمی سے مدد مانگی مگر اس نے گاڑی نہیں روکی۔۔۔

پھر ہمارے ملک میں بھرپور طریقے سے کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کا ماحول نہیں۔ تقریری مقابلوں اور علمی مباحث کا ٹرینڈ نہیں۔۔ نوجوانوں کے پاس کرنے کے لئیے کوئی صحت مند مشغلہ نہیں تو اس طرح کی فراغت انہیں جنسی تخریب کی طرف مائل کرتی ہے۔۔۔ فراغت خود کئی مسائل کی جڑ ہے۔۔

کسی زمانے مسجد و منبر نیکی سکھانے، اقدار و روایات کی تربیت کرنے کے مراکز تھے۔ ایسا قحط الرجال آیا ہے کہ یہ سب سے زیادہ جہالت تشدد اور غیر فطری رویوں کی آماجگاہ بن گئے ہیں۔

دین کے ترجمان اعلی اخلاق، اعلی ذہن اور اعلی تربیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آنے والے نئے معاشرتی سماجی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لئیے ان کے پاس کوئی بیانیہ ہوتا ہے۔۔ اب دین کے زبردستی کےترجمان توحید و رسالت کے ایسے عامیانہ دلائل دے رہے ہوتے ہیں کہ مسلمان کا مسلمان رہنا مشکل ہے۔۔۔

یہ بیچارے ایک رکعت کے امام کیا مغربی علمی، سائنسی اور نظریاتی یلغار کا سامنا کریں گے۔۔۔ اس میں ریاست کا مجرمانہ عمل شامل ہے کہ اس نے ان کی سر پرستی نہیں کی۔معاشی مجبوریاں بھی ہیں۔۔ تو یہ کیا نوجوانوں کو نیکی سکھائیں گے۔۔ ایک یہ وجہ بھی ہے کہ وہ ہر برائی کا آسان ہدف بن رہے ہیں۔

دوسرا پاکستان میں جرائم کے مناسب حال قوانین موجود نہیں۔اگر ہیں تو عدالتی نظام اتنا بودا ہے کہ اس کو لاگو کروانے میں مکمل طور پہ ناکام ہے۔ سیاستدانوں کو اقتدار کی رسہ کشی سے فرصت نہیں۔۔ایسے میں ان کی بلا سے جہنم میں جائے عوام۔۔

ان تمام عوامل کے ہوتے ہوئے صرف قانونی تبلیغ سے تاقیامت نہ ریپ کم ہوں گے۔ نہ جرائم نیچے آئیں۔ ہر نئے واقعے پہ تھوڑی دیر ایک شور اٹھے گا۔۔۔

سیاست ہوگی۔ بھاگ دوڑ ہوگی۔۔۔ اور بس۔۔ زینب واقعے پہ اس سے کہیں زیادہ بھرپور احتجاج ہوا تھا۔مجرم بھی سزا پاگئے مگر اس کے بعد بچوں کے زیادتی کیسس میں بلکہ شدت آئی ہے۔۔۔

اہل بصیرت کہتے ہوتے ہیں کہ واقعے سے زیادہ محرکات پہ غور کرنا چاہئیے۔ پھوڑے پھنسی پہ دوائی لگانے سے بہتر ہے خون کے اندر خرابی کو دور کیا جائے۔۔۔ہر معاملے میں دور اندیشی اور گہرائی ضروری ہے۔۔۔ ورنہ اس قوم کی داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔۔۔

”ہے نزاع کی حالت میں یہ تہذیب جواں مرگ”

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں