میرا ذہنی سفر: اینٹی (پاکستانی) سٹیٹ لبرلزم سے مارکسزم اور پرو سٹیٹ تک – عمیر فاروق

شائد قائداعظم ہی تھے جنہوں نے انگریزوں کے بارے میں کہا تھا کہ

“وہ جمود کا شکار رہتے ہیں تبدیلی سے گریزاں ، لیکن جب کوئی تبدیلی ناگریز ہوجایے تو اتنی ہی عقل اور سمجھ کا مظاہرہ کرتے ہیں جو کوئی بھی سمجھدار قوم کرسکتی ہے”

یہ جمود یا نظریاتی سٹریٹ جیکٹ صرف قوموں کا خاصہ نہیں عام افراد حتیٰ کہ انٹیلی جنشیا بھی اسکا شکار ہوتی ہے۔ یہ دراصل اپنے کمفرٹ زون کے اندر محفوظ رہنے کی کوشش ہوتی ہے اور انجان یا نئے سرے سے سوچنے کا خوف، نیز اس میں اپنے پچھلے نظریہ سے دستبرداری پہ شرمندگی کا خوف بھی شامل ہوتا ہے۔

لیکن اس کمفرٹ زون کو توڑ کر آؤٹ آف دا باکس سوچ ہی ترقی اور ارتقا کی ضامن ہے۔ عرصہ قبل برادر مجاہد خٹک نے ایک تحریر قلمبند کی تھی جس میں انہوں نے ایک اسلامسٹ سے آزاد خیالی کی طرف اپنے ذہنی سفر کی روداد بیان کی تھی۔ نیز وہ واقعہ بھی جو ایک جھٹکے کے ساتھ انکی نظریاتی دنیا تبدیل کرگیا۔

یہ تحریر پڑھنے کے بعد کئی بار سوچا کہ اپنے ذہنی سفر اور نظریاتی ارتقا کی داستان قلمبند کروں جہاں مجاہد بھائی ایک اسلامسٹ سے ترقی پسند آزاد خیالی کی طرف آئے وہاں یہ طالب علم ایک اینٹی (پاکستانی) سٹیٹ لبرلزم سے مارکسزم اور پرو سٹیٹ رجحانات کی طرف بڑھا۔

اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ راقم نے اپنے بچپن میں اپنے ذہنی سفر کا آغاز ضیائی مارشل لاء سے شدت کے ساتھ نفرت سے کیا۔ تب نام نہاد افغان جہاد جاری تھا اور میں آزادی کے دور سے اسٹیبلشمنٹ کے سوویت یونین کی بجائے امریکہ کی طرف جھکاؤ سے لیکر افغان جنگ میں ہمارے کردار تک، اسٹیبلشمنٹ کے سب فیصلوں کا سخت ناقد تھا۔ پابندی کے باعث ہماری براہ راست مارکسسٹ کیمونسٹ مواد تک رسائی تو نہ تھی لیکن جو چھن چھن کر پہنچتا تھا وہ کیمونزم کے سحر میں مبتلا کرنے کے لئے کافی تھا۔ کس طرح ترقی پذیر ممالک میں انہوں نے تعلیم کو انقلابی طور پہ پھیلایا، عورتوں کی تعلیم کی مخالفت سے لیکر ہر سماجی رجعت پسندانہ رویہ کو کس طرح بلڈوز کرکے تعلیم صحت اور روزگار کو عام کیا وغیرہ وغیرہ۔

سوویت یونین کا انہدام میرے لئے بھی ایک افسوسناک حادثہ ہی تھا مجھے یوں لگا کہ اتنے بڑے جالوت سے عوام کے لئے لڑتا داؤد بالآخر ہار گیا۔ نئی حقیقتیں سامنے تھیں امریکہ کا دنیا کی واحد سپرپاور بن جانا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا امریکہ کے مزید زیراثر آجانا یہ سب تکلیف دہ تھا۔ رفتہ رفتہ امریکی لبرلزم سے امیدیں تو وابستہ کرلیں، اس طرح پرو مارکسسٹ سے پرو لبرل ہوگیا۔ آدم سمتھ کے معاشی نظریہ کا قائل بھی لیکن اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں اور اسکے سیاسی کردار سے کبھی سمجھوتہ نہ کرسکا۔ میری نظر میں وہ شروع سے آج تک غلط جگہ پہ ہی کھڑی تھی۔ بینظیر کے مقابلے میں رجعت پسند سرمایہ دار نواز شریف کی حمایت بلکہ اسے سیاست میں متعارف کرانا اسکی کرپشن پہ انکی خاموشی بلکہ حمایت، یہ سب میری نظر میں ناقابل معافی جرائم تھے۔ ڈینگ سیاؤ پنگ کے بعد چین بھی وہ چیئرمین ماؤ والا چین محسوس نہ ہوتا تھا بلکہ اجنبی لگتا تھا جس سے کوئی امید وابستہ کرنا حماقت نظر آتی تھی۔
تاریکی کے اس عالم میں مغرب اور امریکہ ہی ترقی پسندی اور روشن خیالی کی امید کی کرن نظرآتا تھا کہ بالاخر اسکا سیاسی اثر مذہبی رجعت پسندی اور متشدد بنیاد پرستی کے خلاف مزاحمت کرکے اس سے نجات دلا سکتا ہے اس بارے میں بھی اسٹیبلشمنٹ کامنفی رویہ مزید برافروختگی کا باعث بنتا تھا۔
یہ نوے کی دہائی کا دور تھا جسکے اختتام پہ میں خود مغرب میں بطور طالب علم موجود تھا۔

نائن الیون کا حادثہ اس عالم میں ہوا کہ میں مغرب میں موجود تھا تب القاعدہ اور مذہبی بنیاد پرستی سے مزید برگشتہ ہوا کہ اس نے آخر مسلمان کو فائدہ کیا پہنچایا؟

اس کے بعد میڈرڈ بم دھماکوں میں ہسپانوی قوم نے ردعمل نے مزید شرمندہ کیا انہوں نے بجائے مسلمانوں کو برابھلا کہنے کے خود اپنی حکومت پہ تنقید کی کہ نہ وہ امریکہ کے دباؤ پہ اپنی فوج عراق وغیرہ بھیجتے اور نہ یہ جوابی ردعمل ہوتا۔
لیکن فکر کا سفر کبھی رکتا نہیں اگر فکر واقعی موجود ہو۔

رفتہ رفتہ مجھے امریکی رویہ پہ شکوک و شبہات پیدا ہونے شروع ہوئے۔ مثلاً آخر کیوں وہ مشرف کے مطالبہ کے برعکس بیک وقت القاعدہ اور طالبان کو نشانہ بنا رہے تھے جبکہ دہشت گردی تو صرف القاعدہ نے کی طالبان بنیاد پرست تھے لیکن اب تو حکومت ان سے چھن چکی تھی انکا سدباب تو صرف جوابی بیانیہ سے بھی ممکن تھا تو کیوں بیک وقت القاعدہ کے ساتھ انکو بھی نشانہ بنا کر جنگ اور اسکے مصارف بڑھائے جارہے تھے ؟ کیوں مشرف کی رائے نظرانداز کی جارہی تھی؟

اسی طرح جہاں اس جنگ پہ اربوں ڈالرز خرچ کئے جارہے تھے وہاں مشرف کی بارڈر پہ خاردار تار لگا کر اسے بند کرنے کی اپیل نظرانداز کی جارہی تھی؟ اسکی رائے صائب تھی اگر اسے تسلیم کرلیا جاتا تو یہ جنگ بہت کم خرچ پہ جیتی جاسکتی تھی۔

اور اس سے بھی زیادہ حیرانی افغانستان میں پاکستانی احتجاج کے باوجود انڈیا کو دھڑادھڑ کونسلیٹ کھولے دیے جانے پہ تھی، پاکستان تو اسکا فرنٹ لائن اتحادی تھا کیوں پاکستانی خدشات کو مسترد کرکے یہ کچھ کیا جارہا تھا اور ان کونسلیٹ کا امریکہ کو کیا فائدہ تھا؟ وغیرہ، بہت سے سوالات تھے جن کی بنا پہ امریکی نیت میں فتور محسوس ہونا شروع ہوگیا۔ یقیناً یہ کوئی نظریاتی جنگ ہرگز نہ تھی اب یہ سمجھ آنے لگا۔ کڑیاں ملتی گئیں۔ نوے کی دہائی میں امریکہ کا گوادر بندرگاہ اور اسے افغانستان سے منسلک کرنے کا پلان اور پھر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا منصوبہ پہ اثبات لیکن گوادر امریکہ معاہدے کے تحت بطور فوجی اڈہ دینے سے انکار۔ تو کیا یہ سب اسی کا تسلسل تھا؟ پاکستان نے امریکہ کو ہری جھنڈی تو دکھائی لیکن بعد میں مشرف نے سن ۲۰۰۰ میں جاکر چین سے اس کی تعمیر کا معاہدہ کرلیا۔

تو کیا یہ سب اسی کا تسلسل تھا؟ مجھے کھٹکنا شروع ہوگیا۔ پھر عالمی میڈیا سے بھی ایسے اشارے ملنے شروع ہوگئے۔ تب سے امریکہ سے بھی مایوسی ہوگئی۔ رہی سہی کسر اس وقت نکل گئی جب اپنے بھائی سے ایک رابطہ میں بات ہوئی۔ وہ ان دنوں امریکن ایڈ میں جاب کرتا تھا اس نے بتایا کہ امریکی پاکستانی میڈیا پہ بے تحاشا خرچ کررہے ہیں نامی صحافیوں کو بلاکسی شرم کے بائی نیم چیک جاری کئے جاتے ہیں اور کسی این جی او کا پردہ بھی اب روا نہیں رکھا جارہا۔ بقول اس کے ایجنڈا یہ ہے کہ ملک میں مایوسی پھیلائی جائے اور عوام کو بالخصوص فوج کے خلاف اکسایا جائے۔

تب اس امر میں کوئی شک باقی نہ رہا کہ امریکی لبرلزم آئیڈیلزم صرف دکھاوا ہے اصل کھیل کچھ اور ہے حیلے آج بھی وہی پرویزی ہیں۔

یہ وہ لمحہ تھا جس نے جھٹکے کے ساتھ میری آنکھیں کھول دیں سخت اور تلخ حقائق سامنے تھے انکو نظریاتی ہمدردی کی وجہ سے نظرانداز کرنا کم سے کم میرے بس سے باہر تھا۔ مجھے اپنا پچھلا سارا مقدمہ واپس لینا پڑا اور مجھے اس مراجعت پہ کوئی شرمندگی نہیں بلکہ فخر ہے میں سینہ تان کے کہہ سکتا ہوں کہ ہاں میں غلط تھا۔۔ آخر کتنے یہ کہنے کی جرات رکھتے ہیں؟

اب مجھے ازسر نو سب پہ غور کرنا پڑا تو سمجھ آتی گئی کہ اوّل تا آخر میں ہی غلط تھا اور اسٹیبلشمنٹ ماسوائے چھوٹی موٹی غلطیوں کے ابتدا سے ہی مجموعی طور پہ درست تھی۔ لیکن یہ سب جان لینے کے بعد نئے خدشات کے سانپ سر اٹھا رہے تھے۔ سلگتا ہوا سوال یہ تھا کہ آج تک تو اسٹیبلشمنٹ تنی ہوئی رسی پہ اس لئے کامیابی سے چلتی آئی کہ سرد جنگ کے دور میں طاقت کے توازن کے لئے امریکہ کی پاکستان ایک مجبوری رہا لیکن آج یک قطبی دور میں کیا بنے گا؟

کیا اب امریکہ گوادر کے معاملہ پہ پاکستانی سٹریٹیجک آزادی کو برداشت کرلے گا؟ اور کتنے دن تک ؟ کتنے دن مزید پاکستان کی دہری کھیل امریکہ کی نظر سے اوجھل رہے گی ؟ کیا ہوگا اگر پاکستانی ضد سے تنگ آکر امریکہ اپنے ہاتھوں کے دستانے اتار لے اور براہ راست حملہ کرے ؟ تب کیا ہم خود یا چین کے ساتھ مل کر بھی امریکہ کی عقربی فوجی طاقت کے مقابلہ کے اہل ہونگے؟

اس کا جواب میری نظر میں نفی تھا۔ سو یوں میں یہ رائے قائم کرنے پہ مجبور ہوا کہ گو آج تک ہم کامیابی سے نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے آئے لیکن اب اسٹیبلشمنٹ ملکی مفاد کے نام پہ آگ سے کھیل رہی تھی۔

یہ وہ حالات تھے جن میں نواب اکبر بگتی کا قتل ہوا۔ اگر یہ قتل کچھ عرصہ قبل ہوتا تو شائد میں آگ بگولہ ہوکر سراپا احتجاج بن جاتا لیکن اب معاملہ مختلف تھا۔ گوکہ نواب مرحوم سے ایک بار ملاقات ہوئی تھی جب وہ جمہوری وطن پارٹی کی تنظیم سازی کے لئے بہاولنگر آئے تھے تو تب میں زرداری کی وجہ سے پی پی سے مایوس ہوکر انکی طرف گیا لیکن انکے اندر کا جاگیردارانہ باجبروت قبائلی سردار دیکھ کر مایوسی ہوئی۔

بہرحال اب میں اسٹیبلشمنٹ کا باقاعدہ مخالف نہیں رہا تھا البتہ ناقد ضرور تھا جو میری رائے میں ملکی مفاد کے نام پہ آگ سے کھیل رہی تھی۔

وقت اپنے جلو میں تبدیلیاں لاتا رہا لیکن بڑا موڑ ۲۰۰۸ کے معاشی بحران میں آیا ہمارا لبرل تو کیا سوشلسٹ بھی اس پہ کم ہی بولا لیکن میرے لئے تکلیف دہ ترین بات یہ تھی کہ خود لبرلزم کے داعیوں نے بینکوں کو بیل آؤٹ کیا۔ لیہمن برادرز سٹی بینک و دیگر کو جب امریکی حکومت نے عوام کے پیسوں سے بیل آؤٹ کردیا تو لبرلزم کے پاس اخلاقی جواز ہی ختم ہوگیا۔ وہ جو لبرل تھیوری کے نام پہ ریاست کی عدم مداخلت کے سختی سے قائل تھے آج جب سرمایہ دار پہ زک پڑی تو اپنے سب اصول فراموش کرکے ریاستی مداخلت کی حمایت میں یک زبان ہوگئے۔ تو یہ لبرلزم سب زبانی جمع خرچ ہی تھا؟

کیا اب اس امر میں کوئی شک رہ گیا تھا کہ لبرلزم محض سرمایہ دار کے بھیانک چہرے کے لئے ایک نقاب ہی تھا؟

لیکن اس مجموعی تاریکی کی فضا کو پاکستان کی ایک پیش رفت نے توڑا ۔ اور وہ تھا سوات آپریشن. اس آپریشن نے ثابت کیا کہ جن طالبان کو امریکہ اپنی تمام تر طاقت کے باوجود زیر نہ کرسکا پاکستان نے انہیں زیر کر دکھایا۔ یہ فخر سے زیادہ طمانیت کا باعث تھی کیونکہ اب ملک خطرات سے عہدہ برآ ہونے کی اہلیت رکھتا نظر آرہا تھا۔

بہرحال یہ میرے ذہنی سفر اور مغالطوں کی داستان تھی جو دوستوں کے سامنے رکھی مجاہد بھائی کی طرح۔

یہ بھی پڑھیں: کیا اسٹیبلشمنٹ کا خلا پُر ہوسکتا ہے؟---------- مجاہد خٹک
اعلیٰ تعلیم کا نظام : نیو لبرل ازم حکمت عملی ------- شاہ برہمن

سیکولرزم: یہ جنگ آپ ہر حال میں ہار جائیں گے --------- جاوید احمد غامدی

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں