آرزو اور ایسٹونیا: پاکستان 13 سالہ بچے کے دکھ اور تکلیف کو کیسے روک سکتا تھا – نعیم صادق

پاکستان کی ترجیحات کی فہرست میں دو اہم امورسرے سے غائب ہیں۔ ایک آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور دوسرا غیر فعال افسر شاہی۔ پاکستان کی جدید خوشحال اور ترقی پسند ریاست بننے کی صلاحیت ان دونوں امور کے حل سے جڑی ہوئی ہے۔ اس مضمون کا مقصد ہمارے متروک اور پیچیدہ حکمرانی کے عمل کو دوبارہ انجینئر کرنے کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکان کو ممکن بنانا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایک عام شہری کی زندگی، سخت محنت ، بے معنی دستاویزات اور سرکاری دفاتر کی جانب بے مقصد بھاگ دوڈسے دوچار ہے۔ اس اذیت کا تصور کریں کہ جس سے شوہر کی موت کے بعد پنشن لینے کے لئے ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم کی بیوہ عورت کو گزرنا پڑتا ہے۔ اسے 18 قسم کی دستاویزات، حلف نامے، فوٹو کاپیاں، سرٹیفکیٹ، فوٹو، تصدیق نامے، شادی کا ثبوت، اور اس بات کا ثبوت دینا کہ اس کا شوہر واقعتا مر گیا تھا اور اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقت میں بیوی زندہ ہے۔ اگر خاندانی ریکارڈ کی معلومات کو ڈیجیٹل طور پر، آسانی سے اور محفوظ طریقے سے متعلقہ محکموں کو مہیا کیا جائے تو اس پریشانی اور اذیت سے بچا جاسکتا ہے۔ ذرا ایسٹونیا کو دیکھیں جو ایک بہت ہی چھوٹا ملک ہے۔ جو آج کے دور میں دنیا کا جدید ترین ڈیجیٹل سوسائٹی والا ملک سمجھا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عوامی خدمات کا 99 فیصد 24/7 آن لائن دستیاب ہے۔ واحد ملک ہے جہاں شہریوں کو اگر وہ پہلے ہی کسی دوسرے محکمے کو ایک بار کوئی دستاویز یا اعداد وشمار دے چکے ہیں تو دوسری بار کسی بھی سرکاری محکمہ کو کوئی اعداد و شمار دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ واحد ملک جہاں شہری کی اپنی زندگی میں کبھی بھی سر کاری دفاتر میں جانے کی ضرورت نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ شادی کا معاملہ ہو یا غیر منقولہ جائیداد کا لین دین رجسٹر کرانا ہو۔

آج کے دور میں ہر ایک ‘اسکائپ’ کے بارے میں جانتا ہے، لیکن بہت کم اس بات سے واقف ہوں گے کہ اس کو اسٹونین انجینئروں نے تیار کیا تھا اور بعد میں مائیکرو سافٹ کو 8.56 بلین ڈالر نقد میں فروخت کیا تھا۔ ایسٹونین نے ڈیجیٹل ترقی کی ایسی بے مثال سطح تک کیسے پہنچے ؟ ڈیجیٹل سوسائٹی کے لئے اسٹونین کی یہ ترقی 3 عوامل پر مبنی ہے۔ ایک مستقبل کی سوچ رکھنے والی حکومت، آئی ٹی کا ایک سرگرم شعبہ، اور ٹیکنالوجی سیکھنے والی آبادی۔

 اس ملک میں 98 فیصد کمپنیاں آن لائن قائم کی جاتی ہیں۔ ، 99٪ بینکاری لین دین آن لائن ہوتا ہے۔ اور 98فیصد ٹیکس ڈکلیریشن آن لائن فائیل کیئےجاتے ہیں۔ ایسٹونیا میں ٹیکس ریٹرن فائل کرنے میں صرف 3 منٹ لگتے ہیں۔ اس کے برعکس بیشتر پاکستانیوں کو جان بوجھ کر پیچیدہ ڈیزائن کردہ مشکل کام انجام دینے کے لئے ایک پیشہ ور وکیل کی خدمات کی ضرورت پڑتی ہے۔

2005 میں، ایسٹونیا تاریخ کا وہ پہلا ملک بن گیا جس نے ملک گیر انتخابات میں انٹرنیٹ ووٹنگ کا نظام متعارف کرایا۔ آئی ووٹ سسٹم ایک ایسا نظام ہے، جو اسٹونیا کے شہریوں کو دنیا میں کہیں بھی انٹرنیٹ سے منسلک کسی بھی کمپیوٹر سے اپنے ووٹ کاسٹ کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ کچھ ممالک میں استعمال ہونے والی مشکل مشینری کے ساتھ مہنگے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کے برخلاف، اسٹونین کا ووٹنگ کا نظام آسان اور محفوظ ہے۔ ایک اور قابل ذکر ڈیجیٹل ترقی جس کی پاکستان کو فوری طور پر تقلید کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے اسٹونین کورٹ انفارمیشن سسٹم۔ اسٹونین عدالت کا نظام پولیس، جیلوں، پراسیکیوٹرز اور فوجداری مقدمہ کے انفارمیشن سسٹم سے منسلک ہے۔ بہت سارے عدالتی معاملات میں کاغذ کی فائل بالکل نہیں بنتی ہے۔ ہر فریق کہیں سے بھی مقدمہ شروع کرسکتا ہے اور دستاویزات تک رسائی بھیج سکتا ہے۔ اس سسٹم میں ورک فلو انجن ضروری اعداد و شمار مقدمہ کے لیے مختص جج کے پورٹل پر پہنچاتا ہے۔ پاکستان کے برعکس، اسٹونین جج کسی بچے کی عمر کا تعین کرنے کے لیے ہفتوں، کمیٹیاں تشکیل نہیں دے گا یا تحقیقات کے لیے انویسٹیگیٹر کا تقرر نہیں کرے گا۔

 وہ غیر اخلاقی طور طریقے رکھنے والے وکلاء کے مشکوک حلف ناموں یا جعلی ‘مولویوں’ کے جعلی ’نکاح ناموں‘ پر بھی انحصار نہیں کرے گا۔ وہ سیکنڈوں میں ہی اپنے کمپیوٹر پر مختلف سرکاری محکموں سے حقائق سے متعلق معلومات حاصل کرے گا اور چند منٹ میں اس کیس کا فیصلہ دے دے گا۔ پاکستان میں ایک حالیہ معاملے میں 13 سالہ بچی آرزو کو اس اذیت، زیادتی اور دکھ سے بچایا جا سکتا تھا۔ جس میں اغوا، جبری شادی اور مذہب کی تبدیلی شامل تھی۔ پاکستان کو حلف ناموں، اسٹامپ پیپرز، وکلاء اور نوٹری پبلک پر اپنی قدیم اور ضرورت سے زیادہ انحصارکو ختم کرکے ایک موثر ڈیجیٹل جوڈیشل انفارمیشن سسٹم کی ضرورت ہے۔ جہاں عدالتوں کو حقائق اور ڈیٹا کے بارے میں درکار معلومات، حکومت کے ڈیٹا بیس کے نیٹ ورک کے ذریعہ فوری طور پر فراہم کرنا چاہئے۔ اگر میڈیا نے اس معاملہ پر بڑے پیمانے پرشور نہ مچایا ہوتا اور بہادر وکیل جبران ناصر نہ ہوتے تو، 13 سالہ آرزو اپنی باقی ماندہ زندگی ناقابل بیان مشکلات اور بدحالی کے حالات میں گزارتی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں