( غیر مطبوعہ ) یہ جو تنہائیوں کے ٹیلے ہیں آنسوؤں…

( غیر مطبوعہ )

یہ جو تنہائیوں کے ٹیلے ہیں
آنسوؤں کی نمی سے گیلے ہیں

مجھ کو منزل نے مسکراہٹ دی
راستوں نے تو پانو چھیلے ہیں

عشق نے پھر کمائی ہے ہجرت
دل کی وَحشت کے ہاتھ پیلے ہیں

ایک ناگن نے ڈس لیا تھا کبھی
آج تک میرے ہونٹ نیلے ہیں

تپتے صحرا میں گُل کِھلائیں گے
میرے بچّے بہت ہٹیلے ہیں

شاخِ امّید ہے پَھلوں سے لدی
اور یہ پَھل بہت رسیلے ہیں

( سنجے شوق ؔ )

— with Sanjay Shauq.

جواب چھوڑیں