مسلمانوں کا بہت کچھ یا شاید سب کچھ چِھن گیا ہے۔۔اسد مفتی


SHOPPING

SHOPPING

کہتے ہیں جب ہلاکو خان بغداد کی اینٹ بجانے کے لیے منزلیں مارتا چلا آرہا تھا تو دینِ اسلام کے کبرو صغیر مذہبی علما،مفتیان کرام اور ملت اسلامیہ کے راہنما اس سوال پر دست و گریبان تھے کہ دورانِ نماز “آمین”اونچے سُروں میں کہنی چاہیے، کہ دبی زبان سے؟
ایک مکتبہ فکر اس عالم ِ سوچ میں غلطاں تھا،کہ احرام کی حالت میں جُں یا مچھر مارنا جائز ہے کہ نہیں؟
اگر جائز نہیں ہے تو کیسے بچا جائے؟اور اگر ارتکاب کرے تو اس پر کیا واجب ہوگا،؟
دوسرا مکتبہ فکر اس بحث و مباحثہ میں مشغول تھا کہ وضو کرتے ہوئے دائیں پاؤں پ زور دینا چاہیے کہ بائیں پر؟
تیسرا اس بات پر عقل کے گھوڑئے دوڑا رہا تھا کہ سوئی کے ناکے سے فرشتہ گزر سکتا ہے کہ نہیں؟
چوتھا ا س مباحثہ میں دور کی کوڑی لارہا تھا کہ جس وضو میں مسواک کی جائے اس سے پڑھی جانے والی نماز کا ثواب بغیر مسواک کیے ہوئے وضو کی نماز سے 70درجہ زیادہ ہوتا ہے؟یا 50درجہ؟۔۔۔۔
اسی طرح دوسرے کئی فرقے اس بحچ میں مصروف تھے کہ حضرت امام حسین جب کربلا میں آئے تو انہوں نے سبز کپڑے پہن رکھے تھے یا سیاہ؟اور یہ کہ قبلہ کی طرف رُخ کرکے وضو کرنا واجب ہے کہ مستحب؟
یہ واقعات مجھے آج اس لیے یاد آئے کہ سعودی عرب سے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہاں ستر علما بشمول امام کعبۃ اللہ نے ٹیلی فون پر ہیلو کہنے کو حرام قرار دیا ہے۔انہوں نے فتویٰ دیا ہے انگریزی زبان میں “ہیلو”جہنم کو کہتے ہیں۔اور ہیلو کے معنی جہنمی یا دوزخی بنتا ہے۔اس سروے اور تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ اگر “انگریز”جب خود فون کرتے ہیں یا وصول کرتے ہیں تو وہ ہائے”hi,ya”استعمال کرتے ہیں،اس طرح مسلمانوں میں بھی ہیلو ہائے کا رواج پڑگیاہے،وہ بھی کافروں کی نقل میں یہی کچھ کہتے ہیں۔امام کعبہ اور ستر علما نے ہیلو کہنے سے مسلمانوں کو سختی سے منع کیا ہے۔
اُدھر پاکستان میں جامعہ نعیمیہ کے ترجمان محمد ضیا الحق نقشبندی کے مطابنق “دارالافتاء جامعہ گڑھی شاہو”لاہور کے جید عالم دین علاقہ مفتی محمد عمران حنفی قادری (جو اتفاق سے امام کعبہ نہیں ہیں)نے موبائل،ٹیلی فون،یا کسی کو مخاطب کرنے یا متوجہ کرنے کے لیے “ہیلو”کہنا جائز قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ لفظ لغت کے مطابق دوسرے کو متوجہ کرنے،پکارنے،اور خوش آمدید کے معنی میں استعمال ہوتا ہے،کہ اس لفظ کی وضع ہی دوسرے کو متوجہ کرنے،بلانے اور سلام کرنے کے لیے ہوتی ہے،اور ہیلو کے استعمال کو حرام کہنے کا فتویٰ تحقیقی اعتبار سے شرعاً درست نہیں۔۔لفظ “ہیلو”یہود و نصاریٰ سے ہماری طرف آیا ہے،اور یہ دونوں مذۃب جنت و جہنم پر ایمان رکھتے ہیں۔اور یہ کیسے ہوسکتا ہے۔کہ وہ (یہود و عیسائی)ایک دوسرے کو جہنمی یا دوزخی کہہ کر مخاطب کریں،؟
مفتی محمد عمران حنفی نے کہا ہے کہ تمام مسلمان “ہیلو”کا استعمال کرسکتے ہیں۔اس کے کہنے پر کوئی شرعی ممانعت نہیں۔
بات یہیں تک ہی رہتی تو ٹھیک تھا۔۔لیکن اُدھر ملائشیا سے بھی خبر آئی ہے کہ غیر مسلموں سے کہا گیا ہے ک وہ 35اسلامی اصطلاحوں اور لفظوں کے استعمال سے گریز کریں،سلانگر کی ریاست کی انتظامیہ نے کافروں سے کہا ہے کہ وہ ان 35لفظوں کو حوالے کے طور پر بھی استعمال نہ کریں۔جن اسلامی ناموں،لفظوں اور اصطلاحوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں لفظ “اللہ”بھی شامل ہے۔
غیر مسلموں اور کفروں سے کہا گیا ہے کہ اس پابندی کی خلاف ورزی پر سلانگر ریاست شرعی فوجداری ترمیمی قانون 1995کے تحت 30000رنگٹ(ملائشین سکہ)جرمانہ عائد کیا جائے گا۔جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں دو سال قید یا دونوں سزائیں (اللہ کا نام لینے پر)ایک ساتھ دی جاسکتی ہیں۔
آپ کی معلومات اور دلچسپی کے لیے یہ بھی بتاتا چلوں کہ جن اسلامی نامو ں اور اصطلاحوں کے غیر مسلموں اور کافروں کی جانب سے استعمال پر امتناع عائد کیا گیا ہے۔ان میں حسبِ ذیل نام بھی شامل ہیں۔اللہ،الٰہی،فرمان،رسول،صلوٰۃ،مبلغ،مفتی،امام،قبلہ کعبہ،حاجی وغیرہ۔۔۔ملائشیا کی وزارت داخلہ نے وضاحت جاری کی ہے کہ ملائشیا میں صرف مسلمان ہی لفظ “اللہ”استعمال کرسکتے ہیں۔۔جبکہ میرے حساب سے مقدس لفظ “اللہ’ساری دنیا کو متحد کرنے والا ایک لفظ ہے،لیکن یہی لفظ بعض علما کی نظر میں اسلام کی جاگیر ہے،اور کسی دوسرے مذہب کے پیروکاروں کا اس لفظ پر کوئی حق نہیں ہے۔
ملائشیا میں اسلام ایک غالب مذہب ہے اور شاید اسی لیے چند مذۃبی راہنماؤں نے اپنی تنگ نظری کے باعث لفظ اللہ پر اعتراض کیا کہ یہ لفظ صرف مسلمان ہی استعمال کرسکتے ہیں،جبکہ ملائشیا ہی کے ایک ماہر تعلیم مسلم عالم ڈاکٹر چندر مظفر کا کہنا ہے کہ لفظ اللہ کے استعمال سے روکا نہیں جاسکتا،انہوں نے بتایا کہ سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب میں 28مرتبہ لفظ اللہ استعمال کیا گیا ہے،اس کے خلاف کسی مسلمان نے کبھی کوئی احتجاج نہیں کیا۔
میرے حساب سے ملت اسلامیہ،اُمہ،یا مسلمان یا جیسا بھی آپ کہہ لیں،ایک ایسا مریض ہے جو عطائیوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے،ہر نیم حکیم اپنے الٹے سیدھے نسخے مریض پر آزما رہا ہے۔اور اس بات پر مُصر ہے کہ خلفا راشدین اسی کے مطب سے دوا لیتے تھے،اور اسی کے نسخے سے مریض کو شِفا نصیب ہوگی،جبکہ اس مریض کا حال یہ ہے کہ
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
آج اس مریض ِ ملت ِ اسلامیہ کے دینی،سماجی،اخلاقی،ثقافتی، روحانی،لسانی اور سیاسی امراض اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ اس ملت کو بِلا خوف و تردید جاں بلب مریض سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے،اوراس کا ثبوت میں اس بات سے بھی دوں گا کہ پاکستان معروٖ عالمِ دین ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم اپنی تحریر،عالمِ اسلام کی اقتصادی او ر سیاسی صورتِ حال، میں انکشاف کیا ہے کہ مسلمان عورت کا گاڑی چلانا یہودیوں کی سازش ہے۔
میں نے کہیں پڑھا ہے کہ دبے،کچلے اور ستائے ہوئے لوگوں کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف کبھی متحد نہیں ہوپاتے۔۔۔اور ان کا حد درجہ شاطر اور چالاک دشمن ان کی صفوں میں انتشار پیدا کرکے انہیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
آگے جبینِ شوق تجھے اختیار ہے
یہ دِیر ہے،یہ کعبہ ہے،یہ کوئے یارہے!

SHOPPING

SALE OFFER




بشکریہ

جواب چھوڑیں