مڈل ایسٹ میں جنگ کے نئے کردار۔۔اسلم اعوان


عالمی منظرنامہ میں جوہری تبدیلی یہ آ رہی ہے کہ لیبیا سے لیکر ایران تک پھیلے پورے مڈل ایسٹ پہ محیط جنگووں کی آگ سے امریکی مقتدرہ اپنے قدم باہرنکال کے اس خطہ میں اسرائیلی بالادستی کی راہ ہموار بناتی نظر آتی ہے،کچھ دن قبل عرب امارت کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ اسی تغیر کی نمایاں علامت بنا۔عرب نیوز نے خبر دی ہے کہ یو اے ای نے لیبیا کے مشرقی علاقوں پہ قابض وارلارڈ،خلیفہ ہفتار،کواسلحہ کی جو نئی کھیپ روانہ کی اس میں پانچ سرائیل ساختہ (LYNX)راکٹ لانچر شامل ہیں،رپوٹ کے مطابق یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ عرب امارت نے لیبیا کے وارلارڈ کو اسرائیلی اسلحہ بھیجا،اس سے قبل بھی ابوظہبی نے جنرل ہفتار کو اسرائیل ساختہ ڈروان طیارے فراہم کرنے کے علاوہ یو اے ای نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے ایسی ڈیل بھی کی جسمیں جنرل ہفتار کی فوجی معاونت سمیت سنائپر رائفلز اور اندھیرے میں دیکھنے والے آلات کی فراہمی شامل تھی۔اسرائیل کی جانب سے خلیفہ ہفتار کی خفیہ مدد ملنے کی ایسی کئی رپوٹس منظر عام پہ آئیں جن میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج خلیفہ ہفتار کے سپاہیوںکو گلی کوچوں میں جنگ لڑنے کی تربیت دیتی رہی۔لیبیا میں برسرپیکار جنرل ہفتارکو یو اے ای، مصر،سعودی عرب اور روس کے علاوہ فرانس کی پشت پناہی حاصل ہے،متذکرہ مملکتیں لیبیا میں مرکز گریز ملشیا کے علاوہ کرایہ کے غیر ملکی فوجیوں کے گروپ ایل این اے کو اسلحہ اور فوجی امداد دیکر افراتفری بڑھا رہی ہیں۔تیل کی دولت سے مالامال لیبیا میں اگرچہ حریف دھڑوں نے 21 اگست کو جنگ بندی معاہدہ کر لیا تاہم تناو¿ اب بھی برقرار ہے،خدشہ ہے،اس معاہدہ پہ عمل درآمد نہیں ہو پائے گا۔یوروپی یونین کی کونسل آف انٹرنشنل ریلیشن نے اپنی رپوٹ میں تسلیم کیا، جب بھی جنگ بندی کی طرف پیشقدمی ہوئی ہفتار کی فورسیسز رات کی تاریکی میں حملے کر کے اسے سبوتاژ کر دیتی ہیں۔یوروپ کے بعد لیبیا کی شورش کے سب سے بھیانک اثرات مصری ریاست پہ مرتب ہوئے جسکی لیبیا سے منسلک گیارہ سو کلومیٹر صحرائی بارڈر کے علاوہ بن غازی کی بندرگاہ سے جڑا سستے تیل کی ترسیل کا پورا نظام غیر محفوظ ہو گیا۔مصر کے صدر سیسی کی ایما پہ منحرف جنرل نے بن غازی میں جہادی تحریکوں کو کچلنے کی مہم کا آغاز کیا جس سے اسے وسیع تر سیاسی اثر و رسوخ پانے کا موقعہ ملا،یہ مصر ہی تھا 2014 میں جس نے اپنی سرحدوں کے قریب آپریشن وقار شروع کرکے جنرل ہفتار کو فوجی و سفارتی مدد دی۔شدت پسندوں کے خلاف مہم کی بدولت مصر اور ہفتار کے مابین تعلقات تیزی سے بڑھتے گئے۔تاہم کچھ عرصہ قبل مصر نے محسوس کیا،جنرل ہفتار نے فرانس،روس اور متحدہ عرب امارات سے رابطے استوار کرنے کے بعد اسے پیچھے دھکیل دیا،انہی خدشات نے کہ جنرل ہفتار خود کو خطرناک حد تک طاقتور بنا رہا ہے، مصر کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے دیگر راستوں کی تلاش پر آمادہ کیا چنانچہ وہ لیبیا کی عالمی طور پہ تسلیم شدہ جی این اے حکومت کے وزیر اعظم فائزالسراج اور پارلیمنٹ کے اسپیکر اگیلا صالح کے مابین پاور شیئرنگ کا معاہدہ کراکے پچھلی منتخب حکومت کی بحالی کی ایسی سکیم پہ کام کرنے لگا جو ہفتار کو قانونی نظام کے اندر لانے کے علاوہ کم از کم اس وقت تک ریاست کو متحد رکھ سکتی تھی جب تک لیبیا میں الیکشن نہیں ہو جاتے،اس مقصد کے حصول کے لئے مصر نے افریقی یونین کی اپنے صدارتی اثرو رسوخ کو بروکار لانے کے علاوہ اقوام متحدہ کی قومی کانفرنس کو وسیلہ بنانے کی کوشش بھی کی لیکن جون2019 میں خلیفہ ہفتار نے طرابلس پہ چڑھائی کی مہم شروع کرتے وقت،ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے دشمن کے ساتھ،کا دھمکی آمیز حربہ استعمال کر کے ایک بار پھر مصر کو اپنے ساتھ ملا لیا۔یہ جنرل سیسی تھے جنہوں نے وائٹ ہاوس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کر کے انہیں خلیفہ ہفتار کو فون کرنے پہ قائل کیا جس کی وجہ سے جنرل ہفتار کو مضبوط ڈپلومیٹک کور مل گیا تاہم ترپلی کی السراج حکومت نے ترکی کے حامی ملیشیاوں کی مدد سے جنرل ہفتار کی طرابلس پہ یلغارکو ناکام بنا دیا۔متحدہ عرب امارات سمیت دیگر عرب ریاستیں کا مخمصہ یہ ہے کہ وہ ان شورشوںکو نمائندہ حکومتوں کے امکانی قیام کے تناظر میں دیکھتی ہیں‘بلاد عرب کی وہ جماعتیں جو کئی دہائیوں سے کسی نہ کسی صورت حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی آئیں اور جن کی اکثر اسلام کی طرف جھکاو¿ رکھنے کے باعث بھاری عوامی حمایت رکھتی ہے،وہ کسی نہ کسی دن بیلٹ بکس کے ذریعے اقتدار میں آسکتی ہیں،اماراتی رہنماو¿ں کو خوف ہے، پڑوسی ممالک میں بنیادی حقوق کی علمبردار اور عوامی نمائندگی کی مانگ کرنے والی سیاسی قوتوں کوکامیاب ملی تو یہی رجحانات ان کی سرحدات تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔2011 سے ابو ظہبی سمیت تمام عرب ریاستوں نے اسلام پسند سیاسی گروپوں،خاص طور پر اخوان المسلمون،کے خلاف جنگ کو اپنے آپ پہ فرض کر لیا، جس طرح انہوں نے سیسی کے مصر پر قبضہ کی حمایت کرکے مقبول سیاسی قیادت کو پسپا ہونے پہ مجبور کیا،اسی طرح وہ لیبیا میں بھی عوامی نمائندگی کی حامل حکومت کو اپنے اقتدار کے لئے خطرہ تصور کرتے ہوئے وہاں ہفتارآمریت کو دیکھنے کے متمنی ہیں بلکہ تمام عرب بادشاہتیں اس جدوجہد میں لیبیا کو مرکزی میدان عمل کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔تاہم لیبیا تنازعہ کے حوالہ سے یوروپ کے خدشات مختلف ہیں،چنانچہ لیبیا میں متضاد مفادات کے حامل غیر ملکی قوتوںکی تلویث نے تنازعہ کو لاینحل بنانے کے علاوہ وہاں سیاسی حل کی خاطر اقوام متحدہ کی مساعی کو نقصان پہنچایا۔تمام غیر ملکی کردار اپنے مو¿کل گروپوں کے لئے باہمی جنگ کو آسان بنانے کی خاطر انہیں مالی،ابلاغی اور فوجی مدد دیکر تنازعات کو بڑھانے میں سرگرداںہیں۔شام یا یمن کی طرح اس تنازعہ کو کسی پیچیدہ جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لئے یورپ کو لیبیا میں دیگر غیر ملکی اداکاروں کے کردار کو سمجھنا ہو گا۔اس طرح کی جنگ لیبیا کے ہمسایہ ممالک کو غیر مستحکم کرنے کے علاوہ براہ راست یورپی سیکیورٹی مفادات اور عالمی توانائی کے بازاروں کو نقصان پہنچا سکتی ہے،یورپی ممالک اس مسلہ کے حل کی راہ پر گامزن ہیں لیکن امریکہ اور روس جیسی بڑی طاقتیں لیبیا میں تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔اس مقصد کے حصول کی خاطر یورپی ممالک لیبیا میں برسرپیکار گروپوں کی پشت پناہی کرنے والے غیر ملکی اداکاروں کو غیر جانبدار بنانے کے علاوہ وہاں شفاف انتخابی عمل کے ذریعے منتخب حکومت کے قیام کے خواہشمند ہیں،اس لئے وہ لیبیا پر ایک جامع بین الاقوامی ورکنگ گروپ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کیونکہ خلیفہ ہفتار کی سربراہی میں طرابلس پر ایل این اے کی حالیہ یلغار نے لیبیا کو ایک ایسی شورش کی طرف دھکیل دیا جو یورپ کی جنوبی بارڈر پر دور رس پراکسی جنگووں کا محرک بن سکتی ہے۔اس لئے یورپی یونین کے ممبر ممالک کو اس شورش کو ملک گیر جنگ کی شکل میں ڈھلنے سے روکنے میں بھرپور دلچسپی ہے۔لہذا یہ بات نہایت اہم ہے کہ لیبیائی تشدد کی بین الاقوامی حرکیات کو یورپی باشندے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم اگر لیبیا میں بیرونی مداخلت جاری رہی تو یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی پاورشیئرنگ معاہدہ کے ذریعے بحران کے حل کی کوشش رائیگاں چلی جائے گی جس کے نتیجہ میں شامی نوعیت کا ایک پیچیدہ علاقائی بحران ہو گا۔ لیبیا میں علاقائی پراکسی جنگوں کے اجراء سے قبل یوروپی یونین کو فوری طور پرغیر ملکی اداکاروں کے کردار سے نمٹنے کی حکمت عملی وضع کر لینی چاہیے تھی،اب غیر ملکی کرداروںکی لیبیا میں خاطر خواہ سرمایہ کاری اس کام کو مشکل بنا رہی ہے۔خاص طور پر فرانس نے ہفتار کی حمایت کر کے مسائل کے حل کی راہیں مسدود بنا دیں۔ ماہرین کا خیال ہے اب بھی یورپی ممالک اس معاملہ میںمثبت پیش رفت کرسکتے ہیں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اسلحہ پابندی کو لیبیا پر نافذ کرنے اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو استعمال کرکے لیبیا میں بڑھتے ہوئے تشدد سے ہر ایک کے مفادات کو لاحق خطرے پر قابو پا سکتے ہیں۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں