مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی یاد میں – عطا محمد تبسم

مولانا مودودی کی ذات کا یہ احسان ہے کہ انھوں نے اس دور جدید میں نوجوانوں کو اسلام سے یوں رو شناس کیا کہ وہ ان کی دل کی دھڑکنوں میں سما گیا۔ آج بھی دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں میں سید مودودی کا نام گونجتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سید مودودی کے ذہن میں اسلام بطور تحریک کا تصور بالکل واضح ہے اور اسی وجہ سے دنیا کو اس تحریک میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں کیونکہ و ہ ا سے انبیائے کرام کی تحریک ہی کی ایک شکل سمجھتے ہیں۔ ایک بڑے اور اساسی نوعیت کے کام کو انجام دینے کے لیے سید مودودی نے ایک تنظیم کا تصور اور شعور ہی نہیں دیا۔ بلکہ اسے قائم بھی کر کے دکھایا۔ انھوں نے26 اگست 1941ء کو لاہور میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ عام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے روایتی طور طریقوں سے ہٹ کر انہوں نے ایک مختلف انداز میں ایک ایسی انقلابی جماعت کی بنیاد رکھی جو دنیا میں اسلامی نظریے کی بنیاد پر ایک صحت مند اور انسانیت کے لیے حقیقی معنوں میں ایک خوشگوار اور ہمہ گیر تبدیلی کا ذریعہ بن سکے اور بلآخر روئے زمین کا ہر فرد اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں اس کے مثبت اثرات محسوس کر سکے۔ مولانا سید ابو الاعلی مودودی 25 ستمبر 1903ء کو حیدرآباد دکن کے شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ 1906 تا 1913ء ابتدائی تعلیم کے مراحل سے گزرے۔ 1918 ءمیں صرف پندرہ سال کی عمر میں صحافت کا آغاز ”اخبار مدینہ“ سے کیا۔ 1920ء میں مولانا مودودیؒ کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا۔ 1925ء میں ”الجمعیة“ دہلی کی ادارت سنبھال لی جو چار سال تک جاری رہی۔ بعد میں انھوں نے ترجمان القران جاری کیا۔ اور زندگی بھر قلم و قرطاس سے رشتہ جوڑے رکھا۔ سید مودودی کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ انھوں نے مسلمانوں میں قادیانی فتنہ کی جڑ کو محسوس کیا اور قادیانیوں کے خلاف امت کو آگاہ کیا۔ تحریک ختم نبوت کی پرزور حمایت کی وجہ سے سید مودودی کو پاکستان کی فوجی عدالت نے 11 مئی 1953 کو سزائے موت سنائی تھی تھی مگر جلد ہی حکومت کو یہ فیصلہ تبدیل کرنا پڑا کیونکہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔ معروف مستشرق پروفیسر چارلس جے ایڈمنز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام کے جہاں بھی بات ہوگی یا دور جدید میں اسلامی بیداری کا موضوع زیر بحث آئے گا اس کے ساتھ سید مودودی کا تذکرہ ناگزیر ہوگا اور اسلامی بیداری میں سید مودودی کے کردار کا اعتراف کئے بغیر یہ تذکرہ مکمل نہیں ہو سکتا۔ سید مودودی نے تعلیم یافتہ طبقہ اور نوجوانوں ہی کو اپنا ہدف بنایا۔یہ وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ دانشور طبقے نے ایک ایسے وقت میں سید مودودی کے افکار میں کشش محسوس کی جب مختلف تصورات و نظریات ایک دوسرے سے ٹکرا کر ذہنی پیچیدگیوں میں اضافے کا باعث بن رہے تھے۔ سید مودودی کی فکر میں نوجوانوں نے سماجی ترتیب کے اعتبار سے ایک نئی بصیرت محسوس کی۔ سید مودودی کی “دینیات” اور “اسلام کا نظام حیات” آج بھی بہت پڑھی جاتی ہیں۔ اور انہوں نے نوجوانوں پر اثرات مرتب کیے ہیں۔

پاکستان کے سابق وزیر قانون اور معروف قانون داں اے کے بروہی نے جماعت اسلامی کے بارے میں پورے تیقن سے لکھا ہے یہ ایک ایسی جماعت ہے جو تشدد پر یقین نہیں رکھتی اور جس نے اپنے آپ کو خفیہ اور زیر زمین سرگرمیوں میں ملوث ہونے نہیں ہونے دیا۔ چاہے کامیابی کے امکانات کتنے ہی روشن کیوں نہ ہوتے نظر آتے ہوں۔ سید مودودی نے اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لئے تحریک اسلامی کے لائحہ عمل میں تشدد کو ناقابل قبول قرار دیا۔ ایوب خان کے زمانہ میں جماعت اسلامی زیر عتاب تھی۔ اس کے اجتماع عام کی اجازت کے باوجود لائوڈ اسپیکر کے استعمال پر پابند تھی۔ اجتماعِ عام میں مولانا کی تقریر کے دوران اچانک گولی چلنے کے ساتھ کچھ سرکاری غنڈے اسٹیج کی دائیں جانب سے اندر گھسنے کی کوشش کر رہے تھے اور کارکنان انہیں روک رہے تھے۔ اسی موقع پر جب کسی نے مولانا مودودیؒ کو بیٹھ جانے کا کہا، تو انہوں نے وہ تاریخ ساز جملہ کہا۔ جو ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا، ’’اگر آج میں بیٹھ گیا،تو پھر کھڑا کون رہے گا۔‘‘ اس حملے میں جماعت اسلامی کا ایک قیمتی ساتھی اللہ بخش غنڈو ں کو روکتے روکتے گولی لگنے سے شہید ہوگیا ہے۔ چند لمحوں کی ہنگامہ آرائی کے بعد مجمع پھر پر سکون ہوچکا تھا۔ مولانا مودود ی کا پورا خطاب پورے اطمینان اور یکسوئی سے جاری رہا۔ آج کے دور میں اس برداشت کا تصور بھی محال ہے۔ سید مودودی نے نے ایک دیانتدار اور نہایت باصلاحیت مسلم مورخ کی حیثیت سے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا اور بصیرت افروز لٹریچر فراہم کیا وہ یہ سمجھنے میں حق بجانب تھے کہ تمام تاریخی شخصیات کے مثبت کارناموں کے ساتھ ان کے منفی پہلوؤں اور ناکامی کو بھی پوری دیانت داری کے ساتھ معروضی انداز میں سامنے لانا چاہیے انہوں نے اس کا اطلاق اسلامی سیاسی تاریخ پر بھی کیا ہے۔

سید مودودی کے انداز بیان میں ایسی دلکش روانی ہے کہ ان کے الفاظ دل و دماغ میں اتر جاتے ہیں اور ذہن میں واضح تصور نقش کر دیتے ہیں وہ ایک بڑے نثرنگار کی طرح کھلے الفاظ اور جامع انداز میں بڑی قوت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ اپنا موقف صراحت کے ساتھ بیان کرنے میں انہیں مہارت حاصل ہے اور اختصار اور جامعیت کے ساتھ اپنے نقطہ نظر کی وضاحت سید مودودی کا امتیازی وصف ہے۔ 1979 ءمیں علاج کی غرض سے مولانا مودودی ؒ امریکہ گئے۔ 22 ستمبر 1979ء کو بفیلو ہسپتال امریکہ میں انتقال فرما گئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں