آفاتِ سماوی اور انسانی تدابیر۔۔اسلم اعوان


مرکزی دھارے کے میڈیا کی توجہ اگرچہ کراچی میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات پہ مرتکز رہی لیکن حالیہ بارشوں کی غیر معمولی لہر نے صوبہ خیبرپختونخوا میں بھی انفرادی اور اجتماعی نظامِ زندگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ چترال سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک پھیلے چھبیس اضلاع میں کئی مقامات پہ چھتیں منہدم ہونے‘ پہاڑی تودے گرنے اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث پچاس سے زیادہ شہری لقمہ اجل بن گئے۔ سب سے زیادہ اموات وزیراعلیٰ محمود خان کے شہر سوات میں ہوئیں‘ جہاں 17 شہری زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بعض علاقوں میں سیلابی ریلے مال مویشی بہا لے جانے کے علاوہ سڑکوں، پلوں اور کھڑی فصلوں کو تباہ کرنے کا سبب بھی بنے۔ بدقسمتی سے ہمارا انتظامی ڈھانچہ اس قسم کی آفاتِ سماوی کی لہروں کو رسپانس دینے کی تیاری کرتا ہے نہ اس میں ہنگامی ریلیف ریگولیٹ کرنے کی استعداد موجود ہے۔ بادی النظر میں اس وقت پوری انتظامی مشینری بے بس اور سیاسی قیادت کنفیوز ہے کیونکہ مشکلات کے پنجوں میں تڑپتے شہریوں کی مدد کرنے والا کوئی سسٹم کارآمد نہیں رہا۔ سرکاری افسران سوشل میڈیا کی وساطت سے اپنی علامتی موجودگی کا احساس دلانے کی بیکار کوششوں میں تو سرگرداں ہیں لیکن عملاً برسرزمین کسی موثر ریسکیو سرگرمی کا اظہار کرنے سے معذور ہیں۔
لاریب پچھلے کئی سالوں میں دہشت گردی کی مہیب لہروں نے سرکاری نظام پر جس قسم کے منفی اثرات مرتب کئے ہیں‘ اس میں سول سرکاری اداروں پہ گہرے جمود مسلط کرنے کے علاوہ سرکاری اہلکاروں کی صلاحیتوں کو زنگ آلود بنانا زیادہ مہلک ثابت ہوا ہے۔ اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا کو وسائل کی قلت کے ساتھ ہر شعبہ زندگی میں اہل اور ماہر کارکنوں کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے سروسز فراہم کرنے والے سرکاری ڈیپارٹمنٹ ڈلیور کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ پورے صوبے کی ٹی ایم ایز کے پاس جدید مشینری ہے نہ درکار مالی وسائل، اس پر مستزاد یہ کہ امسال سیکرٹری بلدیات نے ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے صوبے بھر کی ٹی ایم ایز کو پراپرٹی ٹیکس وصول کرنے سے روک کر مالیاتی بحران کی طرف لڑھکا دیا حالانکہ محصول چونگی کے خاتمے کے بعد پراپرٹی ٹیکس ہی صوبہ بھر کی ٹی ایم ایز کی آمدن کا بنیادی وسیلہ تھا۔ افسوس کہ چند لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی خاطر حکمران اشرافیہ نے من مانے فیصلوں کے ذریعے شہری سہولتیں فراہم کرنے والے ادارے کی کمر توڑ ڈالی۔ علیٰ ہذا القیاس!
موجودہ صورتِ حال میں سرکاری اداروں کی بے بسی اور حکمراں اشرافیہ کی بے حسی تو بہرحال محل نظر تھی لیکن اپوزیشن جماعتوں کی بے رحمانہ خاموشی نے بھی مصائب میں گھرے لوگوں کی تلخیوںکو بڑھا دیا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں موجود حزب مخالف کی جماعتیں مصلحت کی بُکل مارے خاموش بیٹھی ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں کوئی پارٹی مصیبت زدہ شہریوں کے لئے ہمدردی کے دو بول بولنے کو بھی تیار نہیں۔ گویا صوبے کی پوری انتظامی اتھارٹی اور اسے متوازن رکھنے والی اپوزیشن‘ دونوں کی سوچ گہرے جمود کی لپیٹ میں ہے۔ پہلی بار یہاں کے باسیوں کو اس قدر مفلوج اور بیکار نظامِ سیاست دیکھنے کو ملا جو انسانی ہمدردی کے جذبہ سے عاری اور یہاں کی سماجی روایات سے ناواقف ہے۔ قبل ازیں یہاں کی تمام صوبائی حکومتیں وسائل کی کمی کے باوجود نہایت فعال اور متحرک کردار ادا کرتی رہیں۔2010ء کے سیلاب میں اے این پی اور پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت کے دوران اگرچہ این جی اوز کے وسیع نیٹ ورک نے صوبائی حکومت کی معاونت سے ریلیف کی سرگرمیوں کو موثر انداز میں ریگولیٹ کرکے مصائب میں الجھے شہریوں کی دستگیری کی تھی؛ تاہم پرویز خٹک صاحب کی قیادت میں قائم پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت بھی نہایت مضبوط گورنمنٹ واقع ہوئی تھی جس نے سرکاری سسٹم کو بہتر بنانے کے علاوہ شہریوں کی مدد و رہنمائی کا فریضہ بخوبی سرانجام دیا لیکن موجودہ صوبائی حکومت کی بے عملی اور اپوزیشن کی سنگ دلانہ لاتعلقی نے ریاستی وجود اور سماجی رشتوںکو بے معنی بنا ڈالا ہے۔
حیران کن امر یہ ہے کہ ہمارے وہ انتظامی افسران‘ جو اپنے اختیارات اور مراعات کے حصول میں ہمہ وقت سرگرداں رہتے ہیں‘ انہیں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی ذرہ برابر پروا نہیں ، وہ اپنے وسیع علم اور لامحدود اختیارات کے باوجود انتظامی مقاصد، سماجی روایات اور سرکاری منصوبوں کے ساتھ پختہ کمٹمنٹ نہیں رکھتے‘ اس لئے وہ ناگہانی آفات اور غیر معمولی حالات سے نمٹنے کی تیاری کرنے کے بجائے سال بھر اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو بے مقصد کاموں میں کھپا دیتے ہیں۔ عمالِ حکومت کی یہی ذہنی فرسودگی ہماری سماجی مدافعت کو کند بنا دیتی ہے کیونکہ ترقی کوئی سیاسی چیز نہیں بلکہ یہ ماحول پہ زندگی کے بڑھتے ہوئے تصرف کا نام ہے۔ آفات سے نمٹنے کے ذمہ دار اداروں کے پاس مشکلات سے نبرد آزما ہونے کی کوئی منصوبہ بندی ہے نہ وہ آئینۂ ایام میں مستقبل کے حوادث کو دیکھ کے ایسے پیشگی انتظامات کر سکتے ہیں جن سے قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
جدید ریاستیں آفات کی تین اقسام میں درجہ بندی کرتی ہیں، قدرتی آفات، انسانی ساختہ آفات اور ہائبرڈ آفات۔ قدرتی آفات وہ تباہ کن واقعات ہوتے ہیں جو آتش فشاں پھٹنے ، طوفان، سیلاب اور زلزلے وغیرہ جیسی فطری عوامل کا نتیجہ ہوتے ہیں جن پر انسان کا براہِ راست کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ البتہ ریاستی اتھارٹی مشکلات سے قبل مناسب پیش بندی اور آفات کے دوران سماجی کارکنان کی حوصلہ افزائی کے ذریعے اخلاقی اصولوں کے مطابق انسانی ہمدردی کے جذبے سے معلومات کے تبادلے اور رضاکارانہ کارروائیوںکو مشترک و منظم کر کے نقصانات کو کم کر سکتی ہے مگر افسوس کہ ایسی سرگرمیاں ہماری انتظامی روایات کا حصہ نہیں بن سکیں۔ یہاں خیبر پختونخوا میں سیلابی ریلوں کی آمد سے قبل انتظامیہ دریائے سندھ سے ملحقہ نشیبی آبادیوں کا لازمی انخلا یقینی بنا کے نقصانات کو گھٹانے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ جب بلائیں سر پہ آن پہنچتی ہیں تب ہنگامی بنیادوں پہ انتقالِ آبادی کے عمل میں خواتین‘ بچوں اور مردوں کا وقار و احترام اور شرفِ آدمیت بھی سیلاب میں بہہ جاتا ہے۔ ایسے میں انتہائی کمزور افراد کے لئے ہنگامی امداد کی افادیت بھی صفر ہو کر رہ جاتی ہے۔
اگر آبپاشی ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ ادارے بڑے فلڈ چینلز اور ڈرینز کی ریگولر صفائی کرتے تو سیلابی ریلے کھڑی فصلوں اور آبادیوں کا رخ نہ کرتے لیکن عرصہ ہوا خود رو جھاڑیوں کی بدولت‘ تمام بڑے فلڈ چینلز بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا نقصان دو چند ہو گیا۔ عام طور پہ ایسی صورتِ حال میں زیادہ تر اموات ادویات، پینے کے صاف پانی اور خوراک کی عدم دستیابی و عدم فراہمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ہماری انتظامیہ کے پاس ڈیزاسٹر لائف سائیکل کا وہ نظام ہی موجود نہیں جس کے تحت وہ متاثرین کے لئے خوراک کا ذخیرہ مہیا کرنے کے علاوہ پانی اور ادویات کی متواتر سپلائی کا کوئی مربوط میکنزم فراہم کر سکے، حتیٰ کہ بارشوں اور سیلاب کے دنوں میں مچھروں کی بہتات اورتعفن سے پھیلنے والی ملیریا اور ہیضہ کی وبا کو روکنے کے انتظامات تک نہیں کئے جاتے۔ ضلعی اتھارٹی تباہی کے بعد متاثرین کو فوری اور مناسب مدد کی فراہمی یقینی بنانے اور تیز اور مؤثر بحالی کے حصول کی کوئی تیاریاں نہیں کرتی بلکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہنگامی حالات میں جنگی بنیادوں پہ کی جانے والی مدد کا بڑا حصہ بھی بددیانتی کی نذرہو جاتا ہے۔ ڈیزاسٹر لائف سائیکل ان اقدامات پر مشتمل ہوتا ہے جو ڈسٹرکٹ مینجمنٹ آفات سے نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی اور مشکلات کی لہروں کے سامنے ردعمل کے طور پر کرتی ہے۔ مشکلات کے ہر مرحلے میں اپنی تیاریوں سے منسلک رکھنے کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنر کی ہوتی ہے لیکن شاید اسے منصوبہ بندی کرنے، تمام متعلقہ اداروں سے کوآرڈی نیشن رکھنے اور موقع پر وسائل کی فراہمی کا فرض یاد نہیں ہوتا۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں