~ آزادی کی آزردگی ~ تم اپنے آنکھوں کی بینائی گنوا…

~ آزادی کی آزردگی ~

تم اپنے آنکھوں کی بینائی گنواتے ہو
اپنے دمکتے ہاتھوں کو مزدور بناتے ہو
اُن درجنوں روٹیوں کا آٹا گوندھتے ہو
جن میں سے ایک نوالا بھی نہ چَکھ پاو
تُم آزاد ہو ،
دوسروں کے غلام بننے کو
امُراء کو اور امیر کرنے کو،
تُم آزاد ہو

وہ جس لمحے کو تُم جنم لیتے ہو
تُمھارے گرد وہ کارخانے لگاتے ہیں
جن کی چکیوں میں فریب پستا ہے
فریب اتنے کہ
عمر بھر کھانے کو کم نہ پڑیں
تُم اپنی اس عظیم آزادی میں سوچتے ہو
انگلیوں پہ اپنی سجدہ گاہ لئے
ایک آزاد سوچ رکھنے کو
تُم آزاد ہو

تُمھارے یہ نیم جُھکے سر ،
جو گردن سے کٹے ہوئے لگتے ہیں
اور اپنے لمبے ، لٹکتے دونوں ہاتھ لئے
اپنی اس عظیم آزادی میں جھومتے ہو
تُم آزاد ہو، غمِ روزگار سے
تُم آزاد ہو

تُم اپنے وطن سے مُحبت کرتے ہو
جیسے یہ تُمھارا سب سے قیمتی سرمایہ ہو
مگر ایک دن، مثلاً
وہ امریکہ کے حمایتی بن جائیں
اور تُم بھی،
اپنی اس عظیم آزادی کے ہمراہ
ایک فوجی ہوائی اڈا بننے کو
تُم آزاد ہو

تُم یہ منادی کرتے پھرو
کسی کو ایک آلے ،
عدد یا واسطے کے طور پر نہیں
بلکہ ایک انسان کے طور پر رہنا چاہئے
لیکن وہ تمُھیں یکدم ہتھکڑیاں پہنا دیں
گرفتاری، قید یا پھانسی لگ جانے کو ،
تم آزاد ہو

لوہے ،لکڑی یا ریشم کا
کوئی ایسا پردہ نہیں
جس نے تُمھاری زندگی کو
ڈھانک رکھا ہو
آزادی مُنتخب کرنے کی
کوئی ضرورت نہیں
تُم آزاد ہو
مگر اس قسم کی آزادی
ستاروں تلے آزردگی ہی ہے۔۔

ترجُمہ : نودخان
شاعر : ناظم حکمت
تُرک سے انگریزی ترجُمہ : ٹیئنر بے بارز

~ A Sad State Of Freedom ~

You waste the attention of your eyes,
the glittering labour of your hands,
and knead the dough enough for dozens of loaves
of which you'll taste not a morsel;
you are free to slave for others–
you are free to make the rich richer.

The moment you're born
they plant around you
mills that grind lies
lies to last you a lifetime.
You keep thinking in your great freedom
a finger on your temple
free to have a free conscience.

Your head bent as if half-cut from the nape,
your arms long, hanging,
your saunter about in your great freedom:
you're free
with the freedom of being unemployed.

You love your country
as the nearest, most precious thing to you.
But one day, for example,
they may endorse it over to America,
and you, too, with your great freedom–
you have the freedom to become an air-base.

You may proclaim that one must live
not as a tool, a number or a link
but as a human being–
then at once they handcuff your wrists.
You are free to be arrested, imprisoned
and even hanged.

There's neither an iron, wooden
nor a tulle curtain
in your life;
there's no need to choose freedom:
you are free.
But this kind of freedom
is a sad affair under the stars.

Poem By Nazim Hikmet
English by Taner Baybars
Urdu by Nod Khan

Photo : Edvard Munch –
Melancholy


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2906448639585650

جواب چھوڑیں