پپو سانوں تنگ نہ کر توں۔۔رؤف کلاسرا

شہباز شریف اور آصف زرداری کو ایک دوسرے کے سامنے سینے پر ہاتھ رکھے‘ منہ پر ماسک پہنے اور جھک کر احتراماً ملتے دیکھ کر رونے سے زیادہ ہنسی آئی۔ دوسری طرف وزیراعظم نے فیس بک پر حکمران جماعت کے حق میں پوسٹیں لکھنے والے لکھاریوں کو وزیراعظم ہاؤس بلایا ہوا تھا۔
2004کی بات ہے‘ نواز لیگ کے ایک ایم این اے نے مجھے کہا تھا کہ شہباز شریف کا لندن سے پیغام ہے‘ انہوں نے آپ کے اس انگریزی آرٹیکل کی بہت تعریف کی ہے جو آپ نے لاہور ایئرپورٹ سے لکھا تھا جس میں زرداری کو رگیدا گیا تھا ۔ واقعہ یوں ہے کہ میں بھی اس جہاز پر سوار تھا جو دبئی سے زرداری صاحب کو لے کر آیاتھا ۔ زرداری کو کچھ بھائی لوگوں نے چونا لگا دیا تھا کہ اگر وہ لاہور اُترکر شہر کو جام کر دیں تو شام تک پرویز الٰہی کی حکومت برطرف ہوچکی ہوگی‘ نئے انتخابات ہوں گے اور بینظیر بھٹو کو وزیراعظم بنا دیا جائے گا۔ وہ ان کے جھانسے میں آگئے‘ لیکن آدھے راستے میں پتہ چل گیا کہ انہیں چونا لگایا گیا ہے۔ جہاز میں ہی ایس پی لاہور کیپٹن مبین نے سلیوٹ مارا اور انہیں لے کر چلتے بنے۔ کہاں گیا انقلاب اور بے چارے جیالے جو مختلف علاقوں سے چلے تھے؟ انہیں پولیس نے مار مار کر دنبہ بنا دیا۔ پرویز الٰہی کے حکم پر زرداری کے ساتھ آنے والے صحافیوں پر بھی بدترین تشدد کیا ۔ یہ سٹوری میں نے تفصیل سے لکھی تھی جس کی شاباش مجھے شہباز شریف نے بھیجی تھی ۔ بعد میں انہی پرویز الٰہی کو زرداری نے ڈپٹی وزیراعظم بنایا ۔
اس طرح ایک خبر میرے ہاتھ لگی جو وزارتِ قانون کے بارے تھی۔وزیراعظم نواز شریف کو بتایا گیا کہ زرداری نے سوئس حکومت کو کہا ہے کہ انہیں بینظیر بھٹو کا نیکلس اور دیگر زیورات واپس کیے جائیں جو ضبط کر لیے گئے تھے۔ فورا ًوکیل کر کے اسے تگڑی فیس دی گئی کہ وہ نیکلس زرداری کو دینے کے بجائے حکومت پاکستان کو دلوائے کیونکہ وہ کرپشن کا پیسہ پاکستانی عوام کا تھا۔ انہی دنوں دھرنا شروع ہورہا تھا۔ زرداری صاحب کی پارلیمنٹ میں ضرورت پڑگئی‘ اور کچھ اس کھیل سے ملا ہو یا نہ ملا ہو زرداری یقینا عمران خان کے شکر گزار ہوں گے کہ ان کی وجہ سے ان کے رکے ہوئے دو تین کام ہوگئے ‘ جن میں نیکلس بھی شامل تھا ۔
میں جان بوجھ کر لاڑکانہ کی گلیوں میں گھسیٹنے کی بات نہیں کررہا ۔ میں چھوٹی چھوٹی باتیں بتا رہا ہوں جن سے ان کی ایک دوسرے سے دل میں محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مطلب‘ یہ لوگ اپنے فالورز کو کیا سمجھتے ہیں کہ یہ سب گھاس کھاتے ہیں؟ اگر کسی چیز کی اہمیت ہے تو وہ ایک دوسرے کو دھوکا دے کر کام نکالنے کی ہے۔ کون کس کو زیادہ استعمال کرسکتا ہے۔ نہ بلاول کو یاد رہا کہ شہباز شریف ان کے بابا سائیں بارے کیا کہتے رہے‘ نہ شہباز شریف کو بلاول کی تقریریں یاد رہیں ۔ دوسری طرف اسلام آباد میں وزیر اعظم کی سوشل میڈیا ایکٹویسٹس سے ملاقات کی ٹائمنگ ملاحظہ فرمائیں۔ پورا کراچی ڈوب چکا ہے‘لوگوں کے گھر تباہ ہوگئے ہیں‘ یہ وہ شہر ہے جو پورا پاکستان چلاتا ہے‘ کراچی سے ہی ان کی پارٹی کو چودہ سیٹیں ملیں ۔ اس شہر کے وزیر ٹی وی چینلز پر سنبھالے نہیں جاتے تھے‘ اب سب غائب ہیں۔ کوئی کراچی میں نظر نہیں آیا۔ سارا زور سندھ حکومت کو مزید نالائق ثابت کرنے پر لگا رہا۔ اسی دوران سوات میں سیلاب آگیا‘ پتہ چلا جو کام کراچی میں ہوا وہی سوات میں ہوا ۔ اس صوبے میں پچھلے سات سالوں سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ سوات کے لوگوں نے دریا کے اندر گھر بنا لیے‘ باقیوں نے دریا کے کناروں پر قبضہ کر لیا ‘ اس طرح پنڈی کے برساتی نالوں پر بھی گھر بنا لیے گئے اور ہر سال سیلاب سے وہ تباہ ہوتے ہیں۔ یوں پورے ملک میں ان نالوں کو سرکاری محکموں نے بیچا اور خوب مال بنایا۔
ان سب مسائل کو چھوڑ کر وزیر اعظم صاحب کو فکر ہے کہ ان کی پارٹی کے کارناموں کا کہیں اور ذکر ہو یا نہ ہو لیکن سوشل میڈیا پر سب اچھا ہے کی رپورٹ ضرور ہونی چاہیے۔ انہیںلگتا ہے کہ قومی میڈیا پر ان کے وزرا دفاع نہیں کرپارہے۔ مجھے ایک ٹی وی چینل میں کہا گیا تھا کہ نوکری جاری رکھنی ہے تو اگلے دو ماہ تک حکومت کے کارناموں کو اجاگر کرنا ہوگا ۔ ہر بات کو اچھا بنا کر پیش کرنا ہوگا۔ میں نے کہا: ایک کام کریں حکومت کے کسی بندے کو کہیں کہ وہ اچھے اچھے کارنامے لکھ کر بھیج دیں‘ ہم اپنے پروگرام کی ہوسٹ کو کہیں گے وہ پڑھ دے گی۔ بولے: نہیں آپ اپنے ریسرچر کو کہیں کہ اچھے کارنامے خود ڈھونڈے۔ ہم چینل چھوڑ گئے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب وزرا اپنے یار دوستوں کی خاطرجی آئی ڈی سی والے چار سو ارب روپے کا سودا کرچکے تھے اور ہمیں کہا جارہا تھا کہ جی آئی ڈی سی والے معاملے کو اچھا بنا کر پیش کرو‘ قوم کو چونا لگ رہا ‘ لگنے دو‘ اپنی جاب کی فکر کرو۔
وزیر اعظم صاحب کو بتا دیا گیا ہے کہ اگر سوشل میڈیا ان کے قابو میں رہا تو انہیں اگلے آٹھ برس تک کوئی نہیں ہٹا سکتا‘ لہٰذا زلفی بخاری اور علی زیدی اب کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ وہ2028 ء میں بھی وزیر ہوں گے۔ وزیر اعظم صاحب کو پتہ ہے کہ جتنا انہوں نے بائیس سالوں میں پاکستان کے ٹاپ کے کالم نگاروں‘ لکھاریوں ‘ ٹی وی اینکرز اور صحافیوں کو استعمال کرنا تھا کر لیا ‘ اب وہ ان کے کسی کام کے نہیں رہے۔ وہ سب بھی اس عمران خان کو نہیں جانتے جو وزیراعظم ہیں‘ لہٰذا شاید وزیر اعظم کے پاس یہی آپشن بچا ہے کہ وہ نوجوان یو ٹیوبرز اور فیس بک لکھاریوں پراپنا وہی charm استعمال کریں جو بائیس برس اینکرز‘ کالم نگاروں اور لکھاریوں پر کامیابی سے استعمال کرتے رہے۔ بڑے بڑے جغادری لکھاری‘ تجربہ کار صحافی اور اینکرز تک مارکھا گئے ‘یہ تو نوجوان ہیں ۔ اب دیکھنا ہے کہ یہ میرے سوشل میڈیا کے دوست نت نئے سکینڈلز کو کیسے اچھا بنا کر پیش کرتے ہیں ؟ ان سوشل میڈیا دوستوں کا پہلا ٹاسک 300 ارب روپے چینی سکینڈل کے فوائد عوام کو سمجھانا ہونا چاہیے۔ علی زیدی کے دوست عاطف رئیس کے سکینڈلز ہوں یا رزاق دائود‘ انہیں چھوڑیں‘ صرف عوام کو قائل کریں کہ چینی کی قیمت 55 روپے سے سو روپے فی کلو تک لے جانے میں عوام کا ہی فائدہ ہے۔
جناب وزیر اعظم دو سال حکومت کر کے دیکھ چکے‘ زبردست حکومت بھی کر لی ‘ وزیروں کے درجن بھر سکینڈلز بھی بھگت لیے‘ یار دوستوں نے اربوں بھی کما لیے‘ اپوزیشن کو بھی جیل کروا دیا ‘ میڈیا کو بھی تیر کی طرح سیدھا کر دیا ‘ بھائی لوگوں سے ٹی وی اینکرز اور صحافیوں کو ڈرا دھمکا بھی لیا ‘ تین چار اینکرز کے ٹی وی شوز بھی بند کروا لیے‘اشتہا رات بھی بند کروا کے دیکھ لیا‘ ایک دو میڈیا مالکان بھی جیل پہنچا دیے۔اب صدارتی نظام کے گیت بھی گارہے ہیں‘ پھر بھی عوام میں مقبولیت مسلسل گررہی ہے۔ سمجھ نہیں آرہی کہ ایسا کیا خاص کریں کہ عوام ‘ٹی وی چینلز‘ اینکرز‘ کالم نگاروں اور اخبارات میں بلے بلے نہ سہی لیکن سوشل میڈیا پر ہی ہلکی ہلکی ڈھولکی بجتی رہے؟
انور مسعود کی پنجابی نظم یاد آگئی۔
پپو سانوں تنگ نہ کر توں

بڑے ضروری کم لگے آں

سوچی پئے آں ہن کی کریے

روٹی شوٹی کھا بیٹھے آں

لسی شسی پی بیٹھے آں

حقے دا کشں لا بیٹھے آں

پونج پانج کے اندروں باہروں

پانڈے وی کھڑکھا بیٹھے آں

سوچی پئے آں ہن کی کریے

ویکھ لیاں سب اخباراں

سبھے ورقے تھل بیٹھے آں

پڑھ بیٹھے آں سارے اَکھر

سارے حرف سنا بیٹھے آں

سوچی پئے آں ہن کی کریے

رزق‘سیاست‘ عشق کوِتا

کجھ وہی خالص رہن نہ دتا

ساری کیڈھ ونجا بیٹھے آں

دودھ وچ سرکہ پا بیٹھے آں

سوچی پئے آں ہن کی کریے

جی کردا سی ووٹاں پائیے

مارشل لاء توں جان چھڈائیے

ووٹاں شوٹاں پا بیٹھے آں

اے جمہوری رولا رَپا

کنے سال ہنڈا بیٹھے آں

سوچی پئے آں ہن کی کریے

سودا کوئی پجھدا نائیں

کوئی رستہ سجھدا ناہیں

رستے دے وچ آبیٹھے آں

سوچی پئے آں ہن کی کریے!




بشکریہ

جواب چھوڑیں