رجس ۔۔ مختار پارس | مکالمہ


کیا کبھی کسی کو نواۓ مرغِ سحری پر کان دھر کر ماں کی یاد آئی ہے؟ عالمِ طفلی میں مکتب کی طرف روانہ کرنے کےلیے بستر سے بیدار کرنے کی کوشش میں ماں کے سر پر پھیرے گئے  ہاتھ کہاں بھولتے ہیں۔ فطرت ماں نہ ہوتی تو عالمِ سنگ و خشت میں صبحیں یوں سکون سے نہ ہوا کرتیں۔ ایک صبح کو رونما ہونے کےلیے ساری رات اندھیروں سے لڑنا پڑتا ہے۔مافوق، جوق در جوق دیواریں پھلانگ کر طلوعِ سحر کے بستر کے گرد تلواریں سونت کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حملہ آور جب بستر پر سوۓ ہوۓ کے سر سے چادر کھینچتے ہیں تو وہ محمدؐ نہیں علیؑ ہوتا ہے۔ صبحِ صادق کی طرف روانہ ہونے والے وقت کو نہیں روکا جا سکتا۔ وہ وہاں سے منزلِ مقصود کی طرف جا چکا ہوتا ہے مگر عالمِ جبر و استبداد کا یہ عالم ہے کہ صبح ہو جاتی تو پھر بھی آدھی دنیا پر اندھیرے ابھی باقی رہتے ہیں۔ جہاں اندھیرے رہتے ہیں، وہاں مائیں بچوں کے سرہانے بیٹھ کر ان کی حفاظت کرتی ہیں۔ جب اور جہاں پو پھٹنے والی ہوتی ہے،مائیں بالوں میں انگلیاں پھیر کر اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اٹھاتی ہیں کہ پورب کا دروازہ کھل گیا ہے، اٹھو اور جا کر نویدِ سحر لانے والے کی گواہی دو؛ اٹھو کھانا کھا لو کہ پھر شعب ابی طالب بلا رہی ہے۔ اٹھو کہ تمہیں آنے والی رات میں اس بستر پر سونا ہے جہاں قتل کی نیت سے آنے والوں کو تمہیں ان کی امانتیں واپس کرنا ہیں۔

پھر وہ وقت در آتا ہے جب وحشت، انکار کا دامن پکڑ کر پیچھے ہٹ جاتی ہے اور خیبر کے دروازے اندر سے بند کرکے منتظرِ تاراج رہتی ہے۔ آدھی دنیا کے اندھیرے کبھی ہار نہیں مانتے۔ ان کو شکست دینا ضروری نہیں؛ انہیں شکستِ فاش دینا ضروری ہے کیونکہ وہ سجدوں میں بھی سر جھکانے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ استعمار ہر صبح کے بعد ایک نۓ طریقے سے سر اٹھاتا ہے۔ فتح کے وقت ان کے گھروں کو دارالامن قرار دینا ضروری ہے تاکہ شکست ان پر مسلط ہو۔ شکستِ فاش ان کے نصیب میں تب آۓ گی جب وہ اپنے محسنوں کو سر آنکھوں پر بٹھانے کےلیے بلائیں گے اور پھرتلوار اٹھا لیں گے۔ آدھی دنیا کو یہ غم بیٹھنے نہیں دیتا کہ روشنی میں رہنے والوں کے سر اونچے کیوں نظر آتے ہیں۔ وہ اس منطق کو سمجھنے کےلیے انہیں قریب بلاتے ہیں اور پھر پریشان ہو کر ان کے سر قلم کر ڈالتے ہیں۔ ان بدنصیبوں کو یہ خبر نہیں کہ سر تو نیزوں پر چڑھ کر اور بلند ہوجاتے ہیں۔

محبت اس سے ہو جاتی ہے جس کے دکھ کا اندازہ ہو؛ ہر وہ چیز جو اس مقدس محبت سے روکے، وہ رجس ہے۔ باپ سجدے میں ہو اور گھر میں بیٹی آ جاۓ تو باپ کا دل کرتا ہے کہ نماز توڑ کر بیٹی کو گلے سے لگا لے۔ شاید وہ جانتا ہے کہ جب باپ چلا جاۓ گا تو لوگ اس دخترِ آئینہ نما کا گھر جلانے آئیں گے۔ وہ اٹھ کر اس کا استقبال کرتا ہے کہ اسے خبر ہے کہ مرقدِ قریبِ رگِ جاں پھر قریب نہ ہو گا۔ مہربان سایے اٹھ جائیں تو ٹھکانے دور کر دیے جاتے ہیں، راستے بند کر دیے جاتے ہیں تاکہ مظلوم کی آہ و بکا بھی ظالم کو سنائی نہ دے۔ ہر وہ ابتلا جو آنسو بھی نہ بہانے دے، رجس ہے۔ یہ تو اتنتہاۓ الفت کی ابتدا تھی جو خدا کے حضور سجدہ ریزی سے سر نہیں اٹھانے دیتی تھی کہ کمر پر حسینؑ تھا۔ لختِ جگر کی محبت آدابِ عبادت سے زیادہ محترم ٹھہری۔ تربیتِ شہسوارانِ فکر و نظر آسان تو نہیں تھی۔ مگر سجدوں کی داغ بیل ڈالنے والوں کی مسجدیں بےآباد کرنے کی روایت ڈال دی گئی۔ہر وہ حکم جو مسجد کی طرف جانے سے مانع کرتا ہے، رجس ہے۔ اب اندازہ ہوا کہ آقاؐ نے اس بچے کے ہونٹوں کو کیوں چوما تھا۔۔۔ انہیں احساس تھا کہ قاتل نے اس سر کو تن سے جدا کرکے چھڑی سے ان ہونٹوں کو چھیڑنا ہے۔ جو آنکھ اس منظر کو دیکھ کر رو نہیں سکتی، وہ بھی رجس ہے۔
کہانی ختم ہونے والی ہو تو داستان گو کا لہجہ گھمبیر ہو جاتا ہے۔ اسے کہانی کے کرداروں کو باور کرانا ہوتا ہے کہ مرکزِ نگاہ کیا سوچ رہی ہے۔ آخری نبیؐ کے ذمہ بھی تو کچھ کام لگے تھے۔ اس نے پہاڑی پر کھڑے ہو کر بہت سنجیدگی سے بتایا کہ کہانی ختم ہو رہی ہے؛ تصویرِ بتاں کا دور لد چکا کہ یہ ایک خداۓ یکتا کی حکومت ہمیشہ سے تھی اور اب بھی ہے۔ اس کے ماننے والوں نے اس کی ایک نہ سنی اور لات و منات کو اپنی جیبوں میں چھپاۓ پھرتے رہے۔ اس نے کہا کہ تمہارے اندر ایک ہی رنگ کا خون دوڑتا ہے بیشک مسل کر دیکھ لو؛ مگر آخری پیغام کو سننے والوں نے نفرت اور مرتبے کی تفریق جاری رکھی۔ اس نے باور کرایا کہ رازِ عظمتِ حیات، کاسِب کے پسینے میں خوشبو کی طرح رچی ہے مگر حیرت ہے کہ تقلید کرنے والوں نے تن آسانی نہیں چھوڑی۔ پھر اس نے کہا کہ ظالم اور مظلوم کو اکیلے نہیں چھوڑنا کہ ظلم کی رات کو مٹانا ہے اور حق کے سورج کو طلوع کرنا ہے۔ وارث تو وہ ہوتا ہے جو بات کو پلے سے باندھ لے؛ جس نے یہ بات سمجھ لی وہ حسین ہو گیا؛ جو یہ بات سمجھ کر ظالم کے سامنے کھڑا ہو گیا، وہ کربلا میں داخل ہو گیا۔ کاش ماننے والے توحید، تفریق اور تقلید کے کربلا میں حسین کی طرح ڈٹے رہتے تو انسانیت آج یوں شرمسار نہ ہوتی۔

کربلا مفقود نہیں ہوا۔ ۔یہ چل رہا ہے اور مسلسل منعقد ہو رہا ہے۔ کبھی یہاں کبھی وہاں۔ کچھ داستانیں خوابوں کی تعبیر کو ثابت کرنے کےلیے لکھی جاتی ہیں۔ بنتِ ابی مطلب کے ہاتھوں کے لمس سے شروع ہونے والی داستان ابھی زندہ ہے۔ بنتِ اسد اپنے بچے کے بالوں میں انگلیاں پھیر کر کہہ رہی ہے کہ تین دنوں سے تم نے آنکھیں نہیں کھولیں، اٹھو کہ مکتب میں جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ بنتِ محمد حیرت زدہ ہےکہ نبی کے خاندان کے ساتھ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟مقتل بھی ششدر رہ گیا کہ یہ کیا ہو گیا۔زندگی کے سارےآثار و مراسم اسی غم میں ڈوب گۓ۔ موت تو کوئی دکھ ہی نہ رہا۔ پیاسے سیراب کر گۓ، معصوم حیران کر گۓ۔ اس کیفیت میں وہ مقتل بھی پگھل کر ساری کائنات میں پھیل گیا۔ آج ہم میں سے ہر شخص افق کے اس کنارے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف ہر بلا ہے اور دوسری طرف کربلا ہے۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں