روز عاشور 10 محرم الحرام ۔ حسینیت کیا ہے؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

واقعہ کربلا اور شہادتِ مولا حسینؑ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک لکیر ہے جو اس دن حق اور باطل میں کھینچی گئی۔ اس دن نے دو (2) School of Thoughts کو الگ الگ کر دیا۔ ایک طرف حسینیت اور دوسری طرف یزیدیت۔

یزیدیت ظلم کا نام ہے، دھوکے کا نام ہے، لوٹ مار کا نام ہے ،ناانصافی کا نام ہے،قتل وغارت کا نام ہے، دولت ، اقتدار اور طاقت کی ہوس کا نام ہے
جبکہ
حسینیت مظلومیت، سچائی، ایمانداری، عدل ، ایثار، حق اور صبر کا نام ہے-

اُس دن نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ حسینیت کا راستہ آسان نہیں۔ اس راستے پر مشکلات ہیں اور یہاں قربانیاں بھی دینا پڑتی ہیں، مگر حقیقی کامیابی کا یہی راستہ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس میں ہار کر بھی جیت ہوتی ہے۔ دوسری جانب یزیدیت میں ظاہری کامیابی اور چمک دمک تو ہو سکتی ہے مگر اس جیت میں بھی خسارہ ہے، ذلت اور رسوائی ہے۔

عشرہ محرم الحرام کے دوران اس واقعہ کو یاد کرلینے سے، اس پر افسوس کا اظہار کرلینے سے، اس ظلم کی داستان پر چند اشعار پڑھ دینے سے حسینیت پر عمل کرنے کی اصل روح ادا نہیں ہوتی اور نہ ہی مولا حسینؑ سے محبت و مؤدت کا اظہار ہوتا ہے۔ اصل حسینی وہی ہوتا ہے جو کسی بھی دنیاوی طاقت، دولت، شہرت اور اقتدار کی حرص کے لئے کسی بھی ظلم اور بے ایمانی کا راستہ نہ اپنائے۔ مولا امام حسینؑ سے حقیقی لگاؤ کا مطلب ہے یزیدیت کا انکار۔ حسینیت کا حقیقی اقرار حق کے ساتھ کھڑے رہنا ، باطل کا انکار کرنا ، مظلومیت کا ساتھ دینا اور ظلم سے نفرت کرنا ہے۔ میرے دوستو، دعا کیا کرو کہ اے خالق مجھے توفیق عطا فرما کہ غاصبان اہلبیت علیہم السلام پر لعنت کرنے سے قبل میرا کردار ایسا ہو کہ میں نے خود کسی کا حق غصب نہ کیا ہو۔ سہم امامؑ اور سہم سادات ادا کر دیا ہو۔ واجبات ادا کرتے ہوں، تب ہی ہم اصلی حسینی کہلا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ مولا امام حسینؑ چند افراد پر مشتمل قافلہ، رضائے الٰہی کو دل میں بٹھائے؛ احکام الٰہی کے پرچارکے لئے؛بغیر کسی خوف کے؛ حق کی بات کرتے ہوئے لاکھوں کے یزیدی لشکر کے آگے ڈٹ گئے اور پھر جو مشکلات پیش آئیں انہیں صبر سے برداشت کیا ۔ ان کے قدم ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں ڈگمگائے۔اُس وقت بھی وہ حق سے پیچھے نہیں ہٹے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جب اپنے 6 مہینے کے معصوم بچے شہزادہ علی اصغر ؑ کی گردن سے خون کافوارانکلتے دیکھا ۔ مولا حسینؑ اور یزید کے بارے میں تقابل کرتے ہوئے ایک شاعر نے کیا خوب لکھا ہے کہ:۔

؎یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے.
حسینؑ اس میں خطِ کربلا بناتا ہے.

یزید موسمِ عصیاں کا لاعلاج مرض.
حسین ؑ خاک سے خاکِ شفا بناتا ہے.

یزید کاخِ کثافت کی ڈولتی بنیاد.
حسین ؑ حُسن کی حیرت سرا بناتا ہے.

یزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گُم.
حسین ؑ سر پہ بہن کے رِدا بناتا ہے.

یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھر.
حسین ؑ شام سے پہلے دِیا بناتا ہے.

یزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سے.
حسین ؑ خود نہیں بنتا خدا بناتا ہے.

مولا حسینؑ نے بھی حق کا استعارہ بننے کے لئے بہت قربانیاں پیش کیں۔ مومنین کرام، ابھی پچھلے دنوں پنجاب کے علاقہ حویلی لکھا کی وکیل خاتون جو 8/10 دن پہلے اغواء ہوئیں تھیں، ضلع میلسی سے اس حالت میں ملی ہیں کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، خوفزدہ اتنی کہ صحیح طرح سے الفاظ بھی ادا نہیں ہورہے تھے، سر ننگا تھا اور کانپ رہی تھیں، مردوں کی بھیڑ تھی، کسی نے کہا دوپٹہ دے دو سب مردوں نے فوراً کہا کسی کے پاس کوئی کپڑا ہے تو دے دو، کوئی عورت موجود ہے تو چادر دو، ایک کپڑا ملا اور وکیل خاتون کے سر پہ اوڑھا دیا۔ بہت اچھا کیا، عورت کی تعظیم ایسے ہی کی جاتی ہے۔ ہم وہاں موجود ہوتے تو ایسا ہی کرتے۔
مگر
میرے دوستو، نبی زادیوں کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا۔ ہم سے لوگ پوچھتے ہیں کہ روتے کیوں ہو؟ یہ ماتم کس لئے؟ ہم روتے اس لئے ہیں کہ حویلی لکھا کی ایک عام عورت کا سر ننگا ہوا سب نے فوری چادر اوڑھا دی، چند منٹ بھی غیر مردوں میں ایک عورت ننگے سر نہ کھڑی ہوسکی، ذرا ملکِ شام کے بازار میں نظر ڈالیں اور دیکھیں وہ ہستیاں جن کی پاکیزگی و طہارت کی خبر خدا نے قرآن میں دی، جن کے نانا نے کلمہ پڑھایا، جن کے بابا نے زمانے کو توحید پرستی سکھائی، جن کی ماں نے حجاب سکھایا، انہی کی بیٹیوں کو مسلمان برہنہ سر، ہاتھوں میں رسیاں باندھ کر گلی گلی شہر شہر پھراتے رہے، کسی نے نہیں کہا دشمن کی بیٹی ہی سہی کم سے کم ان کو چادریں ہی دے دو، ڈھول باجے شادیانے بجائے گئے، پتھر برسائے گئے،

آپ کہتے ہو کہ روتے کیوں ہو؟ ہم کہتے ہیں ہم زندہ کیوں ہیں؟۔
مولانا طارق جمیل کہتے ہیں کہ رونا سنت ہے۔
ہر چیز کو بدعت بدعت نہ کہا کریں ۔
حسین علیہ السلام کے لئے یہ دنیا تا قیامت روتی رہے گی۔

کیوں روتی رہے گی ؟۔ اس لئے روئے گہ کہ خاندان رسول پاکؐ پر ظالم حکومتی جبر سے وہ غربت آئی کہ نبی پاکؐ کی ساری محنت اُن کے دنیا سے ظاہری طور پر چلے جانے کے بعد کربلا جیسے جاں گداز سانحہ پر متنج ہوئی۔ مولا امام حسینؑ پر اعتراض کرنے والو، غربت کسے کہتے ہیں، آؤ اس کا اندازہ تمہیں پاک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانہ سے کروائیں ۔۔۔۔۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جنازے میں 7 لوگ تھے
پاک بی بی سیدہ سلام اللہ علیہا کے جنازہ میں 9 لوگ تھے
مولا علی مشکل کشاء علیہ السلام کے جنازے میں 4 لوگ تھے
مگر
مولا امام حسن علیہ السلام کے جنازے پر تیر برسانے والے درجنوں تھے
اور
مولا حسین علیہ السلام کا تو جنازہ پڑھنے والا بھی کوئی نہ تھا ۔۔۔۔

ابھی بھی تم کہتے ہو کہ ہم روتے کیوں ہیں؟۔ ہائے خاندان زیرا سلام اللہ علیہا ۔۔ تیری غربت ۔

عاشور کے دن عصر کے وقت امام حسینؑ کے حامیوں میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا، “حبیب”، “زہیر”؛ اور “حر” سمیت تمام اصحاب و انصار شہید ہوچکے ہیں اور “اکبر”، “قاسم”، “جعفر” اور دیگر جوانان بنی ہاشم – حتی کہ 6 مہینے کا علی اصغر ؑ بھی اپنی جانیں اسلام پر نچھاور کر چکے ہیں، اور عباس، علمدار حسینؑ ، ساقی لبِ تشنگان، بے سر و بے دست ہو کر خیام اہل بیتؑ سے دوربازو کٹوا کر شہید ہوچکے ہیں۔

مولا حسینؑ نے دائیں بائیں نظر دوڑائی، اس وسیع و عریض دشت میں، مگر آپؑ کو کوئی بھی نظر نہیں آیا۔ کوئی بھی نہ تھا جو امامؑ کی حفاظت اور حرم رسول اللہ کے دفاع کے لئے جانبازی کرتا… جو تھے وہ اپنا فرض ادا کرچکے تھے… چنانچہ امامؑ خیام میں تشریف لائے، جانے کے لئے آئے تھے… بیبیوں سے وداع کا وقت آن پہنچا تھا… عجیب دلگداز منظر تھا، خواتین اور بچیوں نے مولا کے گرد حلقہ سا تشکیل دیا تھا… ہر کوئی کچھ کہنا چاہتا تھا مگر کیسے بولے… کیا بولے…؟ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔

بیٹیاں زیادہ آسانی سے بول لیتی ہیں چنانچہ “سکینہ” آگے بڑھیں اور عرض کیا: “باباجان! کیا آپ نے موت کو قبول کیا اور دل رحیل کے سپرد کردیا؟” امام نے فرمایا: کیونکر موت قبول نہ کرے وہ آدمی جس کا نہ کوئی دوست ہے نہ کوئی حامی؟”۔ گریہ وبکاء کی صدا اٹھی… مگر امام رلانے کے لئے نہیں آئے تھے وقت کم تھا اور ایک بڑی امانت آپ کی پاس تھی جس كو اس کے اہل کے سپرد کرنا تھا… وصیت بھی کرنی تھی… چنانچہ امام نے سب کو وصیتیں کیں اور امامت کے ودائع و امانات اور انبیاء کی مواریث امام علی ابن الحسین علیہ السلام کے سپرد کردیں… ثانی زہراء سے کہا: نماز تہجد میں مجھے یاد رکھنا… یہ بھی امام کی ایک وصیت تھی… اور ہم جانتے ہیں کہ غل و زنجیر اور قید و بند کے با وجود ثانی زہراء نے کربلا سے شام تک “تہجد ترک نہ کیا”… یہ لوگ نماز کو زندہ رکھنے کے لئے ہی توآئے تھے کربلا میں اور نماز کی برپائی ہی کے لئے تو اسیری قبول کی تھی…

امام علیہ السلام روز عاشور مشیت الہی سے بیمار تھے شدت سے علیل تھے…ایک دو روز کے لئے… اس لئے کہ جہاد بیماروں پر فرض نہیں ہے اور اس لئے کہ امامت کا سلسلہ جاری رہنا ہے… امام حسین علیہ السلام نے ودائع امامت اور مواریث انبیاء امام سجاد علیہ السلام کے سپرد کرکے اطمینان خاطر کے ساتھ حرم رسول اللہؐ سے وداع کیا…

سیدالشہداء علیہ السلام تنہا تھے، تشنہ لب تھے، بھائیوں، بیٹوں، بھتیجوں، بھانجوں، رشتہ داروں، اصحاب اور انصار کے لاشے اٹھاچکے تھے عباس و اکبر کی جدائی کا غم سہہ چکے تھے مگر یہاں ان ہزاروں دشمنوں کے خلاف علی وار وارد کارزار ہوئے میمنہ اور میسرہ کو نشانہ بنایا قلب لشکر یزید پر حملے کئے اور رجز پڑھتے رہے:

موت عار و ننگ قبول کرنے سے بہتر ہے
اور عار و ننگ دوزخ کی آگ سے بہتر ہے

اور اس کے بعد میسرہ (بائیں جانب) پر حملہ کرکے رجز کو جاری رکھتے:

میں حسین ہوں علی کا بیٹا
کبھی بھی ساز باز نہ کروں گا
اپنے والد کی حریم (دین خداوندی) کا دفاع کروں گا
اور اپنے جد رسول اللہ (ص) کے دین پر استوار ہوں-

ایک کوفی نے یوں روایت کی ہے:

“میں نے کبھی نہیں دیکھا کسی کو جس پر اتنا بڑا لشکر حملہ کرے اور اس کے انصار اور بیٹے بھی قتل ہوئے ہوں اور وہ پھر بھی اتنا جری اور شجاع ہو۔ سپاہ یزید کے دستے ان پر ٹوٹ پڑتے مگر آپ (ع) شمشیر کے ذریعے ان پر حملہ کرتے اور لشکر یزید کو بکریوں کے ریوڑ کی مانند – جس پر شیر حملہ آور ہوا – دائیں بائیں جانب بھگاتے اور تھتربھتر کرتے۔ اور پھر اپنی جگہ لوٹ آتے اور تلاوت فرماتے: “لاحول و لا قوة ال باللہ العلی العظیم” … شهید مطهری فرماتے هیں که “امام حسین علیہ السلام نے خیموں کے قریب ایک نقطہ معین کیا تھا اور حملہ کرکے وہیں واپس آجاتے تهے کیوں کہ وہ خیموں سے دور نہیں جانا چاہتے تھے… یہ آپ (ع) کی غیرت کا تقاضا تھا…”

تاریخی منابع میں ہے کہ فرزند حیدر و صفدر حضرت امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں دوہزار یزیدی فوجیوں کو واصل جہنم کیا۔ عمر سعد نے خطرے کا احساس کرلیا کہنے لگا اپنے لشکریوں سے: وائے ہو تم پر! کیا تم جانتے ہو کہ کس کے خلاف لڑرہے ہو؟ یہ عرب کے بہادر پہلوانوں کو ہلاک کردینے والے علی ابن ابیطالب کا بیٹا ہے۔ یکبارگی کے ساتھ چاروں جانب سے حملہ کرو”۔ عمر نے ہزار تیراندازوں کو حکم دیا کہ امام علیہ السلام پر چاروں جانب سے تیر پھینکیں اور بعض اشقیاء نے پتھروں سے آپ (ع) پر حملہ کیا۔

بعض روایات میں ہے کہ اتنے تیر جسم امام علیہ السلام کو لگے تھے کہ امام کا بدن سیہ کی طرح ہوچکا تھا۔ (جس کی کھال کانٹوں سے پر ہوتی ہے) اور شہادت کے بعد بدن مبارک پر زخموں کی گنتی ہوئی تو ہزار زخم اس جسم نازنین پر موجود تھے جن میں سے 32 زخم تیروں کے سوا دیگر ہتھیاروں کے تھے۔ امام علیہ السلام تھکے ماندے،مجروح اور پیاسے تھے۔ سستانے کے لئے لمحہ بھر رک گئے مگر دشمن بہت ہی نامرد دشمن تھا … ایک دشمن نے پتھر اٹھا کر جبین مبارک کو مارا، جبین امام (ع) سے خون جاری ہوا تو امام نے کرتے کے دامن سے خون پونچھا ہاتھ جبین پر ہی تھا کہ حرملہ کا پھینکا ہوا ایک 3 منہ کا تیر مولا امام حسینؑ کے سینہ پر دل کے قریب لگا۔ ہائے ۔۔ یہ وہی تیر تھا جسے 11 محرم کو بی بی زینبؑ نے دیکھا تو فریاد بلند کی اے میرے بھائی ! کاش یہ تیر تیری بہن کے سینہ میں پیوست ہو جاتا اور میری رگ حیات کو کاٹ ڈالتا تاکہ میں تجھے اس حال میں نہ دیکھتی !

مولاؑ نے سینے میں لگا تیر نکالنا چاہا لیکن ہر چند کوشش کے باوجود تیر سامنے کی طرف سے نہ نکل سکا آپ نے کمر کو خم کیا اورپشت کی جانب سے تیر کھینچا اب آپ کے اندر سوار رہنے کی سکت نہ رہی آپ کی زبان الہام بخش سے یہ جملہ نکلا “بسم اللہ و باللہ و علی ملۃ رسول اللہ “خانہ وحی کا تربیت شدہ گھوڑا سمجھ گیا کہ راکب میں اب سوار ی کی ہمت نہیں ہے ایک گھڑے میں آیا اور اپنے دونوں اگلے پیروں کو پہن کیا اور پیچھلے پیروں کو پیچھے کی جانب پھیلایا تاکہ حضرت زمین سے اتنے قریب ہوجائیں کہ پشت سے خاک کربلا تک آسانی سے پہونچ سکے … امام علیہ السلام نے فرمایا: “بسم اللہ و باللہ وعلی ملة رسول اللہ” اور سر آسمان کی جانب اٹھایا اور بارگاہ خداوندی میں مناجات کی: “خدایا تو جانتا ہے کہ یہ قوم ایک ایسے انسان کو قتل کررہی ہے جس کے سوا کوئی اور فرزند نبی (ص) نہیں ہے”۔ امام نے تیر اپنی پشت کی جانب سی سے نکال لیا۔ پرنالے کی طرح خون جاری ہوا ۔

امامؑ نے اپنے ہاتھوں میں خون اٹھایا اور آسمان کی جانب اچھالا اور کوردل حاضرین نے دیکھا کہ وہ خون زمین پر واپس نہیں آیا اور اسی لمحے کربلا کا آسمان سرخ ہوگیا۔ اس کے بعد دوسری مرتبہ اسی خون سے ہاتھ بھر دیئے اور چہرہ مبارک پر مل دیئے اور فرمایا: “میں خضاب خون سے رنگی ہوئی داڑھی کے ساتھ اپنے جد رسول اللہ صلی اللہ (ص) کی ملاقات کو جاؤں گا اور رسول اللہ کی عدالت میں ان لوگوں کی شکایت کروں گا”۔

سرکار سید الشہداء فرش زمین پر پہنچ چکے تھے۔ 4 سال کی معسوم سکینہ ؑ قتل گاہ میں آ گئیں اور مولا کےسرہانے بیٹھ گئیں ۔ ابھی مولا کی سانسیں چل رہی تھیں اچانک دشمنوں نے حملہ کر دیا۔ ظالم معصومہ کو تازیانے لگاتے اور چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ یہاں سے چلی جاؤ ورنہ ہم تمہیں بھی ان سے ملحق کر دیں گے ۔ یہ آواز دینے والا کوئی نہیں بلکہ شمر تھا۔ معصومہ ؑ نے فورا” گلے میں باہیں ڈال دیں اورفریاد کی کہ میں اپنے بابا کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی اگر تو انہیں قتل کرنا چاہتا ہے تو مجھے بھی ان کے ساتھ قتل کردے۔ شمر ملعون نے ایک تازیانہ معصومہ کے لگایا اور کہا کہ اگر اس کے بعد حسین کے قریب آئی تو میں تمہاری گردن جسم سے جدا کر دوں گا۔ امام مظلوم غم و اندوہ کے سبب بے حد نڈھال ہوچکے تھے۔ معصومہ کو اشارہ کیا کہ خیموں میں چلی جائیں۔ امام ؑ کا زخمی بدن کربلا کی تپتی زمین پر پڑارہا اور شمر ملعون آپ کے سینہ اقدس پر سوار ہوگیا آنکھوں کو کھولا تو دیکھا شمر چھری لئے آمادہ قتل تھا۔

اس ملعون سے فرمایا “اللہ اکبر،اللہ اکبر ،صدق اللہ و رسولہ ۔ اللہ اکبر گویا اپنے جد رسول للہ کے فرمان کے مطابق ایک کتے کو دیکھ رہا ہوں کہ جو میرے اہل بیت کے خون میں اپنے پنجوں کو ڈبو رہا ہے ،شمر ملعون یہ سن کر طیش میں آگیا۔ مولا کے جسم نازنیں کو پلٹا اور پشت گردن پر اتنی ضربیں لگائیں کہ مولا کا سر جسم سے جدا ہوگیا اپنی فتح کا اعلان عام اور یہ عیاں کرنے کے لئے کہ حسین شہید ہوگئے عمر سعد نے یہ فرمان بھیجا کہ کٹے ہوئے سر کو نیزے پر اٹھایا جائے اور تمام میدان میں پھرایا۔

امام محمد باقر ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے جد مظلوم کو اس طریقے سے ذبح کیاگیا جس طریقہ کو پیغمبر اکرم نے ممنوع قرار دیا ۔ ہر ایک جانور کو ایک خاص طریقے اور ایک خاص چیز کے ذریعے ذبح کیاجاتا ہے مثلاً اونٹ کو نیزے کے ذریعے نحر کیاجاتاہے ،بھیڑ بکری کو چھری کے ذریعے ذبح کیاجاتاہے مگر میرے دادا حسینؑ کو رک رک کر قتل کیا گیا۔ ۔ میرے جد حضرت ابی عبداللہ الحسین کو تلوار سے ،نیزوں سے ،پتھروں سے اور لاٹھی ڈنڈوں سے شہید کیاگیااور اس کے بعد ان کے پاک بدن پر گھوڑے دوڑائے گئے ۔

الا لعنة الله علی القوم الظالمینَ-




بشکریہ

جواب چھوڑیں