"ازابیل، میں اپنا فرض نبھا رہا ہوں اور تم اس …

"ازابیل، میں اپنا فرض نبھا رہا ہوں اور تم اس سے متفق ہوں۔ میں اپنی زندگی کی قربانی دے رہا ہوں اور یہ قربانی میں اپنی اندازے سے کہیں زیادہ آسانی سے دے رہا ہوں۔ شاید اس لئے کہ مجھے معلوم ہی نہ تھا کہ مجھ میں اتنی ہمّت ہے۔ لیکن میں کوئی عظیم شخص نہیں ہوں۔ میں تو صرف ایک ایسا لاچار شخص ہوں جو وہ کچھ کرنے کے لئے ہرگز تیار نہ تھا جو اسے کرنا پڑ رہا ہے۔ تمہیں مجھ سے بہت توقعات وابستہ نہیں کرنا چاہئیں۔میری ہمّت کی بھی ایک حد ہے۔ مجھے ایسی مصیبتیں جھیلنے کی عادت ہے اور نہ ہی ایسے تکالیف برداشت کرنے کی۔ میں اپنا رنج و الم تو برداشت کر سکتا ہوں دوسروں کا نہیں۔ اور مجھے خدشہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ میری موت کے نتیجے میں میری اپنی جان سے بھی عزیز بیٹی کی زندگی بھی داؤ پر لگ جائے گی اور اس کی زندگی کا چراغ بھی گل ہو جائے گا تو میں حوصلہ ہار بیٹھوں گا۔ تمہیں مجھے اس ناقابل برداشت اذّیت سے بچانا ہوگا جو اب بھی میرے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تمہیں تو اس بات کا احساس ہونا چاہئے۔ تمہیں میری مدد کرنا چاہئے۔ اور تم دونوں ہو کہ میری مدد کرنے کی بجائے میرے لئے صورتحال کومزید کربناک بنا رہے ہو۔ کیا تم نہیں چاہتی کہ تمہارا باپ دشمنوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو؟ میں اپنی موت سے خوفزدہ نہیں ہوں لیکن تمہاری موت میں برداشت نہ کر پاؤں گا۔ میری ہمّت کو کمزور نہ کرو جس کی چند ہی لمحوں میں مجھے اشد ضرورت ہو گی۔میں اپنی زندگی کی قربانی دے سکتا ہوں لیکن تم دونوں کی نہیں۔ میں یہ تین موتیں اور تین گنا اذّیت برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر میں نے تمہیں اپنے پہلو میں موت کے سامنے کھڑے دیکھا تو میری ہمّت اور میرا حوصلہ پاش پاش ہو جائے گا۔"
نوبل انعام یافتہ بیلجئین ڈرامہ نویس ماریس ماترلینک کے دوسری جنگ عظیم کے پس منظر میں لکھے گئے ڈرامے "ستیل ماند کا مئیر" کے اردو ترجمے سے ایک اقتباس – فرانسیسی سے براہِ راست اردو ترجمہ : شوکت نواز نیازی

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2907544179476096

جواب چھوڑیں