گزشتہ سے پیوستہ ۔۔۔ قسط نمبر: 3 بعض لوگ ایسے شوخ …

گزشتہ سے پیوستہ ۔۔۔ قسط نمبر: 3
بعض لوگ ایسے شوخ چشمی آدمیوں پر ہنستے تھے او ر انہیں مضحکہ خیر قرار دیتے تھے۔ ایک لڑکاتھا جسے میں پسند کرتی تھی (جسے شاید بوائے فرینڈ کہا جا سکتا تھا) وہ بھی ایسے ہی قبیل کو لوگوں میں سے تھا۔ میرا اُس لڑکے سے تقریباً ایک سال تک عجیب سا رشتہ رہا۔ پہلے میں اُس سے منگل کی راتوں میں ملتی تھی، پھر ہم نے جمعرات کی راتوں میں ملنا شروع کر دیا۔ بہت جلد جمعرات کی راتیں، جمعہ اور ہفتے کی راتوں میں بدل گئیں اور اُس کے بعد ہفتے اور اتوار کی راتیں ہماری ہوتی چلی گئیں۔ کبھی کبھار ایسا لگتا تھا جیسے ہم ایک معقول رشتے میں ہیں اور ڈیٹ کر رہے ہیں، لیکن پھر احساسات بدلے سے محسوس ہوتے اور لگتا کہ ہم کسی بھی رشتے میں منسلک نہیں ہیں اور کوئی ڈیٹ نہیں کر رہے۔ اُس کے بعض جاننے والے ہمیں ایک ”مکمل جوڑے“ کے طور پر بھی دیکھتے تھے، لیکن زیادہ تر لوگوں کی نظر میں ہم بس ایسے تھے جو کبھی کبھار باقاعدہ طور پر مل تو لیتے ہیں لیکن ہمیں ”زوجین“ کا خطاب نہیں دیا جا سکتا۔ میں یہ چاہتی تھی کہ ہم علی الاعلان ایک روایتی جوڑے کی حیثیت اختیار کر لیں اور باضابطہ طور پر ایک ساتھ رہیں اور ڈیٹ کریں۔ اس چیز کا اظہار میں نے اپنے ”ممکنہ بوائے فرینڈ“ سے بھی کیا لیکن اُس نے انکار کر دیاکہ میں جذبات اور احساسات کے بارے میں گفتگو کرنے لگی ہوں۔ یہ بات تھی بھی سچ کہ وہ جذبات و احساسات کے بارے میں اتنی باتیں نہیں کرتا تھا جتنی میں کرتی تھی۔ پھر وہ رشتہ جب تک قائم رہا لاعلمی کے حصار میں ہی رہا، جہاں ہم اِس رشتے کو کوئی باقاعدہ نام نا دے پاتے تھے۔
جہاں تک بات ہے ”مردوں اور عورتوں“ کے علاقے کی، جہاں اِس بات کے بھی قوانین ہیں کہ عورت کیا کہہ سکتی اور کیا نہیں کہہ سکتی…میں نے تب بھی کچھ نا بولا جب گوالے نے دوڑتے ہوئے اپنی رفتار آہستہ کرنی شروع کر دی اور بالآخر خود بھی رک گیا اور مجھے بھی رکنے پر مجبور کیا۔ میں اِس انسان کو اپنے قریب بالکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ تب اُس نے میری چہل قدمی پر کچھ ایسا تبصرہ کیا اور میری خواہش تھی کہ کاش میں نے کبھی اُس کے منہ سے وہ الفاظ نا سنے ہوتے۔ اُس کا کہنا تھا کہ وہ میرے بارے میں فکرمند ہے اور وہ میری چہل قدمی اور دوڑ لگانے کے معاملے میں غیر یقینی اور بے اعتباری کی کیفیت کا شکار ہے۔ یہ کہتے ساتھ ہی، وہ کچھ اور کہے بنا پارک کے ایک کونے میں غائب ہو گیا۔ پہلے بھی وہ ایسے ہی شوخ چمکتی گاڑی میں ایک دم سے آ وارد ہو ا تھا…اور اس دفعہ بھی نجانے کہاں سے ایک دم سامنے آ گیا، میرے قریب ہوا، قیاس و گمان کیا، میرے چلنے اور دوڑنے پر فیصلہ صادر کیا اور یہ جا وہ جا۔
میں بہت زیادہ متوحش تھی۔ ٹھیک ہے، حیرت کا جھٹکا لگتا ہے، لیکن کسی ایسی بات پر صدمہ پہنچنا جو بہت عام، چھوٹی اور غیر اہم ہو انسان کا پورا اندر ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ صرف اِسی سراسیمگی کے جھٹکے کے باعث گھر پہنچ جانے کے بھی گھنٹوں بعد جاکر میں اس بارے میں سوچنے کے قابل ہوئی تھی کہ وہ دودھ والا میری نوکری سے بھی واقف ہے۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میں گوالے کے جانے کے بعد گھر تک کیسے پہنچی تھی۔ اُس کے جانے کے بعد میں نے دوڑ جاری رکھنے کی کوشش کی تھی تا کہ میں یہ ثابت کر سکوں کہ اُس دودھ والے کا کوئی وجود ہے ہی نہیں، یا اگر ہے بھی تو اُس کے وجود کا میرے لئے کوئی مطلب نہیں ہے۔ لیکن الجھن کا شکار ہونے کے باعث میں اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پا رہی تھی، میں زمین پر بکھرے ایک میگزین کے چمکیلے آب دار صفحات کے اوپر سے پھسل کر زمین پر گِر پڑی۔گرتے ہوئے میری نظر اُن دوہرے پھیلے ہوئے صفحات پر پڑی جس پر ایک عورت کی تصویر تھی جس کے لمبے، کالے اور بے ترتیب بال تھے۔ اُس نے اپنی رانوں تک لمبی جرابیں (stockings) اور سسپینڈر (Suspender) زیب تن کر رکھے تھے۔ ساتھ میں کوئی اور کالی اور فیتے دار چیز بھی تھی۔ وہ پیچھے کی جانب جھکتے ہوئے میری طرف دیکھ کر مسکر ا رہی تھی۔ مجھے اُسے دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے وہ میرے گرنے پر ہی مجھے طنزیہ اور مضحکہ خیز مسکراہٹ کا تحفہ دے رہی ہے۔
(جاری ہے)


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2898136093750238

جواب چھوڑیں