جھک کر سلام کرنے میں کیا حرج ہے مگر سر اتنا مت جھ…

جھک کر سلام کرنے میں کیا حرج ہے مگر
سر اتنا مت جھکاؤ کہ دستار گر پڑے

سید اقبال عظیم کا یومِ وفات
Sep 22, 2000

اردو کے معروف شاعر، ادیب اور محقق سید اقبال عظیم کی تاریخ پیدائش 8جولائی 1913ءہے۔
سید اقبال عظیم یوپی کے مردم خیز شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے علم و ادب سے شغف وراثت میں پایا۔ ان کے دادا سید فضل عظیم فضل، نانا ادیب میرٹھی اور والد سید مقبول عظیم عرش سب اپنے عہد کے معروف شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ اقبال عظیم بڑے بھائی سید وقار عظیم بھی معروف نقاد اور ماہر تعلیم تھے۔ اقبال عظیم نے شاعری میں صفی لکھنوی اور وحشت کلکتوی سے اکتساب کیا۔
اقبال عظیم نے لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویشن کیااور آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔قیام پاکستان کے بعد انہوں نے ڈھاکا میں سکونت اختیار کی جہاں وہ مختلف کالجوں اور ڈھاکا یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ اسی زمانے میں انہوں نے کئی تحقیقی کتابیں بھی تالیف کیں جن میں بنگال میں اردو، سات ستارے اور مشرق کے نام سرفہرست ہیں۔ 1970ء میں وہ مغربی پاکستان منتقل ہوگئے اور پھر اپنی وفات تک کراچی میں اقامت پذیر رہے۔
اقبال عظیم کی شاعری کے مجموعے مضراب، قاب قوسین، مضراب ورباب، لب کشا، ماحصل، نادیدہ اور چراغ آخر شب کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔
انہوں 22 ستمبر 2000ء کوکراچی میں وفات پائی ۔وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

سید اقبال عظیم کی غزل کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

مجھے ملال نہیں اپنی بے نگاہی کا
جو دیدہ ور ہیں انہیں بھی نظر نہیں آتا

سید اقبال عظیم ایک بہت اچھے نعت گو شاعر بھی تھے۔ ان کی ایک مشہور نعت کے چند اشعار ہیں:
مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
جبیں افسردہ افسردہ ،قدم لغزیدہ لغزیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانب طیبہ
نظر شرمندہ شرمندہ، بدن لرزیدہ لرزیدہ
بصارت کھوگئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ

What is the problem in bowing down and greeting?
Don't bow your head so much that the turban falls

Death anniversary of Syed Iqbal Azeem
Sep 22, 2000

The date of birth of Syed Iqbal Azeem, a famous Urdu poet, Adeeb and researcher is 8 July 1913
Syed Iqbal Azeem was born in the census city of Meerut in UP. He was inherited with knowledge and literature. His grandfather Syed Fazal Azeem Fazal, Nana Adeeb Merthi and father Syed Maqbool Azeem Arsh are all counted among the famous poets of his covenant Used to be. Iqbal Azeem elder brother Syed Waqar Azeem was also a well-known critic and expert. Iqbal Azeem united with Safi Lucknowi and Wahsht Kalkatvi in poetry
Iqbal Azeem graduated from Lucknow University and obtained an MA degree from Agra University. After the establishment of Pakistan, he settled in Dhaka where he was associated with various colleges and university of Dhaka. During the same time, he also compiled several research books. Kin, which top the names of Urdu, seven stars and east in Bengal. He moved to West Pakistan in 1970 and then remained in Karachi till his death.
Iqbal Azeem's poetry collections were published in the name of Mazrab, Qab Qusin, Muzrab Verbab, Lab Kashha, Mahasil, Unseen and Laga-e-Shab.
He died on September 22, 2000 in Karachi. He is in the graveyard of Sakhi Hassan in Karachi.

See a poetry of Syed Iqbal Azeem's poem:

I don't regret my ignorance.
Even those who are visionary can't see

Syed Iqbal Azeem was also a very good Naat poet. There are some poems from one of his famous Naat:
It's a journey to Madina and I'm wet with wet eyes.
When depressed, depressed, steps slip
I have gone like a criminal to Tayyaba
Eyes are embarrassed, body is shamed, shamed and shaken
Lost sight but the insight is safe
We have seen Madina but unseen and unseen

Translated


جواب چھوڑیں