مرد کو درد ہوتا ہے – فارینہ الماس

لوگ کہتے ہیں کہ ”مرد کو درد نہیں ہوتا“, ”مرد مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے ہیں اس لئے بڑی بڑی تکلیفوں کو بھی سہہ جانے کا حوصلہ رکھتے ہیں“ معاشرے میں بہادری اور شجاعت کو مرد سے ہی منسوب کیا جاتا ہے اسی لئے جب کسی کی ہمت کو داد دینا ہو تو کہا جاتا ہے ”اس نے زندگی کی ہر تکلیف کا مقابلہ مردانہ وار کیا“۔ اگر واقعی ”مرد کو درد نہیں ہوتا“ تو پھر تو وہ بے حس ہوتے ہیں۔ اور اگر بے حس ہوتے ہیں تو پھر اپنی جان خود اپنے ہاتھوں گنوانے کا چلن کیوں اپناتے ہیں۔ کسی مفکر نے ایک بہت گہری بات کہی تھی کہ ”لوگ اس وقت نہیں مرتے جب انہیں مرنا چاہئے بلکہ اس وقت مرتے ہیں جب وہ مرنا چاہتے ہیں۔“ دنیا بھر میں مردوں کی اوسط عمر عورتوں سے کم ہے۔ جنگوں میں، خانہ جنگیوں میں، دہشت گردیوں میں بھی مردوں کی ہلاکتیں ذیادہ ہوتی ہیں۔

دنیا میں ہر سال اندازاً دس لاکھ لوگ خودکشی کرتے ہیں اور ان دس لاکھ لوگوں میں اکثریت مردوں کی ہوتی ہے۔ جس کا کُل حساب لگایا جائے تو ہر چالیس سیکنڈ میں دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں ایک مرد خود سوزی کر لیتا ہے۔ برطانیہ میں خودکشی کرنے والوں میں مرد 75 فیصد ہیں بھارت میں 70فیصد اور پاکستان میں 66فیصد ہیں۔ پاکستان میں ہر گھنٹے میں ایک شخص اپنی جان کا خاتمہ کر لیتا ہے۔ 2012ء میں 13ہزار اور 2016 ءمیں پانچ ہزار لوگوں نے خودکشی کی۔ جن میں اکثریت مردوں کی ہے۔ صرف 2018ء میں 786 مردوں نے اپنی مرضی سے موت کو گلے سے لگایا۔ ایک تحقیق بتاتی ہے کہ بے روزگاری بڑھنے سے خودکشی کی شرح میں اعشاریہ سات نو اضافہ ہو جاتا ہے۔ بھوک، بے روزگاری اور بے بسی کے باعث لوگ زندگی سے منہ موڑنے لگتے ہیں۔

ہمارے نظام معاشرت میں جہاں عورت کو اپنی بقا اور حرمت سے جڑے مسائل کا سامنا ہے وہیں مرد کی زندگی بھی ذمہ داری اور کمٹ منٹ کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایک ایسا بوجھ جو اس کے اندر کی بے ساختگی، خوشی اور کھلنڈرے پن کو نگل جاتا ہے۔ اس کی جیب ہمہ وقت ایسی انگنت چھوٹی چھوٹی پرچیوں سے اٹی رہتی ہے جن پر گھر کے ہر فرد کی ضروریات و خواہشات کی تفصیل درج ہے۔ جن کے ساتھ انہیں وقت پر پورا کرنے کی تنبیہہ بھی نتھی کردی جاتی ہے۔ اب اس کی ہر سانس کے ساتھ ہر پرچی کی ڈیڈ لائن وابستہ ہے۔ وہ کسی بھی پرچی کو ان دیکھا نہیں کر سکتا ورنہ اس کی ذات کو رگیدا جائے گا۔ اسے لاپروائی اور بے مروتی کے طعنوں سے جذباتی طور پر ہراساں کیا جائے گا۔ وہ سب کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے پل پل مرتا رہے گا۔ اپنے مصائب، الم اور اندیشگی میں چپ چاپ ہی مبتلا رہے گا۔ اس کے ذہن کی جھیل کبھی گرداب سے خالی نہ ہوگی لیکن وہ اس کا تذکرہ کسی سے نہیں کرے گا۔ اسے اپنی زندگی بے کیف، بد مزہ، بے رنگ، اور مشینی سی معلوم ہونے لگے گی۔ روٹین کو نبھاتے نبھاتے زندگی، زندگی نہیں مردگی بن جائے گی۔ لیکن وہ اپنا دکھ کسی سے بانٹے گا نہیں۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ مرد اپنا دکھ کسی سے کہے تو وہ کمزور اور بے ہمت سمجھا جاتاہے۔

دکھ، بے بسی اور تنہائی کو اندر ہی اندر سہتے ہوئے اس کی حساسیت مجروح ہونے لگتی ہے۔ اس کی طبیعت میں سختی، بد مزاجی اور سنگ دلی کی کیفیات ابھرنے لگتی ہیں۔ ایسے میں وہ زندگی سے بے رخی بھی اختیار کر سکتا ہے تاکہ اپنی ذمہ داریوں سے چھٹکارہ پا سکے۔

اپنی طاقت کا زعم بھی مرد کو اندر سے توڑنے کا باعث بنتا ہے۔ تنی ہوئی ٹہنیاں عموماً باد تند کے جھونکوں سے ٹوٹ جایا کرتی ہیں۔ خودکشیوں کے رحجان پر کی جانے والی ایک امریکی تحقیق کے نتائج نے ثابت کیا کہ خودکشی کرنے والے ذیادہ مرد وہ ہوتے ہیں جو مردانگی کے فخر میں اپنے جذبات چھپانے کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ اپنا حال دل بیان نہیں کرتے اور اپنے جذبات و احساسات کو عیاں نہیں ہونے دیتے۔ وہ بظاہر تو مضبوط اور صحت مند ہوتے ہیں۔ لیکن اندر سے خاصے کمزور اور کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ ان کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ انہیں نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا کر دیتی ہے اور یہ بظاہر مضبوط اعصاب کے مالک یہ مرد کب اپنی جان کا خاتمہ کر لیں گے کسی کو شبہ تک نہیں گزرتا۔

کچھ مرد محبت کی ناکامی سے بھی ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔ وہ اپنی محبوبہ کا کسی اور کا ہوجانا برداشت نہیں کر پاتے۔ وہ یہاں بھی اپنی ملکیت کی عادت کے باعث مار کھا جاتے ہیں۔ عورت کا چھن جانا انہیں ان کی بے توقیری کے زخم سے اس طرح گھائل کر دیتا ہے کہ اپنے ہی وجود اور اپنی کمزور ذات سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ دیکھا جائے تو محبت کے معاملے میں اس کی کج فہمی انہیں لے ڈوبتی ہے۔

جب جب، جہاں جہاں عورت کی بے توقیری و بے حرمتی ہوتی ہے، حساس مردوں کا ایک بہت بڑا تناسب ہے جو اپنی صنف کی جانب سے اس وحشیانہ اور ظالمانہ رویے پر ماتم کناں ہوتا ہے۔ عورت کی ہچکیوں کی آواز اسے اندر سے ریزہ ریزہ کرتی ہے۔ اس بے حرمتی سے کسی بہن کا بھائی اور کسی بیٹی کا باپ بھی تو چھلنی ہو جاتا ہے۔ وہ بھی تو جیتے جی مر جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں صاحب دل اور صاحب احساس مردوں کی کمی نہیں۔

خودکشی کی ایک بڑی وجہ مایوسی و درماندگی ہے۔ جو انسان کو بے حوصلگی کی جانب دھکیل دیتی ہے۔ ہر انسان کے اندر ایک حیاتیاتی توانائی موجود ہوتی ہے۔ لیکن بیک وقت شکستگی اور بے حوصلگی کے جذبے بھی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ جب جب انسان ان جذبوں سے مات کھانے لگتا ہے اس کے حوصلے ٹوٹنے لگتے ہیں اس کے اندر کی یہی حیاتی توانائی اسے بکھرنے سے روک لیتی ہے۔ اسے آنے والے کل کی ایک امید دلاتی ہے۔ لیکن اگر ہارنے کا خوف اور شکستگی کا احساس اسے گھن کی طرح چاٹنے لگے۔ اور کوئی اس کی دلجوئی کو آگے نہ بڑھے پھر اس کے لئے زندگی کی وحدت کو برقرار رکھنا دشوار ہوجاتا ہے۔ ناکامی ذہنی دباؤ اور تناؤ کا باعث بن جاتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں اپنی کلیت کو تباہ و برباد کر بیٹھتا ہے۔ اپنی خوشی، اپنے خواب، تعلقداریاں سبھی محدود کر تا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اپنی زندگی کو بھی محدود کر لیتا ہے۔

آج کا بہت برا المیہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنا آپ چھپا جاتا ہے۔ دیکھنے والے کو معلوم ہی نہیں پڑتا کہ وہ اپنے اندر اپنی منافقتیں سمیٹے ہوئے ہے یا اپنی کرچیاں۔ جو باہر سے بظاہر خاموش ہے کیا اندر سے ریزہ ریزہ اور زخم خوردہ ہے یا خاموش رہنا اس کی عادت ہے۔ اگر کوئی ہنستا، کھیلتا، بولتا انسان یک دم خاموشی سادھ لے تو اس کے اردگرد رہنے والوں کا فرض ہے کہ اس کے دل کا احوال جانیں اور اسے اس کیفیت سے باہر نکالیں۔

اظہار ذات سے انسان کے اندر کا غبار، ٹوٹ پھوٹ، تلخ یادوں کا بوجھ اس کے لاشعور سے اس کے شعور میں آتا ہے اور اسے ان سے نجات ملتی رہتی ہے۔ اگر یہ سب اس کے لاشعور میں ہی دفن رہے تو اس کے رگ و پے کو پل پل نوچتا رہتا ہے جس کا احساس خود اسے بھی کھل کر ہو نہیں پاتا۔ پکاسو اپنے ڈراؤنے خوابوں اور اپنے اندر کے تناؤ کو اپنے کینوس پر اتارلیتا تھا جس سے بوجھ ہلکا ہو جاتا تھا۔

اگر اپنی زندگی کے گرد محرومیوں، کمتریوں، وسوسوں کی دیوار کھڑی کرلی جائے تو انسان زندگی سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ زندہ تو ہے لیکن جی نہیں رہا اور پھر ایسا وقت بھی آتا ہے جب اس زندہ رہنے سے بھی بے زار ہو جاتا ہے۔

اپنے عقیدوں اور تصورات میں سخت گیر ہوجانے سے اس کے مزاج میں بدمزاجی، طیش اور انتہاپسندی کا رحجان بڑھتا ہے۔ مرد کے اکھڑ پن کا مظاہرہ گھروں میں، بازاروں اور سڑکوں پر جا بجا دکھائی دیتا ہے۔ عدم برداشت اور انتہاپسندانہ رویے سماج اور تہذیب دونوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

زندگی کو اپنے آج میں جینا سیکھنا ہو گا۔ ماضی پرستی غلط نہیں۔ لیکن ماضی کی بھول بھلیوں میں کھو کر اپنے حال کو بانجھ بنا لینا غلط ہے۔ آج کے لمحے میں ہماری عدم موجودگی زندگی کو کھو دینے کے مترادف ہے۔ جدید رحجان کو دیکھتے ہوئے یہ بھی تحقیق کی گئی ہے کہ مرد نشے کی حد تک سوشل میڈیا میں مگن رہنے لگے ہیں۔ اس مشینی جہاں میں کھو کر گو کہ وہ ایک ان دیکھی محفل کا حصہ تو رہتے ہیں لیکن وہ معاشرتی اور سماجی طور پر تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جو انہیں اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ ضرورت تجرباتی و عملی مہارتوں کی طرف لوٹنے کی ہے۔ تاکہ اپنی کارگزاریوں میں زندگی کو جیا جائے۔

زندگی کو فطرت سے جوڑیں، آسمان کے رنگ، درخت، پھول پتے، پرندے یہ سب فطرت کے وہ عناصر ہیں جو زندگی کو تراوت اور تازگی عطا کرتے ہیں۔ زندگی کو ذمہ داریوں سے ہٹ کر کبھی خود اپنے آپ اور اپنی ذات کے ساتھ بھی وقت بیتائیں۔ زندگی بے کیف نہیں ذہن بے کیف ہو جایا کرتے ہیں۔ زندگی تو انمول ہے یہ اک بار چھن جائے تو پھر کہاں ملتی ہے۔ اس لئے جو لمحے ملے ہیں اسی میں زندہ رہنا سیکھنا چاہئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں