امریکہ اور جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ۔۔محمد افخمی


جب ایک امریکی وزیر امریکہ کی جوہری طاقت میں اضافے کی بات کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چین اور روس کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کے مقابلے میں اپنی پسماندگی کو بھانپ چکا ہے۔ البتہ یہ وزیر اس حقیقت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں کہ اس کا ملک نہ صرف جوہری ہتھیاروں بلکہ بجٹ کی فراہمی اور دیگر اسٹریٹجک امور میں بھی پیچھے رہ گیا ہے جس کے باعث امریکہ مشرقی بلاک میں تنہا اور کمزور طاقت میں تبدیل ہو گیا ہے۔ مزید برآں، امریکہ اپنے یورپی اتحادیوں کا اعتماد بھی کھو چکا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت میں اس عدم اعتماد کی علامات واضح طور پر دیکھی جا چکی ہیں۔ امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر نے یہ بات اپنے جاپانی ہم منصب تارو کونو سے ملاقات کے بعد ٹویٹر پیغام میں کہی ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے اپنے ٹویٹر پیغام میں دعوی کیا ہے کہ چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحر ہند اور بحر الکاہل کے خطے کی آزادی اور بے طرفی کیلئے امریکہ کی جوہری توانائیوں میں اضافہ ایک ایسی ضرورت ہے جس سے چشم پوشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے حال ہی میں جاپان کے شہر ہوائی میں واقع تحقیقاتی ادارے “ایشیا پیسیفیک سکیورٹی اسٹڈیز سنٹر” میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور مختلف عالمی طاقتوں کی موجودگی کے بارے میں خطے میں امریکی کمانڈروں سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس خطے کا کنٹرول عالمی سپر پاورز کے درمیان رسہ کشی کا مرکز بن چکا ہے اور یہ ایک عالمی رسہ کشی ہے۔

امریکی وزیر دفاع اس سے پہلے بھی کئی بار تاکید کر چکے ہیں کہ ان کا ملک بحر ہند اور بحر الکاہل میں فوج تعینات کرنا چاہتا ہے تاکہ یوں دنیا بھر میں چین اور روس سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل ہو سکے۔ یہ امریکی دعوے درحقیقت مختلف قسم کے اہداف حاصل کرنے کا محض بہانہ ہیں۔ ان اہداف میں سے ایک مذکورہ خطے میں نئے اتحاد تشکیل دینے ہیں۔ اسی طرح ایک مقصد امریکہ اور جاپان کے درمیان موجود سکیورٹی معاہدے میں وسعت پیدا کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ معاہدہ ایسے انداز میں لکھا گیا ہے کہ اس میں چین کے مشرقی پانیوں میں واقع جزیرے بھی شامل ہیں۔ یہ وہ جزیرے ہیں جن پر چین اپنی ملکیت کا دعوے دار ہے۔ مارک ایسپر نے انہی جزیروں کو مدنظر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس خطے کی آزادی اور بے طرفی کے درپے ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا: “امریکہ اور جاپان ہر ایسے یکطرفہ اقدام کے مخالف ہیں جس کے نتیجے میں جنوبی پانیوں اور مشرقی چین کے پانیوں میں موجود دو اصلی آبراہوں کی موجودہ صورتحال میں کوئی تبدیلی رونما ہونے کا امکان پایا جاتا ہو۔” یاد رہے چین اور جاپان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ چین کی جانب سے مشرقی چین کے پانیوں میں واقع چند چھوٹے جزیروں کی ملکیت کا دعوی ہے جبکہ اس وقت یہ جزیرے جاپان کے قبضے میں ہیں۔ جاپان کے وزیر دفاع کے بقول مارک ایسپر نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اور جاپان کے درمیان سکیورٹی معاہدے میں مشرقی چین کے پانیوں میں واقع جزیرے بھی شامل ہونے چاہئیں۔ یہ وہی ٹوکیو اور بیجنگ کے درمیان متنازعہ جزائر ہیں۔

یہ چھوٹے جزیرے جاپان میں “سن کاکو” اور چین میں “دیائویو” کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ امریکہ جو اپنے شہریوں کی صحت و سلامتی کیلئے کسی اہمیت کا قائل نہیں ہے اور انہیں جوہری ہتھیاروں کے تجربات سے پیدا ہونے والی تابکاری شعاعوں کا نشانہ بناتا رہتا ہے اس سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ جاپانی شہریوں کا خیال رکھے گا۔ امریکہ نے کئی سال پہلے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی کو ایٹم بم سے نشانہ بنایا تھا۔ جاپانی شہری ابھی تک ان جوہری دھماکوں کے اثرات کا شکار ہو رہے ہیں۔ امریکہ کا یہ اقدام اس ملک کی یکطرفہ اور تسلط پسندانہ پالیسیوں کی ایک مثال ہے۔ امریکہ کی یہی تسلط پسندانہ پالیسیاں دنیا میں تباہی و بربادی اور ماحولیات کی نابودی کا سبب بن رہی ہیں۔

1991ء میں امریکہ اور سابق سوویت یونین کے درمیان جاری سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کا جوہری پروگرام کافی حد تک محدود ہو گیا تھا اور اس ملک نے نئے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور جوہری تجربات روک دیے تھے۔ اسی طرح نوے کی دہائی میں امریکہ کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں بھی خاصی کمی واقع ہوئی۔ دوسری طرف ان تمام امریکی شہریوں کو مالی معاوضہ بھی ادا کیا گیا جو کسی نہ کسی طرح تابناک شعاعوں کے نتیجے میں نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔ امریکہ کے معروف وکیل اور سیاست دان گیٹ براون نے 2013ء میں جوہری ہتھیاروں سے متاثر ہونے والے افراد کے بارے میں ایک کتاب لکھی تھی جو آکسفورڈ پبلیکیشن والوں نے شائع کی۔ براون کی نظر میں دنیا جوہری آلودگی سے بری طرح متاثر ہوئی ہے لیکن ان معلومات کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز





بشکریہ

جواب چھوڑیں