ٹرمپ امریکہ کیلئے خطرناک ہے کیا؟۔۔ڈاکٹر ندیم عباس


SHOPPING

SHOPPING

نااہل اور احمق کو جب اختیار ملتا ہے تو وہ اپنے ہی گھر کو آگ لگاتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ کسی پر جنگ مسلط کرنے کی بجائے اس پر احمق و نااہل کو حکمران بنوا دو، وہ ملک خود بخود ہی ڈوب جائے گا۔ بندر کی کہانی بڑی مشہور ہے، اس نے اپنے مالک کی عقیدت میں اس کا خیال رکھنے کے لیے اس مکھی کو چھری سے مارنے کی کوشش میں مالک کی ناک کاٹ دی، جو ناک پر بار بار بیٹھ رہی تھی۔ امریکی صدر کا امریکہ کے لیے معاملہ بھی کچھ اسی طرح کا ہے، وہ امریکہ کے وہ دوست ہیں جنہوں نے امریکہ کی بین الاقوامی سطح پر ناک کٹوا دی ہے۔ اندرونی طور پر امریکہ داخلی انتشار کا شکار ہوا، افریقن امریکن کے لیے حالات بہت سخت ہوگئے ہیں اور معاشی تفریق بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کرونا کے نتیجے میں ہونے والی اموات بھی افریقن امریکن میں دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔ غربت بری طرح سے افریقن امریکن کے بستیوں کے مکینوں کو متاثر کر رہی ہے۔ امریکی پولیس نے جس طرح نہتے افریقن امریکن کو قتل کیا، وہ بھی کسی المیے سے کم نہیں ہے، اس کے نتیجے میں امریکی تاریخ کے شدید ترین احتجاج ہوئے۔ امریکی صدر کی پالیسیوں کا نتیجہ تھا کہ اتنے شدید مظاہرے ہوئے کہ وائٹ ہاوس میں خطرہ محسوس کرتے ہوئے فوج طلب کرنا پڑی اور پناہ لینا پڑی۔

امریکہ دنیا کی بڑی معیشت ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کیے گئے بین الاقوامی نظام کو بالواسطہ یا بلاواسطہ وہی چلا رہا ہے۔ روس کے انحطاط کے بعد اس کے اختیار میں مزید اضافہ ہوگیا اور خود کو دنیا کا بادشاہ سمجھنے لگا۔ دنیا کے نئے نقشے بناتا، اس میں رنگ بھرتا اور پھر لٹھ لے کر دنیا کے پیچھے لگ جاتا۔ جو وہ کہہ رہا ہے، وہی بین الاقوامی قانون ہے، وہی حق و سچ ہے، جو اس کے ساتھ وہ مہذب ہے اور جو ان کے ساتھ نہیں، اسے ان کے سیکرٹری خارجہ چند دنوں میں جنگل کے دور میں پہنچانے کی بات کرتے۔ اسی دھونس دھمکی کے نیتجے میں افغانستان سے لے کر لیبیا تک اسلامی دنیا میں تباہی مچا دی گئی اور فلسطینیوں کے حقوق غصب کر لیے گئے۔ دنیا میں انصاف کی بات کرنا اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونا جرم قرار دے دیا گیا، ملتوں کے حقوق پامال کیے گئے اور اس پر آواز اٹھانا ممنوع قرار دیا گیا، دنیا بھر میں اپنے ایجنٹوں کے نظام کے ذریعے حکمرانی کی گئی۔

ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے، انہوں نے امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کا دلکش نعرہ لگا کر اندرونی اور بیرونی طور پر امریکہ کو ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں امریکہ کے دشمن مل کر بھی نہیں لا سکتے تھے۔ اب مشرق وسطیٰ سمیت پورے خطے سے امریکی اثرات کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، امریکہ طالبان کا مقابلہ نہ کرسکا اور ان کے ساتھ میز پر بیٹھ کر وہاں سے جا رہا ہے۔ عراق کی پارلیمنٹ اسے عراق سے نکلنے کا کہہ چکی ہے اور دیگر ممالک میں بھی اس کی یہی صورتحال ہے۔ انڈیا چین تنازعے میں انڈیا کی شدید خواہش تھی کہ امریکہ اس کی حمایت میں آئے، مگر وہ خواہش حسرت میں تبدیل ہوگئی، بقول امریکی صدر ٹرمپ کے ہم سعودی عرب کی حمایت اس کے پیسے کے لیے کرتے ہیں، ان کے پاس پیسے ہیں اور ہمیں وہ چاہیئں، جن سے نوکریاں ملیں گی۔ اب انڈیا کے پاس تو تیل کے پیسے نہیں ہیں نا جو امریکی اسلحہ فیکٹریوں کا چلا سکیں اور ان کے لوگوں کو روزگار فراہم کرسکیں، اس کے نتیجے میں جتنی بے گناہ عوام مرتی ہے، انہیں اس سے کیا۔؟

کرونا کی وباء نے امریکی نظام کو دنیا کے سامنے ایکسپوز کر دیا ہے، دنیا بھر سے لوگ امریکہ میں اس لیے جاتے تھے کہ وہاں کا ہیلتھ سسٹم مضبوط ہے، وہاں کے ڈاکٹر اعلیٰ ہیں اور وہاں کی حکومت و نظام کی صلاحیتیں بہت طاقتور ہیں، مگر یہ سب بری طرح ناکام ہوگئے۔ آج پورے کا پورا چین کھلا ہوا ہے اور پورا امریکہ پریشانی میں ہے، امریکی نظام ڈیلیور کرنے میں ناکام رہا۔ امریکی نظام اور وہاں کی حکمت عملی تو پاکستان سے بھی ناکام ہوگئی۔ ایک امریکی ماہر نے کہا اگر پاکستان کی حکمت عملی اختیار کی جاتی تو سینکڑوں ارب ڈالر بچائے جا سکتے تھے۔ اس وقت امریکہ میں اموات کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے اور متاثرہ افراد کے حساب سے بھی امریکہ پہلے پانچ ممالک میں ہے۔ خیر ہم امریکی صدر ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کی بات کر رہے تھے، اس حوالے سے بیجنگ کی سنگھوا یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلشینز کے سربراہ پروفیسر یان زویٹونگ کہتے ہیں کہ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ چین کی دلچسپی کہاں ہے تو ترجیح بائیڈن کے بجائے ٹرمپ کی ہوگی۔ اس لیے نہیں کہ ٹرمپ بائیڈن کے مقابلے میں چین کے مفادات کو کم نقصان پہنچائیں گے، لیکن اس لیے کہ وہ یقینی طور پر امریکہ کو بائیڈن سے زیادہ نقصان پہنچائیں گے۔

یہی اصل بات ہے کہ دنیا کے رہنماء اور ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ ان کے لیے نقصان دہ ہوں یا نہ ہوں، خود امریکہ کے لیے ضرور نقصان دہ ہیں۔ کسی بھی رہنماء کے لیے سب سے بڑی چیز اس کا اعتبار ہوتا ہے، امریکی صدر کے بارے میں جھوٹ بولنے کی بات شہرت پکڑ چکی ہے، اس بات پر تجزے ہوئے ہیں کہ انہوں نے ہر ماہ اوسطاً کتنے جھوٹ بولے ہیں۔ سب سے اہم گواہی گھر کی ہوتی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑی بہن اور سابق فیڈرل جج میریاین کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی “ایک جھوٹے انسان ہیں، جس کے کوئی اصول نہیں۔” اسی طرح ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کہا ہے کہ عوام کورونا وائرس کے بارے میں ٹرمپ کے بار بار جھوٹ بولنے سے تنگ آچکے ہیں۔ امریکی الیکشن جو بھی جیتے، ایک بات طے ہے کہ ٹرمپ کا منتخب ہونا دنیا کے لیے تو مسائل پیدا کرے گا ہی، خود امریکی عوام اور امریکی اقدار کے لیے بھی یہ نیک شگون نہیں ہے۔

SHOPPING




بشکریہ

جواب چھوڑیں