آج مجھے دوست "ل" ملنے آیا۔ ہم نے مل کر…

آج مجھے دوست "ل" ملنے آیا۔ ہم نے مل کر شاعر محمود درویش کی وہ نظم پڑھی جو "الآداب" میں شائع ہوئی ہے۔ نظم کی بعض فنکارانہ علامتیں ہماری سمجھ نہ آسکیں۔ میں نے اپنے دوست سے کہا: "ہم محمود درویش کی ان علامتوں کو اس کے ذاتی مسائل سے الگ کرکے نہیں دیکھ سکتے۔۔۔۔۔ یہ مسائل جو اس کی حقیقی زندگی میں درپیش ہیں، اور پھر اس کی زندگی کے تجربات، اور اپنے ماحول کے ساتھ اس کی کشمکش ۔۔۔۔۔ ہم کیسے اُسے سمجھ سکتے ہیں جب ہم شاعر کی زندگی اور اُس کے حالات اور نفسیاتی ساخت کے متعلق کچھ نہیں جانتے۔"
میرے دوست نے کہا: "لیکن ایک فنکارانہ عمل تو اپنے خالق کی شخصیت اور ماحول سے علیحدہ ہوتا ہے۔"
میں نے کہا : "ہم اس علیحدگی کا کیسے اعتبار کرسکتے ہیں جب ہمیں یہی معلوم نہ ہو کہ شاعر کی شخصیت کیا ہے، اس کے حالات اور مسائل کیا ہیں۔ ہم یہ سب کچھ جاننے کے بعد ہی تو کہہ سکیں گے کہ شاعر اپنے فن پارے میں کہاں تک اپنی ذات اور اپنے ماحول سے علیحدہ ہو سکا ہے۔ شاید تم ٹی-ایس -ایلیٹ کی اس رائے سے متاثر ہو کہ ایک فنکار اپنے فن میں اپنی ذات کا اظہار نہیں کرتا، بلکہ وہ اس سے اپنی ذات کو مٹانے کا کام لیتا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن ایلیٹ نے کچھ برس بعد اپنی اس رائے سے رجوع کرلیا تھا اور اسے اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا۔
ہمارے لئے زندگی کے خام تجربات کی واقفیت اشد ضروری ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ شاعر نے ان تجربات سے کیونکر کام لیا ہے اور اسے اپنی فنی عمل میں کس طرح برتا ہے۔۔۔۔ ہاں تو محمود درویش کی زندگی اور واقعات کو بھی اس کی شاعری سے گہرا تعلق ہے، اور اس کی نظم میں انسانیت کو جو گہرا شعور ملتا ہے، وہ اس کی زندگی کے تجربوں سے ہی تو پھوٹا ہے۔

*

فلسطین کی مشہور شاعرہ 'فدویٰ طوقان' کی ڈائری کا ایک ورق
مشمولہ: عربی ادب میں مطالعے، محمد کاظم، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2898397173724130

جواب چھوڑیں