نظام کو چلنے کیوں نہیں دیا جاتا؟ – قاسم یعقوب

ایک ڈیڑھ دہائی پہلے ایک نجی ٹی وی چینل پر سماجی طنز و مزاح پر مشتمل ایک پروگرام کا آغاز ہوا تھا جو غالباً ابھی تک جاری ہے۔ جس میں سیاست دانوں کی حرکات و سکنات اور ان کے طرزِ سیاست پر طنز کیا جاتا۔ ان پر چھوٹے چھوٹے چٹکلے بنا کر پیش کیے جاتے۔ بنیادی طور پر یہ بتانے کی کوشش کی جاتی کہ پورا نظام سیاست دانوں کی وجہ سے خراب ہے اور ہم سب اس امید سے ہیں کہ بہتری آئے۔ اس ٹی وی شو کی دیکھا دیکھی اور پروگراموں میں بھی سیاست اور سیاست دانوں کو رگیدا جانے لگا۔ آہستہ آہستہ لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہونے لگا کہ واقعی سیاست دان ہی وہ طبقہ ہے جو پورے نظام کی خرابی کا ذمہ دار ہے۔ یوں سیاست کے بارے میں ایک سماجی بیانیہ بنادیا گیا۔ اب ملک کی ترقی و تنزلی کا جہاں ذکر آتا ہے، وہاں سیاست دانوں کا نام ایسے لیے جاتا ہے جیسے کسی نہایت اناڑی ٹھیکیدار کے ہاتھوں تعمیر ہونے والے گھر کے مکین ہر وقت گھر کا جائزہ لیتے ہوں اور اسے کوستے رہتے ہوں۔

گزشتہ برس مجھے اپنی یونیورسٹی کے لٹریچر فیسٹول میں لائیو تھیٹر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ کہانی اس کی یہ تھی کہ ایک بوڑھا گٹھڑی اٹھائے ہوئے سٹیج پر بھٹک رہا ہے اور ہر کسی سے پوچھ رہا ہے کہ خدارا میرا بچہ کہیں سے تلاش کر دو۔ وہ گُم ہو گیا ہے اور تلاش کے باوجود نہیں مل رہا۔ کچھ راہ گیر گزرتے ہیں۔ اپنی وضع قطع سے طالب علم لگتے ہیں۔ وہ ان سے پوچھتا ہے کہ میرا بچہ تو نہیں دیکھا آپ نے؟ وہ کہتے ہیں کہ نہیں بابا جی؛ ہم تواپنی یونیورسٹی جا رہے ہیں۔ کیا نام ہے تمھارے بچے کا اور کس عمر کا ہے؟ تو بوڑھا ان کو جواب دیتا ہے: وہ پیدا ہوتے ہی گم ہو گیا تھا۔ اب غالبا بہتّر سال کا بچہ ہو گا۔ نام ہے اس کا ’ایمان‘۔ وہ طالب علم ہنستے ہیں کہ اتنا بڑا ہو گیا ہے اور ابھی تک بچہ بھی ہے اور گم شدہ بھی۔ وہ قہقہہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی میں تمھارے ’ایمان‘ کا کیا کام؟ کچھ دیر بعد وہ بوڑھا اپنے بچے ’ایمان‘ کا ایک راہ گیر تاجر سے پوچھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بابا جی ہماری ملوں میں ’ایمان‘ کا کیا کام۔ اسی گفتگو کے دوران ایک سیاست دان سٹیج پر نمودار ہوتا ہے۔ وہ اسمبلی جا رہا ہوتا ہے۔ بابا جی اسے بھی روکتے ہیں اور گڑگڑا کے درخواست کرتے ہیں کہ اپنی اسمبلی سے ’ایمان‘ کو تلاش کرو اور مجھے لوٹا دو۔ سارا ہال تالیاں پیٹتا ہے اور زور زور سے ہنستا ہے۔ ناظرین کی ہنسی کی تائید کرتے ہوئے سیاست دان کہتا ہے: بابا جی ہماری اسمبلی میں ’ایمان‘ کا کیا کام۔ جاؤاسے کہیں اور ڈھونڈو۔ بابا بہت روتا ہے کہ میرا بچہ کہیں نہیں مل رہا۔ وہ سیاست دان کو گٹھڑی میں ایک انعام دینے کی امید دلاتا ہے۔ سیاست دان اس گٹھڑی کو کھولنے کا کہتا ہے۔ بوڑھا نہایت درد بھرے جملوں کا تبادلہ کرتا ہے اور اونچی آواز میں رونے لگتا ہے۔ تقریبا سارا ہال قومی جذبے سے سرشار آبدیدہ ہو جاتا ہے۔ بابا جی گٹھڑی کھولتے ہیں تو اس میں سے پرچم نکلتا ہے۔ فورا مل مالک تاجر اور طالب علم بھی سامنے آ جاتے ہیں اور سارے مل کر پرچم کو سلام کرتے ہیں۔ یوں ایک ملی فضا میں سیاست دان کو ’ایمان‘ کی گم شدگی کا ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے۔

میں باہر آکے سوچتا رہا کہ آخر اس ایمان کی تلاش میں کسی اور سے کیوں نہیں پوچھا گیا؟ بوڑھے (پاکستان) نے کسی اور ذمہ دار طبقے سے کیوں نہیں کہا گیا کہ تم نے میرے ’ایمان‘ کو تو نہیں دیکھا۔ جج، جرنیل، جرنلسٹ کیوں نہیں کہتا کہ ہمارے ہاں تمھارے ’ایمان‘ کا کیا کام۔ بیورو کریٹ کو کیوں سوال نہیں کیا گیا کہ تم میرے’ایمان‘ کو کیوں نہیں ڈھونڈتے۔ بہتّرسال ہو گئے، ایمان آج تک غائب کیوں ہے۔ استاد، وکیل اور ڈاکٹر کیوں ذمے دار نہیں اس گم شدگی کا؟ ان کے ہاں ’ایمان‘ کیوں نہیں۔ معاشرے میں توسیکڑوں طبقات ہوتے ہیں مگر صرف سیاست دان کو کیوں موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے؟

اصل میں یہ سماجی بیانیہ راسخ کر دیا گیا ہے کہ پورے سوشل سٹریکچر کی تباہی کا ذمہ دار سیاست دان ہے اور سب سے بڑی خرابی یہ ہوئی کہ سیاست دان نے خود اس چیز کو مان لیا کہ جیسے سب کچھ اسی نے ٹھیک کرنا تھا اور وہی اب اس خرابی کا مکمل ذمہ دار ہے۔ یاد رہے کہ کسی بھی سوشل سٹریکچر میں کوئی ایک ادارہ یا فرد ذمہ دار نہیں ہوتا۔ پورا سماجی ڈھانچہ اپنی تباہی اور ترقی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ فرد کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے مگر فرد اکیلا کسی ڈھانچے میں کردار ادا نہیں کر سکتا۔ ہماری بد قسمتی رہی کہ ہم نے سیاستدانوں کے بیانیے کو سب کچھ مان کے بہتری کی توقع کرنی شروع کر دی جس سے بہتری تو نہیں آئی مگر نتیجے میں بہتری کی تمام گنجائشیں بھی ختم ہوتی گئیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نظام کا حصہ بننے والے سیاست دان بھی موقع پرست، نا اہل اور کرپٹ تھے مگر یاد رہے؛یہ وہ برفانی تودا ہے، جو سمندر میں تیر رہا ہے۔ اس تودے کے نیچے پانی کے اندر کیا ہے۔ اس کا وجود کتنی گہرائی تک ہے، ہم نے اس بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ سیاست دانوں کو مہرہ بنا کر سماج کے ہر طبقے نے لوٹا ہے اور اپنی نااہلی کو چھپایا ہے۔ کس نے روکا تھا بیوکریسی کو کہ وہ ملک کی ترقی و تعمیر میں حصہ لیتے؟ تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کے منتظمین کو کس نے روکا تھا کہ وہ نئے نئے منصوبے بناتے اور بہتر سے بہتر نظام کی طرف سفر کرتے۔ کیا ان کو اختیار نہیں دیا گیا تھا؟ کیا ان کو فنڈز فراہم نہیں ہوتے؟حتیٰ کہ ڈویلپمنٹ اتھارٹیوں کے خاک روپوں تک سے کام نہیں لیا جاتا۔ صفائی کا نظام تو کسی سیاست دان نے درست نہیں کرنا تھا۔ کسی ایک چیز کے ذمہ دار تو ہم خود بھی ہیں۔

سیاست کے گند کا بہت تذکرہ ہوتا ہے۔ سیاست دانوں کی موقع پرستی بہت زیرِ بحث آتی ہے۔ خدارااس نظام کوچلنے دیا جائے۔ خود بخود اس میں ہمواری آتی جائے گی۔ گندگی نیچے بیٹھتی جائے اور شفافیت سطح پر نظر آنے لگے گی۔ کیا آپ نے ویسٹ پانی کا نظام نہیں دیکھا جو شہروں سے نکالا جاتا ہے؟ایسے پانی کو دور تک زمین پر چلایا جاتا ہے۔ کئی کلومیٹرز کے بعد وہ ویسٹ یا سیوریج واٹر اس قابل ہوجاتا ہے کہ اسے سبزے کی آبیاری کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ زمین کا از خود نظام اس میں سے آلودہ مادے فلٹر کرتا جاتا ہے۔ فوسل اور غیر مناسب ذرات زمین کا حصہ بنتے جاتے ہیں۔ زمین کا فطری نظام اس صفائی کے کام کو کسی بیرونی مداخلت کے بغیر انجام دیتا ہے۔ اگر یہ سیاسی نظام چلنے دیا جاتا تو ایک وقت آتا اس میں موجود موقع پرست اور کرپٹ عناصر ازخود نکل جاتے۔ عوام کے اندر فکری پختہ کاری انھیں نکال باہر کرتی۔ جب بار بار نظام کو روکا جاتا ہے تو غیر سیاسی عناصر موقع پرستی کے نام پر نظام میں کود کر آنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ ویسے بھی نظام کے ٹوٹنے سے نظام کے اندر مخلص اور محنتی افراد کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ نظام ختم ہوتے ہی دوسرے حصہ دار پہلے سے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ یوں پورا سماجی ڈھانچہ موقع پرستوں کے ہاتھوں میں منتقل ہونے لگتا ہے۔ ساری فضا میں ’عارضی پن‘ چھانے لگتا ہے۔ اس سارے تناظر میں نقصان اگر کسی کو ہوتا ہے تو وہ ’ملک‘ اور اس کی ترقی کے خواب دیکھنے والوں کا ہوتا ہے۔

ڈیڑھ سال، ڈھائی سال کے ان نظاموں نے پورا ملک عارضی بنیادوں پر چلانے کاماحول پیدا کر رکھا ہے۔ یوں نظام کو کٹھ پتلی بنانے والے اور نظام سے باہر بیٹھے موقع پرست زیادہ طاقت ور ہوگئے ہیں۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ ہر سیاسی جماعت میں طرح طرح کے موقع پرست اور کرپٹ لوگوں کا انبار کیوں جمع ہوجاتا ہے؟ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ نظام فلٹر نہیں کیا جا رہا اور وہ ایسے نہیں ہو سکتا۔ نظام کی تباہی میں سب ذمہ دار ہوتے ہیں اور تعمیر میں بھی سب مل کر حصہ لیتے ہیں۔ سیاست دانوں کو آگے کرکے پیچھے بیٹھے افراد، ا داروں اور طبقات کو اب علم ہو جانا چاہیے کہ یہ نظام اس طرح کبھی صاف نہیں ہو سکتا۔ اسے چلنے دیا جائے اور سب مل کر اس کی صفائی کی ذمہ داری لیں۔ نظام کو جب بار بار روکیں گے تو اس کی ’بھل صفائی‘ کا فطری عمل رُکتارہے گا۔ اسے روکنے والوں کو بھی اب رُک جانا چاہیے جو انھی سیاست دانوں کو ایک اور کھیپ کو موقع دینے کے لیے ہر وقت تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ سیاست وقت مانگتی ہے، اس کا نظام تدریجی ارتقا کے بغیر ادھورا رہ جاتا ہے۔ سماج کے اندر فکری نظام مرتب ہونے میں دیر لگتی ہے۔ اس لیے خدارا نظام کو چلنے دیا جائے۔ اسے مصنوعی طریقے سے توڑ کے دوبارہ جوڑ کے چلانے کی ناکام کوششیں نہ کی جائیں، جو اپنے نتائج میں بے سود ہو چکی ہیں۔ اس چلتے پانی کو چلنے دیا جائے ورنہ ایک جگہ رُک کر اس نے جوہڑ ہی بننا ہے جھیل تو بننے سے رہا۔ اس جوہڑ میں ہر طبقہ، فرد اور ادارہ پتھر تو مار سکتا ہے، اس کی بدبو ختم نہیں کر سکتا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں