عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)افسانہ نمب…

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 338 : سیب
تحریر : جوسِپ نووا کو وِچ (کینیڈا)
مترجم : نجم الدّین احمد (بہاولنگر)
سرما کی بے برفباری کی ایک صبح سکول جانے سے قبل میں نے اپنے والد کی لکڑی کی خراد کی دُکان سے ٹوکریوں میں بُرادہ بھر کے باہر صحن میں اخروٹ کے درخت کے قریب لے جا کر ڈال دیا۔ دُکان میں گول آرا چل رہا تھا لیکن مجھے میرا والد اُس کے عقب میں دکھائی نہیں دیا۔ وہ مجھے لکڑی کے تختوں کے عقب میں سجدے میں جھکا عبادت کرتا ہُوا ملا۔ میں اُس کے عبادت کرنے سے خوف زدہ ہوگیا۔
اُسی شب کافی رات بیتنے پر والد نے گرم دودھ پیتے اور سیاہ ڈبل روٹی چباتے ہُوئے ہماری دادی کو بتایا کہ اُنھوں نے کسی کو اُسے پکارتے سنا… بالکل ویسے ہی جیسے سیموئیل کو پکارا کیا گیا تھا… لیکن اُنھیں کوئی دکھائی نہیں دیا۔ خدا کا فرشتہ اُسے عبادت کے لیے کہ رہا تھا۔ اُسی سہ پہر اُنھوں نے محسوس کیا جیسے کسی نے اُن کا کندھا چھؤا ہے لیکن جب اردگرد دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ اُنھیں تقویت دینے کے لیے خدا کا کوئی فرشتہ وہاں موجود تھا۔
دادی نے کہا کہ اُسے یہ سُن کر خوشی ہُوئی اور پھر وہ کھانسنے لگی ۔ جب وہ کھانس نہ پائیں تو اُن کے حلق سے کھانسی کو دھیما کرنے کے لیے ہلکی اور تیکھی کھؤں کھؤں نکلنے لگی جسے میں نے اپنے والد کی کہانیوں سے زیادہ سنا کہ وہ ساری رات ہوتی رہی تھی۔
اگلے روز والد پورے قصبے میں گھوم پھر کر یسوع کے نام پر سب سے اپنے دانستہ، نادانستہ غلط کاموں کی معافی مانگتے رہے۔ اُنھوں نے اپنے ایک سابقہ مددگار کو، جس کی اب اپنی ذاتی دکان تھی، گائے کی کھالوں کی دو گانٹھیں دے دیں کیوں کہ اُس سے پہلے والد نے مددگار کے نئے نئے کاروبار کو برباد کرنے کی خاطر اُسے خراب کھالوں کی ایک گانٹھ دی تھی۔
والد ایک عجیب و غریب کسان کو گھر لا کراچھی خاصی رقم لینے پر مجبور کرتے رہے کیوںکہ کئی سال پہلے انہوں نے اُسے لکڑی سستے داموں بیچنے پر مجبور کیا تھا… کسان روپڑا تھا کہ اِس قدر ناکافی رقم میں اُس کا اور اُس کے بچّوں کا سرمامیں گذر بسر نہیں ہوسکتا لیکن میرے والد پر اس کے رونے دھونے کا کوئی اثر نہیں ہُوا تھا۔
اگلے اتوار اگرچہ میرے والد کی ہمارے اصطباغی گرجا گھر میں تبلیغ تھی لیکن میں بیزار ہو کر اپنے انگوٹھے کے ناخن سے نرم بینچ کی لکڑی میں کھرونچیں ڈالنے لگا۔ ہر کھرونچ ایک سال کو ظاہر کرتی تھی… کہ خطبہ کتنا طویل لگا تھا۔ میں نے انجیل میں چھپا کر چوری چھپے ’’زمین کے مرکز کا سفر‘‘ کا ایک باب بھی پڑھ ڈالا۔ میرے پیچھے بیٹھے اور ہمارے دُور کے ایک رشتے دار نے مجھے تھپتھپاکر منع بھی کیا۔ میرے والد بتا رہے تھے کہ یسوع نے صلیب پر اپنی جان دی اور وہ خطبے کے بیچ ہی میں رونے لگے۔
والد نے طائفے کے ساتھ دھیمے سُروں میں عبادت کا گیت گایا۔ اُن کی آواز گرجے کی بھجن منڈلی میں سب سے پُر سوز تھی۔ جب وہ گھر میں چِلّاتے تو بِلّی سمیت گھر کے اہل خانہ بھاگ کر صحن میں نکل جاتے تھے۔ اگر ایک دن شیو نہ بناتے تو ان کی ٹھوڑی سیاہ پڑ جاتی۔ اپنے ریتی جیسے گال میرے گالوں سے رگڑتے اور ہنسنے لگتے… اگر وہ زیادہ زور سے رگڑتے تو میری جلد چھیل ڈالتے۔ اب وہی شخص ایک سو سے زاید لوگوں کے سامنے رورہا تھا۔ مجھے شرم آنے لگی۔
لیکن گھر پہنچ کر اُنھوں نے مجھے کہا جیسے وہ جان گئے ہوں کہ میں شرمندگی محسوس کررہا تھا۔ ’’ اگر تم بھی خدا کی عظمت جان جائو تو تم بھی رونے لگو۔ وہ مجھے باہر اماوس رات میں لے گئے اور چہار سُو پھیلے اندھیرے میں سیب کی خوشبو والے باغ سے دُھند میں دمکتے ستاروں کی طرف اشارہ کیا۔ ’’دیکھو، خدا نے ستاروں کو تخلیق کیا۔ ہم تک اُن کی روشنی پہنچنے میں لاکھوں برس لگتے ہیں اور خدا کی صناعی زمان و مکان سے بالا تر ہر جگہ موجود ہے۔ خدا کی قدرت یہاں ہمارے ساتھ بھی ہے۔‘‘
’’میں اسے محسوس نہیں کرسکتا۔‘‘ میں بولا۔
’’تم خوش قسمت ہو کہ تم اِسے محسوس نہیں کرسکتے۔ موسیٰؑ نے محض خدا کے نور کی ایک جھلک اپنے عقب سے گذرتی دیکھی۔ ہم اگر بس اِتنی سی جھلک بھی دیکھ تو مرجائیں۔ تم خدا کا قرب نہیںپا سکتے اور زندہ رہتے ہو!‘‘
وہ چھے جنوری تھی اور باہر برف کا ترچھے رُخ کا طوفان آیا ہوا تھا۔ میںنے کھڑکی سے باہر دیکھ کر سو چا کہ گھر کی چیزیں تیرتی ہُوئی جنت کی طرف رواں دواں ہیں۔ برف کے بڑے بڑے ڈھیلے مردہ آسمانی پرندے سے مشابہ دکھائی دے رہے تھے جس کے پروں نے تمام وادی کو ڈھانپ لیا ہو اور کبھی کبھار اُس کے پر پھڑپھڑارہے ہوں کیوں کہ تیز ہوا چل رہی تھی۔ برف زمین پر گرتے ہی پگھل جاتی۔
ایک روز خراد میں کام کے بعد والد سنجیدہ اور روشن چہرہ لیے نشست گاہ میں داخل ہُوئے۔آئیوومزاحیہ کتب پڑھا کرتا تھا۔ والد نے اُسے کہا۔ ’’کاٹھ کباڑ پڑھ کر خدا کی نافرمانی مت کرو۔ تم بائبل کیوں نہیں پڑھتے؟ یا پھر اپنی ریاضی کی کتاب؟‘‘
’’مجھے ایسا محسوس نہیں ہوتا۔‘‘ آئیوو بولا۔
مٹّی کے بڑے چولہے پر سوئی ہُوئی بِلّی نے اُٹھ کر انگڑائی لی اور پلکیں چھپکاتے ہُوئے اپنی پتلیاں کھینچ کر آنکھوں کے شگاف عمودی کرلیے۔ اُس کی دُم یوں مُڑگئی جیسے وہ ڈرگئی ہو کہ والد اُسے مارے گا۔ وہ چھلانگ لگا کر چولہے سے اُتر گئی۔ عام طور پر وہ دوڑتی ہُوئی آکر اُن کی گود میں چڑھ جاتی تھی۔ اب وہ میرے قریب رکھی کرسی پر پڑی انجیلپہر بیٹھ کر اپنے نیچے چاٹتے ہُوئے اُنھیں بے اعتباری سے دیکھ رہی تھی۔
’’اور تم۔‘‘ وہ مجھ سے مخاطب ہُوئے۔ ’’تم اِس نجس جانور کو انجیلِ مقدّس پر بیٹھنے کی اجازت کیسے دے سکتے ہو؟‘‘ اُنھوں نے اپنے سوال پر زور دے کر پوچھا۔ بِلّی اپنا بدن موڑ کر دم کا سِرا چاٹنے لگی ۔ میں نے اُسے اُس سیاہ جلد والی کتاب سے بھگا دیا۔ ماں کے دھیمے، وزنی قدموں کی گُونج برآمدے میں سنائی دی جو فرش پر بلند ہوتی چلی گئی۔ وہ پھُولی ہُوئی سانس کے ساتھ لکڑیوں کی ٹوکری بھر کے لائی تھیں اور چولہے کے سامنے جھک کر اپنی اُنگلیوں سے راکھ میں چھپے ننھے ننھے انگارے اتنی تیزی سے کرید نے لگی کہ جس سے وہ کبھی جلی نہیں تھیں ۔ اُن کا یہ فعل مجھے ہمیشہ پریشان کردیا کرتا تھا۔
’’بیٹو، تم اپنی ماں کو لکڑیاں کیوں لانے دیتے ہو؟ تم اِس کی مدد کیوں نہیں کرتے؟‘‘
ہم نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اُنھوں نے مجھے مخاطب کیا۔ ’’یوزو، مجھے پرچھتّی سے ایک سیب لاکر دو۔‘‘
میں لکڑی کی سالخوردہ چرچراتی ہُوئی سیڑھیوں سے پرچھتّی پر گیا۔ فلیش لائٹ کام نہیں کررہی تھی اور اندھیرے سے ڈر لگ رہا تھا۔ مجھے پرچھتّی کا بخوبی پتا تھا لہٰذا میں نے سیب ڈھونڈ لیے اور اپنے انگوٹھے سے دباکر ایک بڑا سیب لیا جو نہ زیادہ سخت اور نہ نرم بلکہ خستہ تھا۔ اپنے بڑے سے ہاتھ میں مجھ سے سیب لیتے ہُوئے وہ بولے۔ ’’مجھے علم نہیں تھا کہ ہمارے پاس اتنے خوبصورت سیب ہیں… تم یقینا انتخاب کرسکتے ہو۔مجھے توقع ہے کہ تم اپنی بیوی کا انتخاب بھی اِسی خوبی سے کروگے۔ لہٰذا تم دُوسری عورتوں کی تانک جھانک نہیں کروگے اور گناہ سے بچ جائو گے۔ ہَم، حسین عورت سے زیادہ اِس دنیا میں سرورانگیز کوئی شے نہیں۔‘‘
میری ماں بولی ۔ ’’بچّوں سے بات کرنے کا یہ طریقہ درست نہیں!‘‘ اُنھوں نے جواب دیا۔ ’’یہی درست طریقہ ہے۔ کیا میں کبھی کئی زبانوں میں بات کرسکوں گا؟ میںنے اُن سے پوچھا۔ ’’وہ کرسکتا ہے…‘‘ میں نے آئیوو کی سمت اشارہ کیا… ’’اگرچہ وہ کاٹھ کباڑ پڑھتا ہے!‘‘
’’اگرچہ میں انسانوں اور فرشتوں کی زبان میں باتیں کرسکتا ہوں لیکن مجھ میں رحم دِلی نہیں۔ میں ایک بجتے ہُوئے مجیرے کی طرح ہوگیا ہوں۔ٹھیک ہے میرے پاس پیش گوئی صلاحیت ہے اور میں تمام اسرار سمجھتا ہوں… اور اگرچہ میرا ایمان کامل ہے اِس لیے میں پہاڑوں کو بھی ہلا سکتا ہوں لیکن میں نرم دل نہیں ہوں۔ میں بے حقیقت ہوں۔ زبانوں کے بارے میں پریشان مت ہو،میرے بیٹے۔‘‘
’’لیکن اگر میں زبانیں بول سکا تو مجھے یقین ہے کہ میں جنت میں جائوں گا۔‘‘
’’جو اپنی زندگی بچانا چاہتا ہے کھودیتا ہے اور جو اِسے میری خاطر قربان کرتا ہے زندگی پالیتا ہے۔ نجات کے بارے میں پریشان مت ہو۔‘‘
وہ بہت دیر تک میری طرف دیکھتے رہے۔ پھر اُنھوں نے اپنے دانت سیب میں گاڑ دیے جن میں سے کچھ سونے کے بنے تھے۔ سیب چباتے ہُوئے اُن کی سُرمئی مونچھیں پھل کے سرخ چھلکے پر برش کی طرح پھیلی ہُوئی تھیں۔ میرے مُنھ میں یوں پانی بھر آیا جیسے وہ لیموں کھا رہے ہوں۔ اُنھوں نے آہستہ آہستہ آدھا کھایا اور باقی رکابی میں رکھ دیا۔ جلد ہی سیب کے شفاف سفید حصے پر بھُوری دُھند اُتر آئی۔ اچانک ہی اُن کا رنگ پھیکا پڑگیا کے راکھ جیسا سرمئی ہوگیا۔ وہ بولے۔ ’’میں ٹھیک محسوس نہیں کررہا۔‘‘
’’آئو پھر ہم ڈاکٹر کے پاس چلیں۔‘‘ ماں نے کہا۔
’’نہیں، میں وہاں نہیں جانا چاہتا۔‘‘
’’میں جاکر اُسے لے آئوں؟‘‘
’’نہیں، اگر خدا نے چاہا تو صبح وہاں جائو۔‘‘
’’تم عجیب عجیب باتیں کررہے ہو۔ مجھے جانے دو۔‘‘
نہیں، کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے… ہر کام خدا کی منشاء کے مطابق ہوگا۔‘‘
میری ماں اُن کی گفتگو سے خوش نظر نہیں آتی تھی۔ وہ خواب گاہ میں چلی گئی۔ نشست گاہ سے راہداری میں جاتے ہُوئے وہ دیر تک غمزدہ انداز میں آئیوو کو دیکھتے رہے جو مزاحیہ کتابیں پڑھنے میں لگا ہُوا تھا اور پھر مجھے دیکھا جیسے میں نے کفر کے کلمات کہہ دیے ہوں۔ اُنھوں نے آہستگی سے دروازہ بند کیا۔
میں نے ’’پیرس کے اسرار‘‘ میں شرابیوں اور آوارہ گردوں کے بارے میں پڑھا کہ وہ تہہ خانے میں اتنی پی لیتے ہیں کہ گانے لگتے ہیں اور اُنھیں اپنی اِس حرکت کا ادراک تک نہیں ہوتا۔ مجھے نیند آگئی۔ کتاب میرے ہاتھوں سے پھسل کر ایک طرف گرگئی۔
خاصی رات گذرنے پر میں نے ایک چیخ سنی۔ آئیوو مجھے بُری طرح جھنجھوڑ رہا تھا۔ ’’والد صاحب مررہے ہیں!‘‘ وہ چلاّیا۔
کمرے میں گھور اندھیرا تھا۔ میں اُچھل کر بستر سے نکلااور ہم دونوں اپنے والدین کے کمرے کی طرف دوڑے۔ ’’ماں کہاں ہے؟‘‘
’’وہ ڈاکٹر کو لینے گئی ہے۔‘‘
نائٹ بلب کی کمزور روشنی والد کے چہرے پر زر د رنگ پھیلا رہی تھی۔ جب کہ کمرے کے کونوں میں اندھیرا تھا۔ دومسہریوں کو جوڑ کر بنائے گئے متاہلانہ پلنگ پر وہ اپنا پٹی دار نیلا اور سرمئی پائجاما پہنے لیٹے تھے۔ پائجاما کی کھلے بٹنوں والی قمیص سے اُن کی چھاتی کے سرمئی بال باہر نکلے ہُوئے تھے۔ وہ تکیے پر گرے ہُوئے تھے۔ اُن کی آنکھیں بند اور اُن کے حلق سے خرخراہٹوں بھری سانس سست روی سے چل رہی تھی۔ پلنگ کے اُوپر لکڑی کے چوکھٹے میں ایک فوٹو جڑا تھا: وہ… اپنی فوجی وردی… اورمیری ماں شادی کا جوڑا پہنے ،گال سے گال لگائے ہُوئے تھے۔ دونوں خوبصورت اور سنجیدہ لگ رہے تھے۔
وہ سانس کچھ کھینچ کھینچ کر لے رہے تھے جو قدرے خراٹے دار تھی۔ اُن کا چہرہ پیلا پڑا ہُوا تھا اور اُس روز شیو نہ کرنے کی وجہ سے ٹھوڑی نیلی اور سرمئی ہو رہی تھی۔ آئیوو اور میں اتنے خوف زدہ تھے کہ ہم اُن کے بستر کے قریب نہیں گئے بلکہ ہم بستر کے اُس طرف چلے گئے جہاں ہماری ماں سوتی تھی۔ ہمارے ذہن میں جو دعائیں آتی گئیںہم چیخ چیخ کر پڑھنے لگے کہ ہمارا آسمانی باپ ہمارے زمینی باپ کو زندہ رہنے دے۔ ہمیں دعائیں مانگتے وقت آنکھیں بند رکھنا سکھائی گئی تھیں۔ اِس لیے میں کبھی آنکھیں بند کرکے دعائیں کرنے لگتاتو کبھی اُنھیں کھول کر والد کی حالت دیکھنے لگتا ۔ اُن کے حلق سے خر خر کی آواز یں یوں نکل رہی تھیں جیسے وہ غرارے کررہے ہوں۔ اُن کے مُنھ سے سفید جھاگ نکل مُنھ کے ایک کنارے سے نیچے ٹھوڑی پر بہنے لگی۔ ہم چِلّانے لگے۔
’’خدایا، اِنھیں موت نہ دے!‘‘ میں پکارا۔
’’خدا یا، اِنھیں اپنی منشاء سے زندہ رکھ۔ ہم تیری مرضی بدل نہیں سکتے۔ لیکن اِن کی زندگی اپنی منشاء بنالے اگر …‘‘ آئیوو چیخا۔
ہمارے والد کے مُنھ سے خون کا ایک قطرہ نکل کے مونچھوں سے ہوتا ہُوا ٹھوڑی پر آیا اور اُن کی چھاتی کے بالوں میں گر گیا ۔ اُنھوں نے ایک خوب طویل سانس لیا اور وہ دوسرا سانس نہیں لے سکے۔ جب اُن کا بدن سکون میں آیا تو اُن کے مُنھ سے ایک اَور سانس اور ہونٹوں کے کناروں سے سرخ جھاگ نکلی ۔ اُن کا سر آگے کی طرف جھک گیا۔ آئیوو اور میں نے جھپٹ کر اُن کے بایاں کا ہاتھ پکڑا۔ اُنھوں نے ہمیں نبض دیکھنا اِس امید پر سکھار کھا تھا کہ ہم ڈاکٹر بن کر دِل کی بیماریوں کا علاج کریں۔ میں نے آئیوو کی اُنگلیوں کو پرے ہٹایا تاکہ میں نبض دیکھ سکوں اور اُس نے خود نبض دیکھنے کے لیے میری اُنگلیاں پر ے دھکیلیں۔ نبض نہیں تھی۔ اُن کا ہاتھ سرد اور سُوجا ہُوا تھا۔ آئیوو نے سبز پڑے چہرے کے ساتھ بستر کے خالی حصّے پر گھٹنے ٹکاتے ہُوئے اپنی ہتھیلی والد کے سینے پر رکھی۔
’’کچھ نہیں ہے! ان کا دل رُک گیا ہے! وہ چیخ کر بولا ۔یہ ختم ہوگئے۔
گہری بھوری الماری میں محفوظ کی ہُوئی چیریوں اور سیاہ رَس بھریوں (blackberry: اردو میں آنچھو بھی کہتے ہیں۔ مترجم)کے قریب لگے گھڑیال کی طرف میں نے دیکھا… جس کے نخود جھولتے ہُوئے ترچھے ہورہے تھے۔ گھڑیال کی بڑی سوئی نے چھوئی کو ڈھانپ رکھا تھا۔
’’آدھی رات۔‘‘ میں نے بلند آواز میں چِلّا کر کہا۔ ’’مہینے کی چھے اور سات تاریخ کی درمیانی رات ! کیا چھے انسان کا اور سات کا ہندسہ خدا کا نہیں؟‘‘
’’ہاں ! ہاں! اِس کا مطلب ہے کہ وہ خدا کے پاس چلے گئے ہیں۔‘‘ آئیوو بولا۔ ’’یہ ایک علامت ہے۔‘‘ ہم اُن کے چہرے کو گھورتے رہے جس پر کوئی تأثر نہیں تھا: خوشی کا نہ غمی کا ، سکون کا نہ اضطراب کا۔ لگتا تھا جیسے وہ آنکھیں بند کیے، ایک ایسی تصویر کی مانند جس کے کان اور آنکھیں دکھائی نہیں دیتے، بغور کچھ سُن رہے ہوں۔
آئیوو بولا۔ ’’دیکھو!‘‘ اُس نے کاغذ کے ایک ٹکڑے کی جانب اشارہ کیا… اُس پر نیلی روشنائی میں والد کے ہاتھ سے لکھا ہُوا تھا۔ ’’اپنے آخری وقت میں جب ماں ڈاکٹر لانے جا چکی تھیں، اُنھوں نے مجھے بلایا اور مجھ سے کاغذ مانگا۔ اُنھوں نے پرُسکون انداز میں اپنی وصیت تحریر کی۔ دیکھو!اُن کا خط عام حالات کے خط سے مختلف نہیں ہے… بس پڑھ لو۔ اُن کا ذہن کتنا صاف تھا!‘‘
’’پھر اُنھوں نے کہا۔ ’دیکھو! میں جلد موت سے ہمکنار ہو جائوں گا۔ اپنے دل کی تمام تر گہرائیوں، دماغ اور رُوح سے خدا سے محبت کرنا مت بھولنا اور یہ کہ جو بھی آتا ہے اُسی کی طرف سے آتا ہے۔ آئو دعا کریں۔‘ ہم دعا مانگنے لگے۔ اُنھوں نے اپنے علاوہ سب کے لیے دعا کی۔ پھر اُنھوں نے خاموش ہو کر آنکھیں بند کرلیں اور بھاری بھاری سانس لینے لگے۔ میں اونچی آواز میں اُن کے لیے خدا سے دعا کرنے لگا۔ اُنھوں نے اپنی آنکھیں کھول کر کہا۔ ’میرے لیے نہیں، اپنے لیے دعا کرو! تم زمین پر رہو گے اور مجھے حالت سکون میں چھوڑ دو۔ میں اپنی جان قضائے الہٰی کے حوالے کردوں گا۔‘ پھر وہ اِسی انداز میں سرہانے پر لیٹ گئے۔‘‘
میرا بدن کپکپانے اور دانت کٹکٹانے لگے۔ میں اردگرد یوں دیکھنے لگا جیسے بھاگ نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہوں کیوں کہ کھڑکیاں اور دروازہ ناکافی تھا۔ چھٹکارے کی کوئی راہ نہیں تھی۔
لہٰذا میں دوبارہ خدا سے اُن کی جان بخشی کی دعا کرنے لگا۔ آئیووبولا۔ ’’انھوں نے ایک بار پھر اپنی آنکھیں کھولیں اور بولے۔ ’میں جارہا ہوں!‘ ان کا مطلب تھا کہ وہ جنت میں جارہے ہیں۔ اُنھوں نے یہ بات یقین سے کہی۔‘‘ آئیوو کا چہرہ یوں پیلگوں سبز اور آنکھیں ٹیڑھی ہو گئیں جیسے وہ منگولوں کی نسل سے ہوگیا ہو۔ ’’ہمارا کیا بنے گا؟‘‘ اُس نے مجھ سے پوچھا ۔ سہارا باپ اب جیتے جاگتے انسان کی بجائے لاش بنا بستر پر پڑا تھا۔ رات کا اندھیرا کھڑ کیوں سے اندر داخل ہورہا تھا۔ گھڑیال کی ٹک ٹک ٹائم بم جیسی تھی۔
ہم نے نشست گاہ میں جاکر بتیاں جلالیں۔ ہم نے کمرے سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں کی۔ میں نے خدا سے دعا کی کہ وہ ہمارے والد کو زندہ کردے جیسے اُس نے لازارَسLazarus): حضرت مریم ؑ کا بھائی جسے حضرت عیسٰی ؑ نے زندہ کر دیا تھا(کو زندہ کیا تھا…تو میں ساری زندگی اُس کی (خدا کی) عبادت کرتا رہوں گا۔ لیکن مجھے ڈر تھا کہ اگر والد دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ بھی آئے تو وہ ویسے نہیں ہوں گے جیسے تھے بلکہ اُن میں کوئی آسمانی شے آئے گی، کوئی ایسی شے جسے میں جیسے ہی دیکھوں گا وہ مجھے فوراً قتل کرکے راکھ میں بدل ڈالے گی۔
دروازے کھلے۔ برف سے بھیگی ہُوئی ماں ڈاکٹر کے ہمراہ اندر داخل ہُوئی۔ آئیوو اور میں اپنے فنالین کے چوڑی عمودی نیلی پٹیوں والے پائجاموں میں تصاویر کی قدیمی کتب کے ترک فوجیوں کی مانند کمرے کے وسط میں کھڑے ہوگئے۔ ڈاکٹر کے ساتھ تمباکو کی متعفن اور شراب کی بدبو آئی۔ ’’کہاں ہے وہ؟‘‘ اُس نے رکے بغیر دریافت کیا۔
’’وہ مر چکا ہے۔‘‘
’’لیکن وہ ہے کہاں؟‘‘
’’وہ جنت میں ہے۔‘‘ آئیوو نے بتایا۔ ’’وہ اب تمھیں نہیں ملے گا۔‘‘
’’اوہ، میرا خدا!‘‘ میری ماں کانپتی ہُوئی غیرارضی آواز میں چِلّا اُٹھی اور خواب کی جانب دوڑی۔ ڈاکٹر نے اُن کی پیروی کی۔ ہم دروازے میں کھڑے دیکھتے رہے۔ ڈاکٹر نے سٹیتھو سکوپ والد کے سینے پر لگا کر دھڑکن ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی۔ ’’بہت دیر ہوگئی۔‘‘ وہ بولا۔
ہماری زرد پڑی ماں بولی۔ ’’میرے خدا، میں اِن کا کیا کروں گی؟‘‘ اُس نے ہمیں دیکھا۔ میں دہشت زدہ ہونے کے علاوہ ڈرا ہُوا بھی تھا۔ میرے لاشعور میں موت کے بارے میں بہت زیادہ خوف کے علاوہ مسقبل کا خوف بھی شامل تھا۔ ہم کیسے زندگی بسر کریں گے؟ ڈاکٹر سر جھکائے باہر نکلا تو دُوسرے بہت سے لوگ اندر آگئے۔
میے والد کی خراد پر مددگار نیناند نے اپنا مُنھ یوں کھولا جیسے کچھ کہنے والا ہو لیکن وہ کچھ بولا نہیں۔ لحیم شحیم چچا گہری گہری سانسیں لیتا ہُوا لاش دیکھنے اندر گیا اور وہاں بہت دیر تک ٹھیرا رہا۔ وہ واپس آکر ایسے بُڑبُڑایا جیسے نیند میں ہو اور جماہی لی۔ اُس نے مجھے اپنے گھٹنوں پر اُٹھا کر پُرخیال انداز میں اُوپر نیچے جھلایا۔ اُس کا سینہ پھُول اور پچک رہا تھا۔ ’’ایک یہ زندگی ہے اور دُوسری وہ زندگی۔ اب وہ ہمارے پاس نہیں رہا۔‘‘
جب میں اور آئیوو اپنے کمرے میں گئے تو آئیوو نے بتیاں گل کر دیں۔ میں نے اُنھیں دوبارہ روشن کر دیا۔ ’’تم بتیاں کیوں جلائے رکھنا چاہتے ہو؟ بتیاں روشن رکھ کر تم سو نہیں سکو گے۔‘‘
’’مجھے اندھیرے میں ڈر لگ رہا ہے۔‘‘
’’اب ڈرنے کے لیے بچا ہی کیا ہے!‘‘ وہ تلخی سے بولا۔
’’میں بتیاں روشن رکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا تو اُس نے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا۔ جلد ہی وہ خرّاٹے بھرنے لگا۔ وہ سو چکا تھا۔ مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ اگر میں بھی مر جاؤں تو کیا ہو گا؟ مجھے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔ شاید میں کر رہا ہوں؟ نہیں، بچّے اِس طرح نہیں مرتے جب تک کہ اُنھیں تیز بخار نہ ہو۔ میں نے اپنا ماتھا چھؤا جو ٹھنڈا پڑا تھا لیکن احساسات جھوٹے بھی تو ہو سکتے ہیں۔ لیکن بخار خطرناک ہی کیوں ہوتا ہے؟ صحت مند کرنے والا ہونا چاہیے، موت سے دُور لے جانے والا… موت سرد ہوتی ہے۔ میں اپنے لحاف میں کانپنے لگا۔ میں نے کھڑکی کی سمت دیکھا… دِیوار پر ایک بڑا سا نیلگوں سیاہ مربع شکل بنی تھی۔ میں نے کروٹ بدل لی لیکن میری پشت پر موجود کھڑکی مجھے پریشان کرنے لگی۔ جب اُس کی طرف مُنھ کرتا تو وہ مجھے زیادہ پریشان کرتی۔
کیا تھا اگر خدا نہ ہوتا؟ کیوں کہ ہم اپنے والد کی مقدس موت پر تقریباً کفر کا شکار ہو رہے تھے۔ میں نے نفرت سے آئیوو کو دیکھا۔ واہ، وہ ایک مسیحی ہے۔ اُسے سکون حاصل ہے۔ اُس نے موت کے تمام مراحل دیکھے اور میں محروم رہا۔ جب میں اندر داخل ہُوا تو والد اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے۔ شاید وہ پہلے ہی مر چکے ہوں یا مرنے کے آخری مرحلے میں ہوں۔ شاید وہ مجھ سے کچھ باتیں کرتے بالکل ویسے ہی جیسے جیکب (حضرت یعقوبؑ) نے اپنے بیٹے جوزف (حضرت یوسفؑ) سے کی تھیں۔
مجھے اب بھی محسوس ہو رہا تھا کہ یہ ہو کر رہے گا۔ میرے پیٹ میں درد ہونے لگا لیکن میں نے بستر سے نکلنے کا حوصلہ نہیں کیا کہ کہیں حقیقت کے آخری مرحلے پر میں خدائی توازن خراب نہ کر بیٹھوں۔
میں نے راہدرای سے سیڑھیوں سے ہوکرآتی ہُوئی بُوٹوں کی چاپ سُنی۔ میرا بڑا بھائی وَلادو، جو نووی ساد میں فوج میں بطور فزیشن کام کرتا تھا، کمرے میں داخل ہُوا اور بولا۔ ’’مجھے یہ خبر ملی ہے۔ گھبراؤ مت، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ تم بتیاں بجھا کیوں نہیں دیتے؟ صبح ہو گئی ہے۔‘‘
’’دیکھو، کتنا اندھیرا ہے؟‘‘ میں نے دِیوار پر سیاہ مربع شکل کی جانب اشارہ کیا۔
’’نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ یہ دیکھو۔‘‘ اُس نے بتیاں گل کیں تو مربع شکل ہلکے سرمئی نیلے رنگ میں بدل گئی۔ ’’اگر میں بتیاں دوبارہ روشن کر دوں تو یہ سیاہ لگنے لگے گی لیکن ایسا نہیں ہے۔‘‘ وہ سبز وردی پہنے اور سر پر ٹوپی لیے ہُوئے تھا جس پر ایک ستارہ لگا ہُوا تھا۔ اُس کے چہرے پر مشفقانہ اور حوصلہ آمیز تأثرات تھے۔ پھر ہماری ماں اندر داخل ہوکر بولیں۔ ’’تمھیں ڈاکٹر سِلی وِک کے غلط روّیے کا علم ہے۔ اُسے جس وقت ہسپتال ہونا چاہیے تھا وہ وہاں موجود نہیں تھا۔ اُس نے پیغام چھوڑا تھا کہ وہ آرام کرنے والے کمرے میں ہے جب کہ وہ لاسٹ پیراڈائز آن اَرتھ میں چلا گیا۔ جب میں نے اُسے ڈھونڈ نکالا تو وہ شراب پیتے ہُوئے جؤا کھیل رہا تھا۔ تمھارا باپ اُس سے پہلے ہی مر چکا تھا۔‘‘ اُنھوں نے لاش والے کمرے کی جانب اشارہ کیا تو اُن کی ناک سے پانی بہہ رہا تھا۔ ’’اُس نے بتایا کہ وہ دماغ کی نس پھٹنے سے مرا ہے۔‘‘
وَلادو لاش دیکھنے کے لیے گیا۔ واپس لوٹ کر اُس نے بتایا کہ دِل پر اٹیک ہُوا تھا اور بروقت اَڈرنالِین کا ٹِیکہ لگ جاتا تو والد بچ سکتے تھے۔
’’لیکن اُنھوں نے مجھے ڈاکٹر لانے کی اجازت نہیں دی۔‘‘ وہ بولیں۔ ’’اُنھوں نے کہا کہ جو ہو گا خدا کی مرضی سے ہو گا۔ اُس کی منشا کے بغیر بال بھی بیکا نہیں ہو سکتا۔ شاید یہ ٹھیک ہی ہُوا ہے۔ اُنھوں نے اپنی صحت برباد کر لی تھی… جنگ سے دو برس قبل فوج میں، پانچ برس جنگ میں، بارش، ژالہ باری، برف باری اور دھوپ نے اُن کے گردے تباہ کر دیے تھے۔ وہ گردوں اور بلند فشارِ خُون کی متعدّد ادویات لیتے تھے… اُن کا دِل ایکسرے میں اِتنا بڑا دِکھائی دیتا تھا کہ ہمیشہ ڈاکٹر حیران رہ جاتے اور پھر مذہب تک محدود… وہ سوتے تک نہیں تھے اور پچھلے دو ماہ سے بس عبادت ہی عبادت کیے جا رہے تھے!‘‘
’’وہ بچ سکتے تھے… دِل کا بڑا ہونا ضروری نہیں کہ خطرناک ہو۔‘‘ وَلادو نے کہا۔
اب باہر روشنی پھیل چکی تھی۔ ہم نے بتیاں بجھا دیں۔ سورج نکل آیا تھا۔
میں گھر سے باہر نکل کر ایک گِرے ہُوئے درخت کے تنے پر بیٹھ گیا… اور اپنے انگوٹھے کے ناخن سے کھردرے تنے کو کھرچنے لگا۔ گھر کی کھڑکی پر سیاہی چھائی ہُوئی تھی۔ میری ماں نے مجھے اندر سے ناشتے کے لیے پکارا۔ میرا جی متلایا تو میں نے اپنی اُنگلی زبان کی نوک پر رکھ لی۔
آئیوو کا دوست زوران آنگن میں آکر میرے ساتھ تنے پر بیٹھ کے چھال کھرچنے لگا۔ ’’اب ہم ایک جیسے ہو گئے ہیں!‘‘ وہ خوش دکھائی دیتا تھا… اب ہم سچے دوست بن سکتے تھے۔ اُس کا والد ایک عورت کی عصمت بچاتے ہُوئے آبروریزی کرنے والے کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ جس نے اُس کے سینے میں چھرا گھونپ دیا تھا۔ زوران بِن باپ کے پلا بڑھا تھا۔ اُس کے پاس اُس کی یادیں تک نہیں تھیں۔ اکثر درختوں پر تیراندازی کرتے، رابن ہُڈ کھیلتے ہُوئے… وہ وِل سکارلٹ، میں ننّھا جان اور آئیوو رابن ہُڈ بنتا… وہ مجھ سے پُوچھا کرتا تھا۔ ’’باپ کا ہونا کیسا لگتا ہے؟‘‘
’’میں نہیں جانتا کہ کیسے بتاؤں… مجھے نہیں معلوم کہ باپ کا ہونا کیسا لگتا ہے۔‘‘
اب میں نے کہا۔ ’’ہاں، ہم ایک جیسے ہو گئے ہیں۔‘‘
’’تم جان جاؤ گے کہ باپ کے بغیر کیسے جیا جاتا ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’ہاں۔‘‘
’’لیکن میں اب بھی نہیں جان پاؤں گا کہ باپ کا ہونا کیسا ہوتا ہے اور تم یہ جانتے ہو۔‘‘ اُس نے کہا۔
’’ہاں، جو کچھ میں جاننا چاہتا تھا وہ اب جلد ہی جان لوں گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’تو ہم مکمل طور پر ایک جیسے نہیں ہیں۔‘‘ وہ بے پھُولوں والی گلاب کی ایک جھاڑی سے کانٹا توڑ کر خلال کرنے لگا۔ اُس نے کانٹے کو اپنے دانتوں کے بیچ اِتنے زور سے مارا کہ وہ خُون تھُوکنے لگا۔
’’اِس طرح تو ہم واقعی ایک جیسے نہیں ہیں۔‘‘
کئی گھنٹوں بعد درجن بھر سے زائد عزیز و اقارب نشست گاہ میں مرنے والے کی باتیں کرنے لگے۔ میری بھابی بولیں۔ ’’جب ہم آخری بار اُن سے ریلوے سٹیشن پر ملے تو وہ دیر تک ہاتھ ہلاتے رہے جیسے اُنھیں علم ہو کہ وہ ہم سے دوبارہ نہیں مل پائیں گے۔ اُنھوں نے بذلہ سنجی کا مظاہرہ کیا اور وہ اپنی پوتی کے ساتھ کھیلتے رہے تھے۔‘‘ … وہ ایک گوری چِٹّی، سنہرے بالوں والی ننّھی سی لڑکی تھی جو اُس وقت ایک گملے کی مٹّی میں اپنی اُنگلیاں ڈال کر اُس کی ٹکیا بنانے میں لگی ہُوئی تھی۔… ’’اور اُنھوں نے اُسے کندھوں پر اُٹھا لیا۔ میں نے سوچا کہ وہ کتنے صحت مند شخص ہیں!‘‘ ہر شخص نے بلند آواز میں اپنی اپنی آخری یادیں افسردہ لہجے میں تازہ کیں۔ مجھے خیال آیا کہ مجھے بھی حِصّہ لینا چاہیے۔ ’’آئیوو نے عقبی کمرے سے مجھے جھنجھوڑ کر اُٹھایا۔ وہ چِلّایا: ’والد مر رہے ہیں!‘ میں چھلانگ لگا کر بستر سے نکلا اور وہ وہاں مر رہے تھے۔ اُن کی ٹھوڑی پر جامنی جھاگ بہہ رہی تھی اور گلے سے خَرخَر کی آوازیں نکل رہی تھیں اور پھر اُنھوں نے مُنھ بھینچ لیا اور اُن کے ناک سے خُون نکلنے لگا۔‘‘
کمرے میں موجود ہر شخص کی تیوریاں چڑھ گئیں۔ میں چپ ہو گیا۔ خاموشی چھا گئی۔ مجھے خیال آیا کہ میں نے کچھ غلط بول دیا ہے اپنا مُنھ چھپانے کے لیے ٹھوڑی دائیں کندھے میں گھسا لی۔ ہاں، اُنھیں میری باتیں ناگوار گذری تھیں۔ میں اُنھیں بس اِتنا احساس دِلانا چاہتا تھا کہ مجھ پر کیا بیتی ہے اور میرے والد نے کتنی تکلیف جھیلی ہے! مجھے اُنھیں آئیوو کی طرح کچھ ارفع باتیں بتانا چاہیے تھیں جیسے آئیوو نے مذہبی بات بتائی، مثلاً ’’میں جارہا ہوں۔‘‘ یا چھٹے اور ساتویں دِن کی درمیانی رات کی قسم کی چیز۔
دِن میں میری والدہ نے لاش کو نہلایا اور پائجامے کی جگہ سُوٹ پہنا دیا؛ اُن کا اتوار کے روز کا بہترین سُوٹ جسے پہن کر وہ مسیحؑ کی رحلت پر خطبہ دینے کے لیے گرجا گھر جایا کرتے تھے۔ البتّہ اب اُن کے سر پر ہَیٹ نہیں تھا۔ اُن کے سُوج کر پھُولے ہُوئے ہاتھوں کو، جن کے دو ناخن کام کے دوران غلطی سے ہتھوڑے کی چوٹ سے نیلے پڑے ہُوئے تھے، عبادت کے انداز میں آپس میں جوڑ دیا گیا تھا۔ جب کہ وہ فوت ہُوئے تو اُن کے ہاتھ اُن کے دونوں طرف پڑے تھے۔ میں سوچا کہ شاید ہَیٹ کو ہاتھوں پر رکھ دیا جائے۔ اُن کا تابوت کھانے کی میز پر دھرا تھا جہاں بیٹھ کر وہ گیت گاتے، ہنسی مذاق کرتے، گٹار بجاتے اور تو اور انجیل سے مقدس کہانیاں سناتے جن میں وہ باتیں بھی شامل کر لیتے تھے جو مجھے کبھی انجیل میں نہیں ملیں جیسے کہ حضرت یونسؑ کی زیادہ سے زیادہ مہمات کے واقعات۔ سنہرے حروف میں والد کا نام اور عمر والا تابوت لانے والے شخص نے والد کے کانوں اور ناک میں کوئی جراثیم کش راکھ ڈالی اور اُنھیں رُوئی سے بند کر دیا… کہ موت اندر قید رہے۔
پردے تہہ کر دیے گئے۔ ماں سڑک کے پار پڑوس میں ایک عورت کے پاس گئی، جس کا خاوند بھی لکڑی کا ایک خرادیا تھا اور تین برس قبل فوت ہو چکا تھا، اور ایک سیاہ جھنڈا لے کر لوٹی۔ میں نے گلی میں جا کر دیکھا کہ سیاہ جھنڈا لگ جانے سے گھر کیسا دِکھائی دے رہا ہے۔ چمگادڑوں کے گھونسلے کے اُوپر، جسے والدہ نے اِس لیے جھنڈے کے ڈانڈے سے توڑ ڈالا تھی کہ موسمِ بہار میں چمگادڑیں وہاں دوبارہ نہ آئیں، سیاہ جھنڈے کو اُس جگہ لگا دیا گیا جہاں والد ہمارے سوشلسٹ فیڈرل ریپبلک آف یوگوسلاویا کا جھنڈا نصب کیا کرتے تھے۔ گھر منہدم قلعے کے نہایت سادہ اور پُرشگون امتیازی نشان والے ایک مینار کی طرح دِکھائی دے رہا تھا۔
مجھے پانچ سات قبل کا ایک خواب یاد آنے لگا۔ خواب میں والد اور میں والدہ کے تابوت کے پاس نشست گاہ میں بیٹھے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اُن کے (والدہ کے) بغیر رہنا ہو گا… میں پُوچھتا ہوں کہ کیا ہم اُن کے بغیر رہ سکتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ ہاں، شاید۔ جس پر میں خواب میں چیخنے لگا اور جب میری آنکھ کھلی تو میں نے سکون کی سانس لی کہ صبح ہو گئی ہے۔ میری ماں نے پُوچھا کہ کیا ہُوا ہے لیکن میں اُنھیں بتا نہیں پایا کہ میں اُنھیں خواب میں مُردہ دیکھا ہے۔ اِس لیے میں نے کہا کہ بھیڑیوں کا ایک غول میری بوٹیاں کر رہا تھا۔
برس ہا برس تک اپنے والد سے خوابوں کی پیغامبرانہ قدرت کے بارے میں سُن سُن کر مجھے ڈر پیدا ہو گیا تھا کہ میری ماں مر جائے گی۔ لیکن اب والدہ اور میں والد کی لاش کے ساتھ بیٹھے پریشان ہو رہے تھے کہ اُن کے بغیر زندگی کیسی ہو گی۔
بہت سے لوگ تعزیت کے لیے آئے۔ ماں بتیاں روشن کیے بغیر اُنھیں نشست گاہ میں لے جاتیں۔ والد کے سرہانے کوئی موم بتّی نہیں لگائی گئی تھی۔ بس اَدھ کھلے دروازے اور پردوں سے تھوڑی سی روشنی آرہی تھی۔ جراثیم کش کی سخت بو میری آنکھوں اور ناک میں چبھ رہی تھی۔ وہ بو وہاں کیوں تھی؟ کیا مُردہ شخص کو موت سے یا زندگی کی آخری جھلکیوں سے بچانے کے لیے تھی؟
میں اپنے والد کو دوبارہ چھونا چاہتا تھا لیکن میں یہ نہیں کر پایا کہ اگر میں نے اُنھیں چھؤا تو کہیں اُن کی موت مجھے بھی ہڑپ نہ کر لے۔ اُن کے گال جامنی پڑتے اور آنکھوں کے گِرد نَسیں واضح ہوتی جارہی تھیں۔ اُن کی ٹھوڑی چھوٹے چھوٹے سفید اور سیاہ بالوں سے بھری ہُوئی تھی۔ پھر بھی اپنی کمان بھنووں اور کشادہ پیشانی پر صاف ستھری متوازی لکیروں کی وجہ سے وہ کسی حد تک اچھی فطرت کے مالک اور نرم خُو دِکھائی دے رہے تھے۔ اُن کے عزیز و اقارب اور دوست تابوت کے گِرد اکٹھّے ہو گئے۔ کچھ اپنے سینوں پر صلیب کا نشان بنا رہے تھے۔ کچھ رو رہے تھے۔ مجھے یہ دیکھ کر مسرت کا احساس ہُوا کہ دُوسرے لوگ بھی غم زدہ تھے لیکن میں چاہتا تھا کہ وہ اُنھیں اِس طرح نہ گھوریں… وہ غیر اخلاقانہ انداز تھا۔ وہ میرے والد کو یوں دیکھ رہے تھے جیسے وہ نسلِ انسانی کی بجائے کسی اور نسل کے ہوں۔ آئیوو اور میں تمام دِن دیر دیر تک برآمدے میں کھڑے ہو کر ایک دُوسرے سے دریافت کرتے رہے۔ ’’کیا تم اُنھیں ایک بار پھر دیکھنا چاہتے ہو؟‘‘
’’میرا خیال ہے کہ میں نہیں دیکھ پاؤں گا۔‘‘ ہم کہتے اور واپس اندر چلے جاتے۔
تدفین کا دِن آپہنچا جو سرد اور جھکّڑوں والا تھا۔ ’’اُنھیں دیکھنے کا یہ تمھارا آخری موقع ہے۔‘‘ ہماری ماں نے کہا۔ اُنھوں نے تابوت کے پاس جا کر بنفشی لاش کا بوسہ لیا تو اُن کے آنسو والد کے کان پر گِرے۔
’’چلنے کا وقت آگیا ہے۔‘‘ اطراف سے سفید اور تمباکو نوشی کی وجہ سے ناک کے نیچے پیلی پڑی مونچھوں، خشک جلد اور ہڈّیلے تجہیز و تکفین کرنے والے نے کہا۔ اُس نے تابوت کا ڈھکن پکڑا جو سنہری شیلڈ کی مانند دِیوار کے ساتھ ترچھا رکھا ہُوا تھا اور اُسے تابوت کے اُوپر رکھ دیا۔ اُس نے ہاتھوں میں ہتھوڑا اَور میخیں لیں۔ وَلادو نے وہ چیزیں اُس سے جھپٹ لیں۔ بچپن میں جوتوں کے تلووں پر کِیلوں سے چمڑا لگانے میں مدد کے دوران وَلادو ہتھوڑے اور میخوں کا کام کرتا رہا تھا۔ حتّٰی کہ آئیوو اور میں بھی یہ کام کرتے رہے تھے۔ ہم سب کو ہتھوڑے سے میخیں ٹھونکنے کے کام میں مہارت پر فخر تھا۔
وَلادو نے ڈھکن کے سِروں پر بنے پیلے دھاتی سوراخوں میں کِیلیں گاڑیں۔ اُس نے درست چوٹیں لگائیں۔ زندہ شخص جو میخیں گاڑ رہا تھا اور مُردہ شخص جو میخوں سے قید کیا جا رہا تھا دونوں نے لاکھوں کِیلیں گاڑی ہوں گی لیکن مُردہ شخص نے یہ کام زندہ سے زیادہ کیا تھا۔ ہماری ماں مجھے اور آئیوو کو باہر لے جانا چاہتی تھی تاکہ وہ سب ہم نہ دیکھ سکیں لیکن ہم باہر نہیں گئے۔ میں حیران تھا کہ میں رو کیوں نہیں رہا۔ میں بمشکل سانس لے پا رہا تھا۔ میرے سینے پر بوجھ، بدن سرد اور بَرقایا ہُوا تھا۔
چار افراد تابوت دروازے سے نکال کر سیاہ چتّیوں والے سفید پتھر کی سیڑھیوں سے لے کر نیچے چلے۔ ڈالمیشن کوسٹ کے راج مستریوں نے وہ قدمچے بنائے اور اُنھیں کئی روز تک ہموار کیا تھا۔ اُنھوں نے مجھے اُن میں عورتوں کی بلوغت والے بال دِکھائے تھے جس پر مجھے یقین نہیں آیا۔ میرا خیال تھا کہ عورتوں کی اُس جگہ سِیپ میں موتی ہوتے ہیں بال نہیں۔ تابوت کے آگے ہجوم حضرت موسیٰؑ کے سامنے بحیرہ احمر کے پانی کی طرح بٹ گیا۔ تابوت کو آنگن سے گھر میں داخل ہونے والے بلوط کے پالش کیے ہُوئے دروازے، خاردار جھاڑیوں، چیری کے بے برگ درختوں سے احتیاط سے اور ہانپتے ہُوئے گذارا گیا جیسے وہ ایک وزنی فرنیچر ہو۔ ہمارے ہمسائے کی سپاٹ دِیوار کے قریب ایک ہجوم منتظر تھا۔
دِیوار میں سوائے ایک چھوٹے نعمت کدے کے چھوٹے روشن دان کے کھڑکی تک نہیں تھی، جس کی لوہے کی چمنیاں چھت پر نکلی ہُوئی تھیں۔ لوگ ہمارے پڑوسی پر اُنگلیاں اُٹھاتے تھے… وہ دورانِ جنگ غلط فوج میں شامل رہا تھا۔ اب وہ دِیوار کے ساتھ بے کیفی اور مُردنی سے یُوں لگا کھڑا تھا جیسے فائرنگ اسکواڈ کی گولیوں کا منتظر ہو۔ آنگن میں چاندی جیسی چھت والی ایک سیاہ جنازہ گاڑی کھڑی تھی جس کے سامنے آنکھوں پر کھوپے چڑھے دو سیاہ گھوڑے تھے جن کے عقبی حِصّوں سے ، جنھیں سیاہ ساٹن سے ڈھانپا نہیں گیا تھا، بھاپ نکل رہی تھی۔ وہ اپنی دُمیں نہیں ہلا رہے تھے… غالباً دُموں کا کام صرف مکھیاں اُڑانا ہوتا ہے اور جنوری میں کوئی مکھی نہیں تھی۔ وہ یُوں سر جھکائے ہُوئے تھے جیسے گیلی روش پر گھاس ہو یا پھر جیسے انسانی جذبات کا ردّ عمل دے رہے ہوں اور اُن کا اظہار لوگوں سے بہت بہتر تھا۔ تابوت کو گھسیٹ کر جنازہ گاڑی پر رکھ دیا گیا۔ گھوڑوں نے اپنے کان یُوں ہلائے جیسے شور اُنھیں ناگوار گذرا ہو۔ چرچراہٹ نے میری بہن نَیلا کے چہرے پر چاک جیسی سفیدی پھیلا دی، جو مغربی جرمنی سے اُس وقت پہنچی ہی تھی جہاں وہ نرس بننے کے لیے پڑھنے گئی ہُوئی تھی۔ میں اُسے ستانے کے لیے ہمیشہ بڑے بڑے برتن فرش پر گھسیٹتا تھا کیوں کہ مجھے معلوم تھا اُسے تختۂ سیاہ پر خشک چاک اور فرش پر برتنوں گھسٹنے کی آوازوں سے نفرت ہے۔ سیاہ لبادوں والے لوگ، رشتے داروں کا انبوہ جنازہ گاڑی کے کمزور بالائی چوکھٹے کے ساتھ جامنی ٹیپ لگے سبز گلدستے ٹانگنے لگے۔
جلوس بن گیا۔ ماں، دو بھائی، میں اور دو بہنیں جنازہ گاڑی کے پیچھے تھے اور ہمارے پیچھے تین چچا اور پانچ چاچیاں اور پھُوپھیاں۔ ایک پھُوپھا موجود نہیں تھا کیوں کہ اُسے قصبے کا پہلا مستری ہونے کے ناطے کاروں سے بہت پیار تھا اور اُسی موسمِ سرما کے وسط میں اُسے زمین پر کاروں کے نیچے لیٹنے سے نمونیا ہُوا اَور وہ چل بسا۔ میں نے آئیوو کی بجائے نَیلا کے ساتھ چلنا منتخب کیا۔ جلوس بہت سست رفتار تھا۔ میں کبھی کبھی مُڑ کر دیکھ لیتا کہ میرے چچا کیسے ہیں۔ وہ سب سوچوں میں گُم دِکھائی دیتے تھے۔ رفتار کے استقلال میں ہم سب کے لیے ایک سبق تھا یا ہمارے ہر بدلتے قدم پر کوئی تو سبق تھا۔ ہم خواہ کتنا ہی سست رَوی سے چلتے، کتنے ہی مقامات سے گذرتے لیکن قبرستان جانے والے پُرپیچ راستے سے نہیں ہٹ سکتے تھے۔ ہم ریلوے لائن سے گذرے تو تابوت اُوپر نیچے اچھلنے لگا۔ پھر پہاڑی پر ایک کھنڈر بنے مکان کے پاس سے گذرے جہاں والد اور اُن کے نو بہن بھائی پلے بڑھے تھے۔ پہلوٹھی کا بیٹا ہونے کے ناطے اُنھیں لکڑی کی خراد میں اپنے والد کی مدد کرنا پڑتی تھی اور اگرچہ وہ دو سالوں تک اپنی جماعت کے بہترین شاگرد قرار دیے گئے اور سکول کے پرنسپل نے خُود دَادا سے درخواست کی کہ اُنھیں موقع دیا جائے لیکن اُنھوں نے اِبتدائی تعلیم کے صرف چار درجوں تک تعلیم حاصل کی۔ ’’مجھے خوشی ہو گی، جنابِ پرنسپل۔‘‘ میرے دادا نے جواب دیا۔ ’’اگر اُن تمام بچّوں کو پالنے کے لیے اِس دُکان میں میرے بیٹے کی جگہ آپ لے لیں۔‘‘ میرے دادا کا انتقال کینسر سے ہُوا تھا… کیوں کہ خدا پر اپنے پختہ ایمان کی بِنا پر اُنھوں نے ہسپتال جا کر اپنے جسم کے بڑھے ہُوئے حِصّے کو کٹوانے سے اِنکار کر دیا تھا۔ گھر بہت عرصہ قبل فروخت کر دیا گیا تھا۔ اب عقبی صحن سے بہت سفید ہَنس سیٹیاں بجا کر جنازے کا استقبال کر رہے تھے۔ گولگوتھا Golgotha): یروشلم کے نزدیک ایک مقام جہاں حضرت عیسٰیؑ کو صلیب پر چڑھایا گیا تھا۔ مترجم( کی پیروی میں ہم پہاڑی پر بنے قبرستان میں تین صلیبوں کے ساتھ داخل ہُوئے: یسوع کو دو ڈاکوؤں کے درمیان صلیب پر چڑھایا گیا تھا۔ یسوع غائب تھا، شاید کسی نے اُسے چُرا لیا تھا لیکن دونوں ڈاکو صلیبوں پر موجود تھے۔ سفید کبوتر جیسے رنگ سے اُن کے رخساروں پر پٹیاں بنا دی گئی تھیں جیسے وہ رو رہے ہوں۔
اصطباغی قبرستان کو باڑ لگا کر کیتھولک اور کمیونسٹوں کے قبرستانوں سے علیحدہ کیا ہُوا تھا… مشرقی آرتھو ڈاکس کا قبرستان دُوسری پہاڑی پر تھا… جو معاشرے میں ہمارے اچھوت ہونے کو ظاہر کرتا تھا۔ ہم جہاں بھی جاتے ہم پر اُنگلیاں اُٹھتیں اور ہمارے پیچھے چپکے چپکے سرگوشیاں کی جاتیں۔ ہمیں اہانت آمیز لہجے میں ’’نوعقیدہ لوگ‘‘ کہا جاتا… یعنی ’’غلط عقیدہ لوگ‘‘۔
جنازہ گاڑی سڑک اور اصطباغی قبرستان کے درمیان کیچڑ سے بھرے ایک گڑھے میں پھنس گئی۔ کوچوان نے باریک چمڑے سے بنا ہُوا کوڑا گھوڑوں کو مارا کہ وہ جنازہ گاڑی کو کھینچ لیں اور جنازہ ڈگمگا کر تقریباً گِرنے ہی لگا تھا۔ میرے تینوں چچاؤں اور گورکن نے جنازہ گاڑی سے تابوت اُتار لیا۔ گھوڑے گاڑی کو گڑھے سے باہر کھینچ کر سر جھکا کے زمین پر دیکھنے لگے لیکن اب وہ کبھی کبھی سر اُٹھا کر قبرستان کو اپنی بڑی بڑی نم آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اُن کی پیشانیوں پر افسردگی بھرا تشنج اور پُرخیال تأثرات تھے۔
اصطباغی قبرستان میں لکڑی کی صلیبیں دھوپ، بارش اور سردی سے ٹُوٹ پھُوٹ کا شکار ہو کر نرم زمین پر گِری پڑی تھیں اور نام مِٹ چکے تھے۔ پُرانے فولاد سے بنی دُوسری پتلی صلیبوں کی شمالی طرف کائی جم گئی تھی جیسے وہ اُنھیں سرد ہَواؤں سے محفوظ رکھ رہی ہو۔ اُن پر آئیوی کی بیلیں سانپ کی طرح بل کھاتی چڑھ کر اُنھیں کسی دوا کے امتیازی نشان سے مشابہ کر رہی تھیں۔ کچھ قبروں کے پتھّر سلامت تھے لیکن اکثر نرم زمین میں آدھی دھنسی ہُوئی تھیں اور اُن کے گِرد جھاڑ جھنکار اُگ آیا تھا۔ پہاڑی کے کنارے غربی اُترائی پر ’’بابل کی کسبی‘‘ (یعنی زہرہ۔ مترجم) تھی (جیسا کہ پادری اُسے کہتا تھا)، رومن کیتھولک قبرستان پھیلا ہُوا تھا جو بڑے بڑے پتھّروں، سنگِ مرمروں اور کیوپڈ جیسے ننّھے فربہ فرشتوں کے مجسموں سے بھرا تھا… اُنھیں بس تیر کمان کی ضرورت تھی۔ قبرستانوں کے بیچ لگے صنوبر کے بے شمار درختوں سے کبوتر زمین پر یہ اُمید لیے اُترے کہ اُنھیں دانا دنکا مل جائے گا۔ میں کبوتروں کو فاختائیں سمجھا تھا اور اُن کے اُترنے کو خدا کا ایک اشارہ۔
ایک صنوبر تلے پیلی اور سبز مٹّی کے دو ڈھیر پروں کی طرح پھیلے ہُوئے تھے لیکن اُن پروں کے بیچ کوئی پرندہ نہیں بلکہ ایک مستطیل گڑھا، قبر تھی۔ مجھے خوشی ہُوئی کہ میرے والد ایک سدا بہار درخت کے نیچے قبرستان کے سب سے بلند مقام پر دفن ہوں گے… جو رابن ہُڈ کے بلوط کے نیچے سے بہتر مقام تھا۔ لوگ پُرانی قبروں کو روندتے، اپنے بہترین جوتوں کو اُن میں دھنساتے، پہلے سے مرے ہوؤں کی مکمل توہین کرتے اور اپنی توجہ صرف نئے آنے والے یا نیا نیا چھوڑ کر جانے والے پر رکھتے ہُوئے نرم مٹّی والے سارے قبرستان میں پھیل گئے۔
اپنی کمر کیتھولک قبرستان کی طرف موڑے پادری درخت کے ساتھ لگ کر کھڑا تھا۔ اُس کے بائیں ہاتھ گرجا گھر کے طائفے کے کم و بیش دس افراد موجود تھے جو اپنے تابوت میں پڑے میرے والد کو مخاطب کر کے موت، جنت، ایمان، وقار اور کروٹ کروٹ سکون کے بارے میں گا رہے تھے۔ گیت کے بعد پادری نے پُرجوش خطبہ دیا جس سے اُس کے ہونٹوں سے بہتی جھاگ اچھی طرح شیو کیے ہُوئے گال پر، جو ہَوا سے گلابی پڑا ہُوا تھا، لگ گئی۔ اُس کے چمک دار بالوں کی متوازی لکیروں سے اُس کے کنگھے کے دندانوں کا فاصلہ ظاہر ہو رہا تھا۔ ’’ہم نہیں بتا سکتے کہ ہم اُس کی کتنی کمی محسوس کریں گے کیوں کہ اُس کے بغیر ہم اچھے سُروں میں نہیں گا سکتے! ہم سب اُس کی کمی محسوس کریں گے لیکن پیارے معزز شہریو اور ساتھیو، بھائیو اور بہنو، میں آپ کو یہ بتا دوں کہ ہمارے لیے غم زدہ ہونے کی کوئی بات نہیں ہے کیوں کہ یہ شخص زندہ ہے!‘‘ اُس کے مُنھ سے تھُوک آگ کی چنگاریوں کی طرح نکلا۔ اُس نے اپنی بات کا اثر دیکھنے کے لیے توقف کیا۔ اُس کی گرجیلی آواز ہمارے عقب سے قبرستان کے پار سیبوں کے باغات سے ڈھکی ایک ڈھلواں پہاڑی سے گُونج بن کر لوٹی۔
میں نے اِس توقع کے ساتھ تابوت کی طرف دیکھا کہ ابھی ڈھکن ٹُوٹ کر کھلے گا۔
کچھ سکوت کے بعد ہجوم میں ہلچل اور بُڑبُڑاہٹیں شروع ہو گئیں۔ خاص طور پر ہجوم کے سِروں والے لوگوں میں جہاں گرجا کے غیررُکن لوگ اور کمیونسٹ کھڑے تھے۔
میرے پیروں کے پنجے جمنے لگے تھے۔ میں تمنّا کی کہ پادری اپنا خطبہ جلد ختم کر دے… وہ بولا کہ ہم نے اِتنی اچھی موت سالوں سے نہیں دیکھی اور میرے والد کی موت کی تفصیلات بتانے لگا جو لفظ بہ لفظ آئیوو کے بیان پر مبنی تھی… اُسے روکنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ میں نے کن اکھیوں سے ہجوم کا جائزہ لیا۔ میرے سکول کے طلباء ہمارے مرکزی اُستاذ کے ہمراہ موجود تھے۔ دو لڑکیاں رو رہی تھیں، کچھ لڑکے خوش تو کچھ ایک دُوسرے کو کہنیاں مار رہے تھے۔ وہ کھوجتی ہُوئی نظروں سے مجھے دیکھتے ہُوئے شرطیں بَد رہے تھے … میں روؤں گا یا نہیں۔ یہ بات بعد میں مجھے ایک دوست پتا چلی۔ میرا دِل چاہا کہ اُنھیں پتھّر اُٹھا ماروں۔ میں نے مُڑ کر شناسا چہروں کے ہجوم کو نفرت سے گھورا۔
دو گورکن، اپنے بدنوں کا وزن کیچڑ سے بھرے بُوٹوں والے ایک پیر سے دُوسرے پر منتقل کرتے ہُوئے اپنے بیلچوں پر ہاتھ رکھے بے صبری سے خطاب کے ختم ہونے کے منتظر تھے۔ اُنھوں نے بیلچے زمین پر پھینکے اور میرے دو چچاؤں کی مدد سے تابوت کے نیچے سے لکڑی کے تختے نکالے اور تابوت کو رَسّیوں کی مدد سے زمین میں اُتارنا شروع کر دیا۔ تابوت میری نگاہوں سے دُور ہُوا تو مجھے اپنا دِل ڈُوبتا محسوس ہُوا جیسے وہ میرے پیٹ میں اُتر گیا ہو۔ رَسّیاں تابوت سے رگڑ کھا رہی تھیں جیسے کُند آرے سے لکڑی کاٹی جا رہی ہو۔
ماں اور دادی بازو میں بازو ڈال کر قبر کے پاس گئیں۔ ماں نے نیچے جھک کر زمین سے مُٹھّی بھر مٹّی اُٹھا کر میرے والد کی والدہ کو تھما دی۔ بُڑھیا نے اُسے قبر میں ڈال دیا۔ لکڑی سے دھپ کی آواز بلند ہُوئی۔ پھر ماں نے کچھ مٹّی قبر میں ڈالی۔ پھر دھپ کی ایک آواز آئی۔ میرے سینے پر دباؤ بہت بڑھ گیا۔ میرے نتھنوں کے پیچھے، آنکھوں کے نیچے آگ سی لگ گئی… جو ویسی ہی تھی جیسی کئی برس قبل میرے گلے کے غدودوں کے آپریشن کے دوران جگہ سُن کرنے پر محسوس ہُوئی تھی۔ جاگنے پر جب میں نے سحر زدہ کر دینے سُرخ روشنی دیکھی اور جھلسنے کا احساس ہُوا تو میری چیخ نکل گئی تھی۔ ’’کیا میں جہنم میں ہوں؟‘‘ ایک ڈاکٹر کو مداخلت کرنا پڑی کیوں کہ چِلّانے سے میرے گلے سے خُون بہنے لگا تھا۔
وَلادو اور آئیوو نے مٹّی ڈالی۔ میری بڑی بہن نادا نے بھی گالوں پر آنسو بہاتے ہُوئے یہی کیا۔ نیلا اور میں نے اِس سے انکار کر دیا۔ میں قبر کی طر بڑھا تو آئیوو نے مجھے کوٹ سے کھینچتے ہُوئے روکنا چاہا تو میں کنارے پر لڑکھڑا گیا اور اپنا توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہُوا کیچڑ بھرے پانی کو دیکھتا رہا۔ تابوت کے اُوپر ایک موٹا سا زندہ مینڈک بیٹھا ہُوا تھا۔
گورکنوں نے بیلچے بھر بھر کر تابوت پر مٹّی ڈالی۔ دھپ کی آواز تیزی سے کم سے کم اور زیادہ زیادہ سے بھاری ہوتی گئی۔ گورکنوں نے اپنے کام کی رفتار کو بڑھایا اور اُن میں سے ایک نے اپنی ہتھیلیوں پر تھُوکا… جیسے کسی اچھے معاہدے پر مہر ثبت کی جا رہی ہو… تاکہ آبلے نہ پڑیں۔
پہاڑی سے لوگ گرجا گھر، شراب خانے اور گھروں کی طرف بِکھرتے دیکھے جا سکتے تھے۔ اگرچہ ابھی قبر اُوپر تک مٹّی سے نہیں بھری گئی تھی لیکن ہم بھی اُس سے دُور ہٹنے لگے۔
گرم ہَوا کے جھونکے نے نَیلا کی آنکھوں سے بال ہٹائے۔ جب میں اپنے آپ کو نہیں دیکھتا تو ایک قدم چھوڑ کر اگلے قدم پر پھلانگ لگانے لگتا ہوں۔ میں اپنی خوشی کی غیر موزونیت پر حیران ہوتا تھا۔ نَیلا جرمن زبان میں ’’خاموش رات‘‘ گنگنانے لگی۔
’’کیا وہ تمھارے لیے اِتنی دُعا کرتے تھے کہ تم جرمن زبان بولنے لگی ہو؟‘‘
’’نہیں، یہ میں نے جماعت کی ٹیپ سے سیکھی ہے۔‘‘
’’بہت بری بات ہے۔ کیا تم نے سٹُٹ گاٹ (Stuttgat) میں کوئی قتل ہوتے دیکھا ہے؟‘‘
’’کتنا عجیب سوال ہے!‘‘
’’میں نے سُنا ہے کہ جرمن قاتل تھے۔ اِس لیے مجھے یقین تھا کہ تم کبھی واپس نہیں آؤ گی۔‘‘
’’نہیں، وہ اچھے لوگ ہیں۔‘‘
’’ناممکن، کیا تم نے ہماری تاریخ کی کتاب پڑھی ہے؟ ہمارے لوگوں کو درختوں سے لٹکا کر پھانسی دی گئی، گھر جلا دیے گئے اور بچّوں کو گولیاں مار دی گئیں؟‘‘
’’وہ نازی تھے۔ زمانۂِ جدید کے جرمن بہت مہذب ہیں۔‘‘
’’میرا اُستاذ بتاتا ہے کہ اُنھوں نے جرمنی اور امریکا میں انسانوں کا قتل کیا۔ وہ خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ کیا وہ رکھتے ہیں؟‘‘
’’اُن میں سے اکثر، یہاں کے لوگوں سے زیادہ۔‘‘
’’چاچا پَیرو کہتا ہے کہ اُن کی داڑھیاں جھاگ سے بنی ہوتی ہیں۔‘‘
وہ دوبارہ گانے لگی۔
گرجا گھر میں پادری نے اجتماع کو بتایا کہ اُن سب کو میرے والد جیسی موت کی توقع رکھنا چاہیے۔ ’’اُس شخص جتنی ہم میں سے کس نے عبادت کی ہے؟ ایک بار میں اُس کے ساتھ کھڑا اُس کے لیے دُعا کر رہا تھا کہ ایک آواز نے سرگوشی میں مجھے کہا کہ میں دُعا بند کر کے اُس کے گھٹنے دیکھوں۔ میں نے اُس کا پائجامہ اُس کے گھٹنوں سے اُوپر چڑھایا… اُن پر خُون کی موٹی تہیں جمی تھیں۔ تو ہم سب کو ایسی خوش نصیب موت کے لیے خدا کی حمد و ثنا کرنا چاہیے۔ ہمارا ساتھی اب نئے یروشلم میں ہے۔‘‘
جیسے خطبے نے جنت کے پُرشکوہ ہونے والی عام سی باتوں کی طرف موڑ لیا میں نے بینچ کی دھاریوں میں اپنے انگوٹھے کا ناخن گھسانا شروع کر دیا۔ پادری نے ڈبل روٹی کے ٹکڑے کیے اور الیکٹریشن ایک چھوٹی ٹوکری میں اُنھیں بانٹنے لگا۔ بعد میں شراب سِلوری پیالوں میں دی گئی جو کپ آف مارشل ٹیٹو ٹرافی جیسے تھے جسے میرے پسندیدہ فٹ بال کلب نے جیتا تھا۔ میں خوش تھا کہ میں تقریب میںشامل نہیں ہو سکتا… میرا ابھی بپتمسہ نہیں ہُوا تھا… کیوں کہ میں پیالے کے کنارے پر لگا ہُوا ایک سو بُوڑھے مردوں اور عورتوں کا تھُوک چاٹنے کا تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا گو کہ مجھے شراب کی مہک پسند تھی۔
گرجا گھر سے نکلتے ہُوئے متعدّد بُوڑھوں نے اپنے غلیظ ہاتھوں سے میرے بالوں کو تھپتھپایا… جیسے وہ وہ اپنی اُنگلیاں کسی مقدس شے میں ڈبو کر اپنی کیتھولک عادات کی طرف پلٹ رہے ہوں… اور اُن کی مقدس شے میرے بال تھے۔
گھر میں درجنوں رشتے داروں نے پسی ہُوئی سُرخ مرچوں والی مرغی اور کیک کھایا جنھیں ماں نے کسی نہ کسی طرح تمام اُلجھنوں کے درمیان تیار کرنے کا جھنجھٹ کیا تھا۔ مجھ معلوم تھا کہ یہ اُن ہی کا کیا ہُوا ہے کیوں کہ اُن کے علاوہ کوئی اَور خشخاش کے کیک، پنیر کے شامی کباب اور سیب کے کیک نہیں بنا سکتا تھا۔ اگرچہ وہاں کوئی لطیفے نہیں سنا رہا تھا لیں میں ہنسنے لگا۔ میری بہن نے مجھے منع کیا اور پیلے رنگ کا ایک ہموار جرمن ٹوتھ برش نکال کر میری دانتوں کے درمیان سے خشخاش کے دانے صاف کرنے لگی۔ جس سے مجھے گدگدی محسو ہُوئی اور میں زیادہ ہنسنے لگا۔
تین روز تک گھر سے باہر رہنے والی بِلّی آکر اپنی پشت میری پنڈلی سے رگڑتے ہُوئے محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگی اور ہلکی سی میاؤں میاؤں یُوں کی جیسے ہر چیز اپنے بہترین معمول پر ہو اور ہم میں سے کوئی بھی غائب نہ ہو۔ وہ شمار کرنا نہیں جانتی تھی کہ اگر اُس کے چار بچّے ہوتے جن میں سے دو ڈوب کر مر جاتے تب بھی بظاہر یہ جانے بغیر کہ اُس کے کچھ بچّے غائب ہیں وہ یُوں ہی میاؤں میاؤں کرتی۔ لیکن اگر آپ اُس کے تمام بچّوں کو اُٹھا کر لے جائیں تو وہ کئی روز تک اِس قدر غمگین اور خوف ناک انداز میں بَین کرے گی جو آپ کو دہلا کر رکھ دے گا۔ اُس کے لیے ہماری بچی ہُوئی تعداد کافی تھی۔ شاید جلد ہی میں بھی ہم میں سے ایک فرد کی کمی، باپ کے نہ ہونے کا عادی ہو جاؤں گا۔ میں نے سب کی نظریں بچا کر سفید گوشت کی کچھ بوٹیاں میز کے نیچے اُسے ڈال دیں جنھیں اُس نے ایک لمحے کے لیے اپنی میاؤں میاؤں بند کر کے پلکیں جھپکاتے ہُوئے مزید حاصل کرنے کے لیے چبائے بغیر نگل لیا۔
اگرچہ گھر میں وَلادو، نادو اور نَیلا موجود تھے لیکن ماں یہی دہراتی رہی کہ گھر خالی خالی ہے جس سے مجھے اتفاق تھا… سیڑھیوں پر قدموں کی گُونج نہیں تھی۔ ’’میں جب بھی کمرے میں جاتی تو اُنھیں بیٹھے، انجیل کی تلاوت کرتے یا سجدے میں گِرے، یا پھر کمرے میں چہل قدمی کرتے دیکھتی تھی۔‘‘ اُنھوں نے بتایا۔
ماں نے والد کی قبر پر پتھّر لگا دیا۔ اُس نے اُس پر میرے والد کا نام کُندہ کیا… جو بالکل میرا نام تھا جس سے مجھے خوشی نہیں ہُوئی۔ میرے لیے زیادہ دہشت ناک بات یہ تھی کہ ماں نے اپنا نام مع تاریخ پیدائش لکھا لیکن تاریخ وفات خالی چھوڑ دی تاکہ جب وہ انتقال کرے تو اُس پر صرف تاریخ کُندہ ہو۔ پتھّر کھڑا کرنے کے بعد وہ قریب قریب روز اُن کی قبر پر جانے لگی۔
میں قبرستان جانے سے گریز کرتا تھا لیکن بہ امرِ مجبوری ایک سال بعد چچا پَیرو شراب پینے کے بعد درخت سے گِرکر اپنی گردن تڑوا بیٹھا تھا تو مجھے وہاں جانا پڑا۔ اُس کی قبر کے شہد کے چھتے کی مانند سُرمئی چتّیوں والے سیاہ پتھّرپر، جس میں مَیں اپنا عکس دیکھ سکتا تھا ، درج تھا: ’’موت تمھارا ڈنک کہاں ہے؟‘‘
مجھے اُس کمرے سے خوف آتا تھا جہاں میرے والد نے وفات پائی تھی لیکن میری والدہ اور آئیوو نہیں ڈرتے تھے۔ میرے والدین کی بھُورے رنگ والی بے مُسکراہٹ شادی کی تصویر پلنگ کے اُوپر موجود تھی جس میں دونوں تن کر کھڑے تھے۔
کئی برسوں تک میں اپنے باپ کا آخری کھانا، سیب نہیں کھا سکا۔ میں نے جب بھی اُسے کھانے کی کوشش کی تو وہ میرے حلق میں پھنس گیا۔ کئی برسوں تک ہر جنوری کی چھے تاریخ کو مجھے یاد آتا رہا کہ کیا ہُوا تھا۔ میں بتّیاں روشن رکھتے ہُوئے ڈرتا رہتا کہ میں خود بھی مر جاؤں گا۔
پہلی برسی پر مجھے یقین تھا کہ میں مر جاؤں گا گو میں جانتا تھا کہ میرا یقین غیر منطقی ہے۔ میں نے اپنے والد کی زینتھ گھڑی اپنے بستر پر رکھ لی۔ میں آنکھیں کھولتے بند کرتے ہُوئے عبادت کرتا ہا۔ تیس سیکنڈ گذر گئے، پھر دس سیکنڈ اَور گذر گئے۔ میرے دِل کی دھڑکنیں تیز تھیں اور شیشے کے پنجرے میں بند عقاب کی مانند سینے سے ٹکرا رہی تھیں۔ مجھے یقین تھا شیشہ چند ہی سیکنڈوں میں پارہ پارہ ہو جائے گا۔ جب آدھی رات کا وقت بِیت گیا تو میں بے حد مسرور تھا۔ میں نے خدا کا شُکر ادا کیا۔ شعور کی عمر کو پہنچنے تک ہر برس میرے ساتھ یہی ہوتا رہا۔
Original Title: The apple
Written by:
Josip Novakovich (Born: April 30, 1956) is a Croatian Canadian writer.

— with Najam Uddin Ahmad.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2907543669476147

جواب چھوڑیں