کارڈیلیا ۔۔اقتدار جاوید | مکالمہ


کیا ہمارے ملک کی سیاست ”کنگ لیر‘‘ ڈرامہ ہے اور کیا ہمارے تمام سیاسی رہنما شیکسپیئر کے اس ڈرامے کے ہی کردار ہیں بلکہ کیا ہمارے ملک کی سیاست کے کردار کنگ لیر کے کرداروں سے زیادہ شاطر ہیں؟ ان سوالات کے جواب میں فی الحال نہیں دے سکتا مگر ایسی ایسی کہانیاں‘ ایسی ایسی توجیہات اور ایسے ایسے ڈائیلاگز سننے میں آتے ہیں جو شیکسپیئر کے وہم و گمان میں بھی نہیںہوں گے۔ پچھلے تین چار عشروں سے یہ ایک ہی طرح کا ڈرامہ مختلف اوقات میں مختلف کردار نبھاتے چلے جا رہے ہیں۔
کارڈیلیا‘ کنگ لیر کی سب سے چھوٹی بیٹی ہے جسے سلطنت، دولت، پیسہ اور دنیا سے غرض نہیں‘ سچ سے واسطہ ہے۔ اس کی دو بڑی بہنیں گونرل اور ریگن اقتدار‘ دولت اور سلطنت کے وسیع علاقے ہتھیانے کی خواہشمند ہیں۔ دھن دولت ہی ان کا ایمان ہے اور اس مقصد کے لیے وہ اپنے باپ سے نہ صرف جھوٹ بولتی ہیں بلکہ جھوٹ موٹ کے دعووں کی بنیاد پر سلطنت کا تین چوتھائی حصہ غصب کر لیتی ہیں۔ ملکِ عزیز کی سیاست ہے کہ کنگ لیر کا ڈرامہ‘ جس میں دو داماد کنگ لیر کی سلطنت کے تین چوتھائی حصے کو دروغ گوئی اور چرب زبانی سے ہتھیا لیتے ہیں۔ہمارا موضوع مگر یہ نہیں‘ ہمارا موضوع صرف کارڈیلیا ہے، جسے سچ‘ محبت‘ اخلاص اور اخلاقیات سے غرض ہے۔ اسے جھوٹ اور مکر و فریب سے واسطہ نہیں‘ وہ سراپا نیکی، محبت، خیر اور سچ کا ساتھ دینے والی ہے، اسے اپنی دونوں بہنوں اور بہنوئیوں سے کوئی سروکار نہیں۔
شیکسپیئر نے کنگ لیر سترہویں صدی کے پہلے عشرے میں لکھا تھا۔ یہ ڈرامہ ایک بادشاہ اور اس کی تین بیٹیوں اور ان کے شوہروں سے متعلق ہے۔ اس میں انسانی نفسیات کا گہرا مشاہدہ اور شیکسپیئر کی دانش کا امتزاج کسی طلسمِ ہوشربا سے کم نہیں۔ ایک ایک لائن اور ایک ایک منظر ناقابلِ فراموش ہے۔ انسان کی ازلی سرشت یعنی لالچ، دولت اور اقتدار کی ہوس کیسے اولاد کو والد کا باغی بناتی ہے اور بادشاہ کس طرح اپنی طاقت اور غرور کے نشے میں بدمست ہو کر فیصلے کرتا ہے اور اس کے ہر برے کام کی تعریف کے لیے اس کے دربار میں مصاحبین کی ایک کثیر تعداد ہمہ وقت دستیاب رہتی ہے۔
کنگ لیر ڈرامے میں بادشاہ کی تین بیٹیاں ہیں‘ نرینہ اولاد نہیں ہے۔ دو بڑی بیٹیاں‘ جن کے بالترتیب نام گونرل اور ریگن ہیں اور چھوٹی بیٹی کارڈیلیا۔ بادشاہ سلامت موڈ میں آتے ہیں اور اپنے تاج و تخت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں کہ بہت ہو گئی بادشاہی اور یہ جائیداد یعنی ملکِ برطانیہ بیٹیوں کے نام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور اس کے لیے شاہی مجلس برپا کرتے ہیں کہ اب یہ کام نئی نسل کا ہے مگر بادشاہ سلامت اپنی بیٹیوں کے سامنے ایک عجب شرط رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو ان سے جس قدر اظہارِ محبت کرے گا‘ اسی تناسب سے اسے سلطنت کا حصہ ملے گا۔ بادشاہ اپنی تینوں بیٹیوں کو اظہارِ محبت اور محبت کے دعووں کی دعوت دیتا ہے۔ بڑی بیٹی گونرل بادشاہ یعنی اپنے باپ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتی ہے اور سلطنت کا تیسرا حصہ لے اڑتی ہے۔ منجھلی بیٹی ریگن دو قدم آگے بڑھ جاتی ہے کہ میری محبت اور گونرل کی محبت کا کیا مقابلہ‘ یہ تو رائی اور پہاڑ کا موازنہ ہے، میرے سامنے اگر ساری دنیاکی خوشیاں رکھ دی جائیں اور دوسری جانب آپ کی محبت ہو تو بابا جان میں ان خوشیوں کو ایک نظر بھی نہ دیکھوں، کہاں یہ دنیا، دولت‘ پیسہ‘ جائیداد اور کہاں آپ۔ اسی چرب زبانی سے وہ بھی سلطنت کا تیسرا حصہ لے اڑتی ہے۔ کارڈیلیا اپنی باری آنے پر کہتی ہے کہ مجھے آپ سے اتنی ہی محبت ہے جتنی ایک بیٹی کو اپنے باپ سے ہونی چاہیے‘ نہ کم نہ زیادہ‘ میں ان دو بہنوں کی طرح زبانی جمع خرچ پر یقین نہیں رکھتی‘ مجھے آپ سے اتنی ہی محبت ہے جتنی ہونی چاہیے۔ تب بادشاہ ایک تاریخی جملہ بولتا ہے؛ اپنی تقریر میں ترمیم کر‘ کہیں ایسا نہ ہو تمہیں ایک پھوٹی کوڑی بھی نہ ملے، کہو کارڈیلیا کچھ تو کہو۔ جب کارڈیلیا Nothing کہتی ہے تو جواب ملتا ہے:
Nothing will come of nothing. Speak again.
ہمارے مشرقی ادب‘ جس میں عربی‘ فارسی اور اردو زبان کا ادب بھی شامل ہے‘ میں فارسی زبان میں نسبتاً زیادہ تجربات کا نچوڑ شامل ہے، اس موقع پر فارسی زبان میں کہا گیا ہے کہ
اے عندلیبِ ناداں غوغا مکن بہ ایں جا
نازک مزاجِ شاہاں تابِ سخن ندارد
اے نادان عندلیب اس جگہ شور مت کر‘ مزاجِ شاہی نازک ہے‘ اس لئے یہ شور شرابہ سننے کی تاب نہیں رکھتا۔ (آج کل اہل فارس نے فارسی‘ خصوصاً شاعری میں زیر زبر اڑا دی ہے اور نون غنہ تو ہے ہی نہیں لیکن ہم نے شعر اردو دان طبقے کی شعری روایت کے حساب سے ہی رقم کیا ہے)
اسی کنگ لیر میں شیکسپیئر نے بادشاہ کی زبان سے یہ کہلوایا کہ:
Come not between dragon and his wrath.
یہ تو اس ڈرامے کا مکالمہ ہے‘ اب سیاست کے میدان میں گونجنے والے صرف دو تین مکالمے دہرا لیتے ہیں۔ ناجائز ذرائع سے اکٹھی کی جانے والی دولت کے بارے میں استفسار کے جواب میں نواز شریف کا مشہور زمانہ ڈائیلاگ کہ اگر میرے پاس دولت ہے تو تمہیں کیا؟ چھوٹے بھائی کا دھیلے کی کرپشن والا ڈائیلاگ اور اس کی گونج کے دوران ہی مریم نواز صاحبہ کا ڈائیلاگ بھی سنہری حروف میں لکھا جانا چاہیے کہ میرے پاس کسی دوسرے ملک تو کیا‘ پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں ہے ۔
سادہ سا سوال ہے کیا مریم نواز کنگ لیر کی کارڈیلیا ثابت ہوں گی؟ کیا بلاول زرداری میں اتنی ہمت ہے کہ وہ شاہِ فرانس کی طرح کارڈیلیا کا ساتھ دیں؟ کیا ان دونوں کی جنگ سچ کی جنگ ہے؟ اور کیا ان میں وہ دم خم ہے جو کسی کو تاریخ میں ایک مقام عطا کر سکتا ہے؟ یا یہ بھی ان لوگوں کی طرح ہیں جو دھن دولت کو اپنا سب کچھ سمجھتے ہوئے اسی کے پیچھے اپنی اور اپنے گھر والوں کی ساری زندگی قربان کر دیتے ہیں مگر دھن دولت کی خاطر کسی اصول‘ کسی ضابطے کو نہیں مانتے۔ یہ لوگ کنگ لیر کے کردار ہیں‘ ان دونوں سے اس قسم کی توقع کی جا سکتی ہے؟ نہیں! قطعاً نہیں۔جناب عمران خان خوش نصیب ہیں کہ لوگ ابھی ان کے دونوں بیٹوں کے ناموں سے بھی ناواقف ہیں‘ اور اس لیے بھی کہ وہ دونوں ابھی کنگ لیر کے کسی کردار سے مماثلت نہیں رکھتے‘ ورنہ یہاں موجود بہت سے لوگ ایک جیسے ہی ہیں بلکہ ایک سے بڑھ کر ایک۔ شاید اسی کو کہتے ہیں کہ ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔
چودھری شوگر مل اور العزیزیہ ریفرنس کی چکا چوند تک اس وقت ماند پڑ گئی جب چند دن قبل نیب نے دو سو ایکڑ‘ جی ہاں دو سو ایکڑ زمین کی ناجائز الاٹمنٹ کے الزام میں مریم نواز کو طلب کیا، کیسی مماثلت ہے کہ کنگ لیر کی طرح سیاست کا ہر کردار دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ ہماری زیادہ تر سیاسی قیادت ناجائز دولت کے الزام پر ہی پکڑی جاتی ہے اور اس پر صرف دولت اکٹھی کرنے کا الزام لگتا ہے کہ یہاں سارے کنگ لیر کے داماد ہیں‘ کہیں اس کی بیٹی کارڈیلیا کا ذکر نہیں، کوئی کارڈیلیا نہیں، کوئی ایک بھی نہیں؛ تاہم ایک عدم مماثلت کا ذکر بھی ضروری ہے، وہ یہ کہ کنگ لیر کو اس کی سگی اولاد اس کی دولت، حکومت اور ملک ہتھیانے اور اس کے حصے بخرے کرنے کے بعد اپنی سلطنت سے ہمیشہ کے لیے نکال دیتی ہے، یہاں بھی کنگ لیر جلاوطن تو ہوتا ہے مگر اپنی مرضی سے، صرف اپنی مرضی سے، جسے انگریزی میں Sweet Will کہتے ہیں۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں