( غیر مطبوعہ ) اپنی ہم زاد کے لیے یہ مِرے روبرو …

( غیر مطبوعہ )

اپنی ہم زاد کے لیے

یہ مِرے روبرو کون ہے ؟

جسم و جان چیتھڑے کرنے والے مِری جاں

تو مِری کون ؟؟؟

تیری آہیں مری تیری چیخیں مری

تیرے زخموں کی آہٹ مِرے جسم پر

درد سہہ کے مجھے دینے والی مری جاں !!

تو مری کون ہے ؟

جبر تجھ کو ملے خوف اس کوکھ میں

ہجر تو نے پیئے زہ راس سوچ میں

ریسماں باندھ کر پنکھڑی دینے والی مری جاں

تو مری کون ہے؟؟؟

تو سحَر کی وہ بانکی ادا جس کو دن کھا گیا

وہ مرے دل کی اجڑی دعا جس کو دل ڈھا گیا

رات دن سرد لمحوں کے تیزاب میں

گلنے والی مری جاں تو مری کون ہے ؟؟

تو پگھلتی رہی

دل میں آگ جلتی رہی

حرف ڈھلتے رہے شام ہاتھوں کو ملتی رہی

رقص کرکے مجھے آبلے دینے والی مری جاں

تو مری کون ہے ؟؟

( ثروت زہرا )

— with Sarwat Zahra.

جواب چھوڑیں