::: ابھا داوسر : "ہندوستانی نژاد امریکی ناول …

::: ابھا داوسر : "ہندوستانی نژاد امریکی ناول نگار اور بصری فنکارہ ":::
***تحریر: احمد سہیل ***
ابھا داوسر {Abha Dawesar} پیدائش یکم جنوری 1974 میں دہلی، ہندوستان میں ہوئی۔ ہندوستانی نژاد ناول نگار اور انگریزی اور فرانسیسی میں لکھنے والی بصری فنکارہ ہیں۔
ابھا کے والد داوسر کے والد کا نام بھوشن اوروالدہ کا نام شکونتلا ہے۔
ان کی آواز کے جوہر اور اس کی شروعات نوعمر دور سے ہی ہوچکی تھی انھون نے براہ راست واقعات اور رودارگوئی کے اینکر کی حیثیت سے دہلی میں مضبوط انداز سے اندرا گاندھی نیشنل اسٹیڈیم میں اپنی آواز اور اظہار کی کمالات دکھائے۔ تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہندوستان سے امریکہ چلی گئیں ۔ابھا داوسرنے 1995 میں ہارورڈ یونیورسٹی نے گریجویشن کی۔
ان کے فکشن کی شناخت جنسی اور جنسی تعلقات کے موضوعات ہیں۔ ۔ داوسر کو نیویارک فاؤنڈیشن آف آرٹس فکشن فیلوشپ سے نوازا گیا تھ۔ا ۔ان کے افسانوں نے شمار ایوارڈز جیتے ، ان کے 2005 کے ناول بیبی جی نے لیمبڈا ادبی ایوارڈ برائے سملینگک افسانہ اور اسٹون وال کتاب ایوارڈ دونوں جیتا تھا۔ وہ نیو یارک شہر میں قیام پذیر ہیں۔ داوسر ہندوستانی ، برطانوی اور امریکی لہجے میں لکھتی، بولتی اور پڑھتی ہیں۔
وہ انگریزی ، فرانسیسی اور ہندی روانی سے بولتی ہیں۔ ۔ ان کی تجارتی آواز کے تجربے کے علاوہ وہ اپنے کام کے بارے میں بات کرنے کے لئے امریکہ ، ہندوستانی ، فرانسیسی اور برطانیہ کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن شوز میں اکثر حصہ لیتی ہیں۔
انھوں نے اپنے ایوارڈ یافتہ دوسرا ناول بیبی جی (2005) کے شائع ہونےسے پہلے۔ داوسر مین ہیٹن میں ایک عالمی مالیاتی خدمات کے ادارے میں ملازمت کرتی تھی۔ انھوں نے اپنا وقت لکھنے تخلیقی صلاحیتوں کو پورا قوت اور توجہ دینے کے لیے اس ملازمت کو خیر باد کہ دیا۔
ابھا داوسر نے 1995 میں ہارورڈ میں فارغ التصیل ہونے کے فورا بعد ہی فوٹو گرافی ، تصویری اور ویڈیو آرٹ کی نمائشموں کا سلسلہ شروع کیا۔ ہے۔ان کے ان کاموں کو امریکہ اور بیرون ملک مختلف کی گیلریوں اور عجائب گھروں میں دکھایا گیا ہے۔
2013 سے داؤسر ڈیجیٹل ٹکنالوجی کے میدان میں اس کے مسائل اور اس کے معاشرتی اثرات اور تجربے پر اثرات پر بات کر رہی ہیں۔ اور انھوں نے اس میاں سے پیدا ہوںے والے خطرات سے بھی آگاہ کیا۔
وہ انگریزی ، فرانسیسی اور ہندی بول سکتی ہیں۔ ۔ تجارتی آواز کے تجربے کے علاوہ وہ اپنے کام کے بارے میں بات کرنے کے لئے امریکہ ، ہندوستانی ، فرانسیسی اور برطانیہ کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن شوز میں نمودار ہوئی ہیں کچھ دن قبل معاصر ہندوستان میں نوجوانوں کے بارے میں ہندوستان کی نئی نوجوان ادبی صلاحیتوں میں سے ایک کے ساتھ گفتگوکی۔
ابھا داوسر (1974) ایک ناول نگار اور آرٹسٹ ہے۔ متعدد بین الاقوامی میگزینوں نے اسے آج سب سے زیادہ راہ چلانے والے ہندوستانیوں میں شامل کیا ہے۔ داوسر ، جو ہارورڈ سے گریجویشن ہوا ہے اور اس وقت نیو یارک سٹی میں رہتا ہے ، نے دو جوڑے لکھے ، جن کا ترجمہ دس سے زیادہ زبانوں میں کیا گیا ہے ، جن میں ڈچ بھی شامل ہے۔
داوسر کے ناول بیبی جی { Babyj،2005) سے اپنی ادبی حیثیت کو مستحکم کیا اور ایک بے بال افسانوی لہجے اور اظہار کا جرات مندانہ اور دلیر ساکھ قائم کی اس ناول میں دہلی کی ایک نوجوان سولہ سالہ لڑکی کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ جس میں وہ ایک طلاق یافتہ عورت اور نوکر کو بہکا دیتی ہے ، اپنی بہترین گرل فرینڈ کے ساتھ تعلقات کا آغاز کرتی ہے ،جسکا لڑکوں اوروالدیں کا شدید رد عمل بحِ اس ناول میں گاوی طور پر نظر آتاہے۔ اس میں خواتین کے مابین محبت اور جنسی تعلقات کی خوشی کی عکاسی کے گئی ہے۔ تاہم اس پر اس حد تک کسی کا دھیان نہیں گزرتا ،یہ وہ طریقے ہیں جن میں اس کی ہم جنس محبت کی نمائندگی طاقت ور مباحثوں سے گہری حد تک منسلک ہیں۔ ۔ مرکزی کردار کے نام سے انامیکا (جو ابتدائی جنوبی ایشیائی سملینگک تنظیم کا نام بھی ہے) ، اس کو پہلی خاتون ہم جنس { لزبن} ہندوستانی عاشق کے لقب سے جانا ناتا ہے۔ ناول نگار کی نچلی ذات سےہمدردری اور عاشق بہت گہرا ہے۔ ، رانی (ملکہ) جو اس کہانی اک ایک کراد ہے، ناول تعلقات کے ایسے تانے بانے/ نیٹ ورکس کا نقشہ بناتا ہے جو ہندو مذہب ، طبقاتی درجہ بندی ، ذات پات کی تقسیم اور حقیقت پر مبنی ہے۔ جو ان کی نگاہ میں ہندوستانی قومی ریاست سے ملحقہ حق کی حکومتوں کو بیک وقت چیلنج اور تقویت بخش ہیں۔ جنسی اور رومانٹک رشتہ کے "بیبی جی" نے 2006 میں امریکن لائبریری ایسوسی ایشن کا اسٹون وال کتاب ایوارڈ اور لیمبڈا لٹریری ایوارڈ جیتا۔
ان کے ناول "پیرس میں اس موسم گرما " {That summer in Paris}(2006) کو بھی بڑے پیمانے پر سراہا گیا تھا۔ اس میں پچپن کے ہندوستانی مصنف کی کہانی سنائی گئی ہے ، جو ایک نوجوان مداح اور ناول نگارسے کمپوٹر پر دوستی استوار کرتا ہے۔ اس نے اس خوب صورت عورت کے ساتھ پیرس جانے کا فیصلہ کیا ، جہاں اسے اموات ، محبت اور فن کا سامنا کرنا پڑا۔…ایک ناول مایا نامی گریڈ کے طالب علم اور نوبل انعام یافتہ مصنف پریم روسین کے درمیان مئی دسمبر کے رومانس کی تلاش کرتا ہے ، جو پچاسی سال کی ہے۔ یہ دونوں انٹرنیٹ چیٹ روم پر ملتے ہیں اور جلد ہی پیرس میں اپنے آپ کو مل جاتے ہیں ، جہاں محبت ایک ماضی کے ناخوشگوار تعلقات کے ساتھ کام کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ڈیبورا ڈونووان نے بک لسٹ میں لکھتے ہوئے یہ تبصرہ کیا کہ مصنف "محبت کی اشتعال انگیز کہانی اور اس کے لیے ادب کو پیش کرتا ہے۔" تفریحی ہفت روزہ معاون جینیفر ریز نے لکھا ہے کہ "یہاں بہت سارے تیز دانشور اور اس کے پیچھے موجود ہیں جو اس غیر متوقع رومانوی اور داوسر کے اس ناول کودلچسپ انداز میں چلاتے ہیں۔"
ابھا داوسر کا ناول خاندانی اقدار{Family values (2009) بڑا دلچسپ ہے اس میں انھوں نے ہندوستان واپس آئے۔ ایک چھوٹے لڑکے کی آنکھوں سے دیکھے جانے والے دہلی کے گھرانے کی اس کہانی کون لکھا ہے جس میں انسان کے تمام متوقع جذبات کردارون کی صورت میں دیکھے جاسکتے ہیں: دادا کا مطلب ، چچا کا لالچ ، خالہ کی مایوسی وغیرہ۔ لیکن ان سب کے درمیاں فضل ، محبت ، سخاوت، ایثار اور احترام بھی ہے۔ یہ ایک ہندوستانی کنبے کی خوب صورت کہانی ہے۔ اس میں انسانی تعلقات کی پیچدہ اور جدید بھارتی معاشرے کا کرب اور لاچاری کی بھی نمایاں ہے۔
ان کا ناول ، سینسوریم { Sensorium}، فرانس میں شائع ہوچکا ہے اس کے بعد یہ ناول 2013 کے وسط میں امریکہ میں بھی چھپ گیا۔ لیکن اب پہلے سے زیادہ ابھا داوسر کو اپنی نسل کی مستند آواز سمجھا جاتا ہے۔ نیو یارک کے ہفتہ وار میگزین ٹائم آؤٹ {Time Out} نے انہیں 25 افراد میں شامل کیا جو اس میدان میں اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔ ۔ بھارت کے معروف ہفتہ وار میگزین انڈیا ٹوڈے {India Today}نے داوسر کا نام 25 ان ہندوستانیوں میں شامل کیا ہے۔ جو اس میدان کے شاہ سوارہیں۔ ۔ فیمینا میگزین { Femina magazine.}نے انھیں ہندوستان کی 12 قابل ذکر خواتین میں سے ایک بھی کہا ہے۔ابھا داوسر نے دو اور ناول بھی لکھے ہیں۔ اس کے حالیہ ناول بیبی جی نے 2006 کے امریکن لائبریری ایسوسی ایشن کا اسٹون وال کتاب ایوارڈ جیتا تھا۔ وہ ایک NYFA فکشن فیلوشپ کی فاتح بھی قرار پائی ہیں ۔
ابھا داؤسر کے دوسرے ناول ، منیپلنر (2000) اور وہ سمر ان پیرس (2006) میں بھی عام ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں ہم جنس کی کشش کو ظاہر کرنے والی اکثر داستانوں اور واقعات کو بیان کیا ہے۔۔
ابھا داؤسر انگریزی ارر فرانسیسی فکشن کا اہم نام اور اضافہ ہے۔ برصغیر میں ان کے افسانوی فن اور بصری کارناموں کو کم ہی جانا جانا ہے۔ ابھی تک اردو پر کسی کی نظران کے تخلیقی فن پر نہِیں پڑی ہے۔
  • رابطہ *
Email: abha.dawesar@gmail.com
Website: www.abhadawesar.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
{احمد سہیل}


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2877402292490285

جواب چھوڑیں