غزل از سوداؔ مع مشکل الفاظ کے معانی نکل نہ چوکھٹ…

غزل از سوداؔ مع مشکل الفاظ کے معانی

نکل نہ چوکھٹ سے گھر کی پیارے، جو پٹ کے اوجھل ٹھٹک رہا ہے
سمٹ کے گھٹ سے ترے دَرَس کو نُیَن میں جی آ اٹک رہا ہے

اگن نے تیرے برہ کے جب سے بھلس دیا ہے مرا کلیجا
ہئیے کی دھڑکن میں کیا بتاؤں یہ کوئلا سا چٹک رہا ہے

مجھے پسینا جو مکھ پہ تیرے دکھائی دے ہے تو سوچتا ہوں
یہ کیوں کہ سورج کی جوت آگے ہر ایک تارا چھٹک رہا ہے

جنہوں کی چھاتی سے پار برچھی ہوئی ہے رن میں وہ سورما ہیں
پڑا وہ ساونت من میں جس کے برہ کا کانٹا کھٹک رہا ہے

ہلورے یوں لے نہ اوس کی بوند لگ کے پھولوں کی پنکھڑی سے
تمہارے کانوں میں جس طرح سے ہر ایک موتی مٹک رہا ہے

کہیں جو لگ چلنے ساتھ دیتا ہو اس طرح کا کٹر ہے پاپی
نہ جانوں پینڈے کی دھول ہوں میں جو مجھ سے پلّا جھٹک رہا ہے

کبھو لگا ہے نہ آتے جاتے جو بیٹھ کر ٹُک اُسے نکالوں
سجن جو کانٹا ہے تجھ گلی کا تو پگ سے میرے پھٹک رہا ہے

کوئی جو مجھ سے یہ پوچھتا ہووے کیوں تُو روتا ہے کہہ تو ہم سے
ہر ایک آنسو مرے نَیَن کا جگہ جگہ سر پٹک رہا ہے

گُنی ہو کیسا ہی دھیان جس کا ترے گُنوں سے لگا ہے پیارے
گیان پربت بھی ہے جو اُس کا تو چھوڑ اُس کو سٹک رہا ہے

جو باٹ ملنے کی ہووے اُس کا پتا بتا دو مجھے سریجن
تمہاری بَٹیوں میں آج برسوں سے یہ بٹوہی بھٹک رہا ہے

جو میں نے سودا سے جا کے پوچھا تجھے کچھ اپنے ہے من کی سدھ بدھ
یہ رو کے مجھ سے کہا کسی کی لٹک میں لٹ کے لٹک رہا ہے

(مرزا رفیع سودا)
فرہنگ
پٹ = دروازے کا ایک حصہ، دروازے کا ایک پٹ
دَرَس کو = درشن ، دیکھنے کو، دیکھنے کے لئے
نُیَن = آنکھیں، نیناں
اگن= آگ
برہ = جدائی
بھلس دیا = جلا دیا
ہئیے = دل، ہمت و حوصلہ مراد ہے
مکھ = چہرہ
جوت = روشنی
رن = میدانِ جنگ
ہلورے = ہلکے ہلکے جھولنا
پینڈے کی دھول = سفر کی دھول
پگ = پاؤں
گُنی = جس میں بہت سارے گن یعنی خوبیاں ہوں
گیان= دھیان
پربت = پہاڑ
گیان پربت = پہاڑ ایسا دھیان یعنی انتہائی خوش و خضوع
سٹک رہا ہے = کھسک رہا ہے، فرار ہو رہا ہے
باٹ = راستہ
سریجن = خوبصورت، بناؤ سنگھار کرنے والی
بَٹیوں = رستوں
بٹوہی = مسافر
من = دل
سدھ بدھ = ہوش
لٹک = زلف

جواب چھوڑیں