( غیر مطبوعہ ) خوشی کی یہ رگ وپے میں اقامت آخ…

( غیر مطبوعہ )

خوشی کی یہ رگ وپے میں اقامت آخری ہے
جو تُم سے ہو گئی مجھ کو مَحبت' آخری ہے

بہت سا تم سُنہـری دُھوپ میں سنولاؤ خود کو
دسمبر جا رہا ہے اور تمازت آخری ہے

ہوا کے روبرُو کیا ے یہ رہ رہ کر بھڑکنا
دیے کی لو بتاتی ہے' یہ وَحشت آخری ہے

جو دسترخوانِ ِخواہش پر ہراک نعمت سجی ہے
تمھیں لگتا نہیں پگلی! یہ دعوت آخری ہے

نئی رُت میں نجانے میں کہاں جا کر کِھلوں گی
لرزتی شاخ پر میری سکُونت آخری ہے

کہاں آوؑں گی پھر میں معبدِ صد آرزُو میں
فسُردہ بُت ہیں اور اِذن ِ عبادت آخری ہے

پھر اس کے بعد تنہائی نہیں ہو گی میسّر
یہ مجھ کو خود کلامی کی سہُولت آخری ہے

گُل ِ ہر رنگ سے چپکی ہُوئی ہیں میری آنکھیں
مگر یہ لُطف یہ پُھولوں کی صحبت آخری ہے

یہ پُھلواری مِرے اندر کے گلشن میں نہیں کیا
تو کیا یہ پُھول' یہ خوشُبو' یہ رنگت آخری ہے؟؟؟

وہ آیا ہے تو اُس کو روک لو مہنازؔ انجُم !
مَحبت پھر نہیں ہو گی ' یہ مُہلت آخری ہے

( مہنازؔ انجُـــم )

— with Mahnaz Anjum.

جواب چھوڑیں