مصنف : ہر برٹو پاڈیلا مترجم: جاوید شاہیں انتخا…

مصنف : ہر برٹو پاڈیلا
مترجم: جاوید شاہیں
انتخاب و ٹائپنگ: Shams Ullah Khan

۔۔۔#جلاوطنی۔۔۔۔
ماں،ہر چیز بدل گئی ہے۔
#خزاں اب غارت گر بن گئی ہے۔
جنگل میں درختوں کو گرادیتی ہے۔
اب ہمیں بارش سے یا رات سے۔
کہیں پناہ نہیں ملتی۔
اس سال سب کچھ بدل گیا ہے۔
گرم ہوا میری اور تیری۔
ہم سب کی آنکھیں جلا رہی ہے۔
اندھیرے کمرے سے بھاگنے والے۔
جس بچے کے قدموں کی آواز تم سنتی رہتی تھی۔
اب اس نے #ہنسنا بند کر دیا ہے۔
اس سال پر چیز بدل گئی ہے۔
دروازہ کھول دو۔
الماریاں کھول دو۔
اور میرا بچپن جو دور کہیں دُھند میں لپٹا ہوا ہے۔
اُسے کُھل کر اپنا آپ ظاہر کرنے اور مرنے دو۔
تاکہ تم سردمہری سے بندھے میرے ہاتھ نہ دیکھ سکو۔
نہ ہی دنیا کے اس دور افتادہ علاقے میں۔
میرے قدموں کی آواز سن سکو۔
نہ ہی اس خالی گھر کو ڈھونڈ سکو۔
جہاں کوئی نہیں آتا۔
پتا تک کھڑکنے کی آواز نہیں آتی۔
جہاں کل کا بچہ۔
تہنائی کی دیرینہ خواہئش میں مبتلا۔
ابھی تک اس کی #تلاش میں ہے!

مختصر تعارف:
ہر برٹو پاڈیلا 1932 میں کیوبا میں پیدا ہوا۔اس کی جلاوطنی کی زندگی کا آغاز سترہ برس کی عمر میں۔
ہوگیا جس کا بڑا حصہ اس نے امریکہ اور برطانیہ میں۔
بسر کیا۔جب کاسترو کی طویل جدوجہد کے بعد کیوبا۔
آذاد ہوا تو پاڈیلا واپس کیوبا اہا گیا۔اسے سرکاری اخبار۔
#انقلاب کا ایڈیٹر مقرر کردیا گیا۔بعد میں اسے ایک۔
خبر رساں ادارے کا سربراہ بنادیا گیا ۔
بدقسمتی سے پاڈیلا اور کاسترو حکومت کے درمیان۔
غلط فہمیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔1971ء۔
میں اسے اور اس کی بیوی کو ایک فرانسیسی پینٹر کے۔
ہمراہ گرفتار کرلیا گیا۔پینٹر سے بعض ایسے خطوط برآمد۔
ہوئے جو پاڈیلا نے اپنے غیر ملکی احباب کو لکھے تھے اور۔
جن میں کاسترو حکومت پر بے باک تبصرہ کیا گیا تھا۔
ایک ماہ بعد اسے چپ رہنے کی شرط پر چھوڑ دیا گیا۔
اسے ایک معافی نامے پر دستخط بھی کرنے پڑے۔
پھر اسے اس کی بیوی کے ہمراہ ایک گاوں میں بھیج۔
دیا گیا جہاں اس سے #مترجم کا کام لیا جاتا تھا!


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2876098579287323

جواب چھوڑیں