خفیہ ہتھیار ۔۔۔ معاذ بن محمود

کہانی کا آغاز ۱۸ اپریل ۲۰۱۹ سے کچھ قبل ہوتا ہے جب بالائے حکومت چند اہم حلقوں کی وطن عزیز کے خفیہ ترین سائینسدانوںسے ایک میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ کا ایجنڈا چونکہ خفیہ تھا لہذا کسی کو معلوم نہیں۔ اس میٹنگ کا تذکرہ محض وزن بڑھانے کیغرض کیا گیا ہے، جیسا کہ معروف کالم نگار اور تجزیہ کار کیا کرتے ہیں۔ آپ ان کی سن لیتے ہیں تو میری بھی سن لیں۔ فارغ آپہیں ہی۔

میٹنگ کے اختتام پر ایک انتہائی خفیہ ٹیکنالوجی کی ڈیولپمنٹ پر حکومت سے مبرا طبقوں اور خفیہ سائینسدانوں کی ٹیم کا اتفاق ہوا۔سائینسدانوں نے البتہ اتفاق کے باوجود چند خدشات کا اظہار کیا جن کی تلافی کے لیے ایک ایسی شخصیت کی تلاش تھی جسے سائینساور ٹیکنالوجی اندر باہر سے ازبر ہو۔ اس میٹنگ میں کئی نام زیر غور آئے تاہم قرعہ افتخار جناب بداخلاق چوہدری کے نام نکلا۔ یوں۲۰ اگست ۲۰۱۸ سے ۱۸ اپریل ۲۰۱۹ تک وزارت اطلاعات کا قلم دان ناڑے کے طور پر استعمال کرنے والے بداخلاق چوہدریصاحب کو وزارت سائینس اینڈ ٹیکنالوجی کا سونٹا تھما دیا گیا۔ اس سے پہلے اندرونی حکومتی اختلافات کی بابت چند افواہیں بھی اڑائیگئیں تاکہ اندرون خانہ خفیہ کہانی خفیہ ہی رہے۔

مورخہ ۱۹ اپریل ۲۰۱۹ سے آج مورخہ ۲۳ اگست ۲۰۲۰ تک حکومت سے مبرا مذکورہ بالا حلقے مسلسل افواہوں کا بازار گرم کرتےرہے تاکہ عوام الناس سمیت تمام دنیا کی توجہ وطن عزیز کی ابتر سیاسی حالت اور معاشی عدم استحکام کی جانب مبذول رہے۔ اندراندر خفیہ پراجیکٹ پر انتہائی خفیہ طریقے سے کام جاری رہا۔

حکومتی جماعت کے غیر اعلانیہ ترجمان تن و مند صحافی اور فین کلبز کی اک اور میٹنگ ۲۰۱۹ میں ہوئی جب انہیں بتایا گیا کہ اے مردمجاہد جاگ ذرا اب وقت حلالہ آیا ہے۔ اس ہیڈز اپ کے بعد انہیں خصوصی ٹاسک دیا گیا کہ بداخلاق چوہدری اور مفت کے منیبکے درمیان ایک بد نسل قسم کی ٹسل تخلیق کی جائے۔ صحافیوں اور فین کلبز کے اکابرین اسی دن سے اندازہ لگا چکے تھے کہ خفیہترین ٹیکنالوجی جس کا اب تک کسی کو معلوم نہ تھا کا تعلق یقیناً کسی نہ کسی طرح مذہب سے ہے۔

اسی دوران سپہ سالار اعظم کی مدت دورانیہ اختتام پذیر ہونے کو آئی۔ اب ایک مختصر عدالتی و سیاسی جنگ کا بندوبست کیا گیا تاکہسپہ سالار مزید تین سال حکومتی مشاہرے کے حق دار رہیں۔ پرو حکومتی حلقوں کے جہاںدیدہ گھاگ یہ بات جان گئے کہ خفیہ ترینٹیکنالوجی جس کا کسی کو معلوم نہیں، ہو نہ ہو وطن عزیز کے دفاع سے متعلقہ بھی ہے۔ یہ اکابرین اس بات سے ناواقف رہے کہاس خفیہ ٹیکنالوجی کے تانے بانے شہید الآمت جناب ضیاء الحق شہید کے دور تک جاتے ہیں۔

انتہائی بےوثوق ذرائع کے مطابق ضیاء الحق کے دور میں سائینسدانوں کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس کی ذمہ داریایک ایسی ٹیکنالوجی پر کام تھا جس کے ذریعے قادیانی و غیر قادیانی افراد کی خفیہ طور پر تفریق کرنا تھا۔ یہ ضرورت یوں پیش آئی کہبھٹو دور میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد کئی قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کرتے رہتے۔ ان کی شناخت عموما گاؤں دیہاتمیں آپسی جھگڑوں کے بعد کسی ایک فریق کی جانب سے دوسرے فریق پر قادیانی مرتد زندیق کے الزام پر ہوتی۔ چونکہ اس عمل سےتاریخ کئ معتدل ترین اور غیر جانب دار ترین عدلیہ کے فیصلوں پر شک کی کاری ضرب پڑنے لگی تھی لہذا ضیاء الحق شہید نے عدلیہکی ساکھ بچانے کے لیے سائینس و ٹیکنالوجی کا سہارہ لینے کا عمدہ فیصلہ لیا۔ بےوثوق ذرائع کے مطابق سائینسدانوں نے اپنے مقصدکے حصول کی خاطر اس ٹیکنالوجی کے لیے مختون و غیر مختون عضوء مخصوصہ کی تفریق کی بنیاد پر قادیانی و غیر قادیانی کے درمیانفرق کرنے کی ٹیکنالوجی حاصل کی تاہم ڈیمو والے دن انہیں معلوم ہوا کہ رسمِ ختنہ اہل قادیان میں بھی مروجہ مسلمہ حقیقت ہے۔ذرائع کے مطابق اس رات سائینسدانوں کے آخری الفاظوڑ گئے وئیتھے۔ مخبر بے وثوق ذرائع کے مطابق عین ڈیمو والے دنشہید ضیاء الحق کا طیارہ مشرف بہ آم ہوا۔ اللہ بخشے آموں کی ان مبارک  پیٹیوں اور سائینسدانوں کے اس گروپ کا رشتہ تاحالثابت نہیں ہو پایا۔

یوں ایک عرصہ بادی النظر میں ایک ناکام مگر مستقبل کی کامیاب ترین ٹیکنالوجی گمنام پنڈی کے تاریک تہہ خانوں میں پڑی رہی تاوتیکہحکومت سے مبرا حلقوں نے اس کے استعمال کا فیصلہ نہ کیا۔ بے وثوق ذرائع کے مطابق سیاستدان اس خفیہ ترین ٹیکنالوجی کانکاح وطن عزیز کی میزائل ٹیکنالوجی کے ساتھ کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

یہ خفیہ ترین کہانی خفیہ ہی رہتی تاہم حال ہی میں یک نشستی یک فردی جماعت کے یک لمبر سیاسی لیڈر جو اندر کی باتیں باہر لانےمیں شہرت رکھتے ہیں، نے کل کسی وقت یہ خبر بریک کی کہ جنگ کی صورت میں پاکستان بھارت پر ایسے ہتھیاروں کا استعمال کرےگا جو صرف غیر مسلموں کو نقصان پہنچائیں گے۔ یوں یہ راز بوجہ قوم و ملت پر آشکار کر دیا گیا۔

بحیثیت ایک سچے پاکستانی وطن پرست مخلص مسلمان کے ہمیں امید ہے کہ سائینسی جدت کی مدد سے سائینسدان اس ٹیکنالوجی کےذریعے قادیانیوں کی شناخت کا مسئلہ بھی حل کر چکے ہوں گے تاکہ جنگ کی صورت میں بھارت کے زندیق قادیانی مسلمانوں کےروپ میں زندہ نہ رہ جائیں۔ یہ وہی مسئلہ ہے جس کے باعث یہ ٹیکنالوجی ضیاء دور میں مستعمل نہ ہو پائی تھی۔ کسی وجہ سےصورتحال ابھی بھی وہی ہے تو اس کالم کے ذریعے حکومت سے مبرا حلقوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ جلد از جلد یہ ٹیکنالوجی حاصلکی جائے تاکہ ایک بار پھر تاریخ کی ایک اور غیر جانبدار ترین عدلیہ کے آنگن میں ہونے والی قتل و غارت گری کے دھبے مٹپائیں۔

دنیاوی اور اخروی جنت کے حصول کا مختصر ترین راستہ یہی ہے۔






بشکریہ

جواب چھوڑیں