روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند



لیتا ہوں مکتب ِ غم ِدل سے سبق ہنوز
لیکن یہی کہ ’رفت‘ گیا ، اور ’بود‘ تھا
۔۔۔۔۔
ستیہ پال آنند
لیتے ہیں ـ’’مکتب غم ِ دل‘‘ سے، حضور ، آپ
کیا کیا سبق جو نکبت و ادبار دے گئے
پر کچھ تو سود مند بھی ہوں گے، ستودہ کار؟

مرزا غالب
میں نے تو ’’مکتب ِ غم ِدل‘‘ ہی کہا ہے یاں
اس سے مراد کرب و عنا، ابتلاء  ہی تھی
لیکن یہ غیرمنفعت ورزش ہے ذہن کی
جائز ہے اس لیے کہ اسے ’’رفت‘‘، ’’تھا‘‘ کہوں ـ

ستیہ پال آنند
گویا کہ حال ہے فقط نا معتبر زماں؟

مرزا غالب
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ، مرے عزیز
ہے حال خود میں زندہ و تابندہ، پر ضرور
ما قبل سے ہے سابقہ، پیشینہ سے کلام
’فی الحال‘ سے تعلق ِ خاطرضرور ہے
وہ ’غیر حال‘ بھی تو ہے مدِ نظرکہ تھا
دیروز کا کمال، گئے کل کی آب و تاب

ستیہ پال آنند
مجھ پہ عیاں نہ تھی یہ حقیقت، جناب ِ من
ماضی اجل رسیدہ نہیں، زندہ ہے ابھی
ماضی تو ایک سائے سا چلتا ہے ساتھ ساتھ
گزرا ہوا شباب، گئی رُت کا پھل نہیں

مرزا غالب
تم نے ابھی گذاری نہیں ہے وہ زندگی
شاید کسی کا حسن ِ ِ سیہ مست ۔۔افعی
دُرد ِ تہہ ِ پیالہ و ساغر کی سر خوشی
دو آتشہ چھلکتی ہوئی مے کی شوخیاں
وہ ڈومنی کا حسن، سیہ فام ، زہر ِ عشق
وہ گنجفہ، وہ یار ، وہ شعر و سخن ۔تمام
اب ماضی قدیم ہیں ، مذکورۃ البعید!
’’لیتا ہوں مکتب ِ غم ِ دل سے سبق ہنوز‘‘
اور پھر سنبھال رکھتا ہوں نسیاں کے طاق پر

ستیہ پال آنند
پھر تو حضور آپ کا فرمان ہے درست
لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا





بشکریہ

جواب چھوڑیں