ٹام کے کارنامے دوسری قسط Adventures of Tom Sawye…

ٹام کے کارنامے
دوسری قسط
Adventures of Tom Sawyer
Mark Twain

رات وہ دیر سے گھر پہنچا آنٹی پولی دروازے کے سامنے صوفے پر سورہی تھی۔ٹام کو معلوم تھا کہ وہ اس کا انتظار کررہی ہیں۔اس لیے اس نےکھڑکی کھول کر احتیاط سے کمرے میں قدم رکھا۔ کپڑے بدل کر وہ بستر پر لیٹ گیا۔ ٹام بہت اچھا بچہ نہیں تھا۔ نہ ہی وہ دوسروں کےلیے مثالی تھا۔ یہ بات نہیں تھی کہ ٹام کو اچھےبچوں کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ وہ اچھی طرح جاتا تھا کہ اچھے بچے کیسے ہوتے ہیں۔ ہفتے کی صبح بہت خوشگوار تھی۔موسم بہار میں پھول کھل رہے تھے۔ ہر ایک دل میں خوشیوں کے ترانے بج رہے تھے۔ہر ایک چہرہ شادماں نظر آرہا تھا۔لیکن اسے معلوم تھا کہ کل آنٹی پولی اس سے سخت کام لیں گی۔
ٹام ایک بالٹی میں رنگ لیے ہوئے ہوئے نظر آیا یا اس کے دوسرے ہاتھ میں ایک بڑا برش تھا۔ اس نے دور تک پھیلی ہوئی لکڑی کی باڑ پر نگاہ دوڑائی۔ خاصی لمبی باڑھ تھی۔ تیس گز لمبی اور نو فٹ اونچی باڑ جس پر ٹام کو رنگ کرنا تھا۔ اس کام کو دیکھتے ہی ٹام کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔زندگی اتنی مشکل ہے۔ آنٹی پولی نے اسے مصروف رکھنے کے لئے ایک لمبا کام دے دیا تھا ۔ ٹام نے رنگ میں برش گھمایااور باڑھ پر رنگ کرنا شروع کیا۔رنگ کرتے ہوئے وہ اپنے دوسرے دوستوں کے بارے میں سوچ رہا تھا جو سنڈے کی چھٹی سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے۔ اس نے دور تک پھیلی ہوئی باڑ پر نظر دوڑائی۔اف اتنا کام ٹام ایک دم مایوسی میں ڈوب گیا۔اور ایک باکس پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر میں اسے جم نظر آیا جو گیٹ پر کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں پانی کا ڈول تھا۔ پمپ سے پانی بھرنا اسے بہت ہی ناپسندیدہ تھا۔ لیکن اب وہ سوچ رہا تھا کہ یہ کام کرنا مزیدار ہے۔ وہاں سب لڑکے لڑکیاں جمع ہوتے ہیں۔ باتیں ہوتی ہیں۔ لڑائی اور جھگڑے موج مستی۔ اب اسےپمپ سے پانی لے کر آنا اچھا لگ رہا تھا۔ اس کے ذہن میں فوراً ایک آئیڈیا آ یا اس نے جم کو آواز دی۔جم میں تمہارے حصے کا پانی بھر سکتا ہوں۔ اگر تم باڑھ پر رنگ کرنے کا کام کرو ۔ سچ مچ یہ بڑا مزے دار کام ہے۔ لیکن کوئی عام آدمی یہ کام نہیں کر سکتا ۔ یہ کام صرف خاص لوگ کرسکتے ہیں۔ لیکن میں تمھیں اس کا موقع دے سکتا ہوں۔ لیکن کیا آنٹی پولی اس پر اعتراض نہیں کریں گی۔ جم نے ہچکچاتے ہوئے نیم رضامندی سے کہا۔ارے تم آنٹی پولی کی فکر چھوڑو ۔جم اگر تم یہ کام کرو گے تو میں تمہیں وہ خوبصورت چھوٹی چھوٹی شیشے کی گولیاں دوں گا۔ ٹام نے اسے مزید لالچ دیا۔ جم نے حسرت سے سے ان شیشے کی خوبصورت گولیوں کو دیکھا۔ اس کا دل اکثر ان گولیوں سے کھیلنے کو چاہتا تھا۔ جو ٹام کے پاس تھیں۔ وہ کمزور پڑتا ہوا ان گولیوں کی طرف بڑھا۔ پھر اچانک اس کی نظر آنٹی پولی کی جانب پڑی جو ہاتھ میں ۔جوتی اٹھائے ہوئے ٹام کے کام کی نگرانی کررہی تھیں۔ جم اگلے لمحے پانی کا ڈول اٹھائے خود گیا۔ ٹام برش ہاتھ میں لیے رنگ میں مصروف نظر ایا تو آنٹی پولی بھی مطمئن ہوکر گھر میں چلی گئی۔
لیکن ٹام بھی کہاں ہمت ہارنے والا تھا۔ وہ آج کے دن کی اس تفریح کے بارے میں سوچنے لگا۔جس کی اس نے منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ بہت جلد اس کے دوست گلیوں سے نکل آئیں گے اور پھر وہ اس کا مذاق اڑائیں گے کہ وہ کام کر رہا ہے ہے جبکہ وہ سب مزے سے سے کھیل کود میں مصروف ہوں گے۔ یہ سوچ کر ٹام کے آگ لگ گئی لیکن ایسے ہی تاریک لمحات میں اس کے دل میں ایک نئےخیال نے جنم لیا .

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2777311985832650

جواب چھوڑیں