زندگی کا بوجھ: ہائنرش ہائنے، جون ایلیا، غالب اور ف…

زندگی کا بوجھ: ہائنرش ہائنے، جون ایلیا، غالب اور فراق

اتار کر شروع سے ہی پھینک دینا چاہتا تھا میں
یقیں مجھے یہ تھا، یہ کہاں اٹھایا جائے گا
پھر اٹھا لیا کسی طرح، سرے سے جو محال تھا
ہاں مگر مجھ سے یہ نہ پوچھنا، کس طرح؟

(ہائنرش ہائنے کی ایک بہت مختصر نظم؛ جرمن سے اردو ترجمہ: مقبول ملک)

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
(جون ایلیا)

قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
(غالب)

موت کا بھی علاج ہو شاید
زندگی کا کوئی علاج نہیں

(فراق گورکھپوری)

Anfangs wollt ich fast verzagen,
Und ich glaubt, ich trüg es nie;
Und ich hab es doch getragen –
Aber fragt mich nur nicht, wie?

(Heinrich Heine)


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2940424612854719

جواب چھوڑیں