ستم ظریفیٔ فطرت تو دیکھیے اظہرؔ شباب آیا غزل پر ت…

ستم ظریفیٔ فطرت تو دیکھیے اظہرؔ
شباب آیا غزل پر تو عمر ڈھلنے لگی

اس راستے میں جب کوئی سایہ نہ پائے گا
یہ آخری درخت بہت یاد آئے گا

اپنی تصویر بناؤ گے تو ہوگا احساس
کتنا دشوار ہے خود کو کوئی چہرہ دینا

راستو کیا ہوئے وہ لوگ کہ آتے جاتے
میرے آداب پہ کہتے تھے کہ جیتے رہیے

اظہر عنایتی
آپ کا اصل نام اظہر علی خان اور تخلص 'اظہر' ہے۔اظہر عنایتی 15 اپریل 1946میں پیدا ہوئے۔ لکھنو یونیورسٹی سے بی اے (ایل ایل بی ) کیا۔ وہ محشر عنایتی کے شاگرد رہے۔ بارہ سال کی عمر سے شعر گوئ کا آغاز کیا۔
اظہر عنایتی ، رام پور میں معاصر اردو کے سب سے معزز شاعر ہیں ، جو رام پور کے طرز شاعری کی نمائندگی کرتے ہیں۔

Ironic nature, see Azhar
When the youth came to the poem, the age started to fall.

When there will be no shadow in the path
Gonna miss this last tree

If you make your own picture then you will realize
How difficult it is to give yourself a face

What happened to those people while coming
They used to say on my etiquette that keep living

Azhar Inayati
Your real name is Azhar Ali Khan and Takhlis 'Azhar'. Azhar Anayati was born on April 15, 1946 BA (LLB) from Lucknow University. He was a student of Doomsday Anayati. Twelve years old Started the poetry of the song.
Azhar Anayati is the most respected poet of contemporary Urdu in Rampur, representing the style of poetry of Rampur.

Translated


جواب چھوڑیں