ایک درخت۔ ایک چٹان۔ایک بادل A Tree. A Rock. A Clo…

ایک درخت۔ ایک چٹان۔ایک بادل
A Tree. A Rock. A Cloud
Carson McCullers (1917-1967)
پیشکار: غلام محی الدین
صبح کاذب تھی۔ہر سو تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ بارش کی رم جھم یا وقت بسری کے لئے کچھ لوگ نزدیکی کیفے میں بیٹھے تھے۔ کیفے کا مالک رابرٹ ادھیڑ عمر آدمی تھاجو پچھلے بیس سال سے اس کیفے کو چلا رہا تھا۔ وہ ایک بد مزاج اور بد لحاظ شخص تھا۔ گاہکوں سے لا پروائی سے بات کرتا تھا۔ چونکہ اس کاکیفے ایک با رونق جگہ پر واقع تھا اس لئے اس میں ہر وقت رش رہتا تھا۔ اُس وقت بھی وہاں تین مزدور، تین فوجی اور چار راہگیر بیٹھے کافی، چائے اور مشروب پی رہے تھے یا ناشتے کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک شخص کاؤنٹر کے ایک کونے پر کھڑا سر خم کئے بیئر پی رہا تھا۔ وہ اپنی سوچوں میں مگن تھا کہ اتنے میں ایک لڑکا اپنے کندھے پر اخبارات کا بنڈل اٹھائے داخل ہوا۔ اس کا دایاں کندھا جس پر اخبارات تھے بائیں کندھے سیذرا جھکا ہوا تھا۔ وہ چائے پینے آیا تھا۔ جب وہ چائے پی کر رقم ادا کر کے دروازے سے نکلنے لگا توکاؤنٹر کے کونے میں کھڑے بیئر پیتے شخص نے پیچھے سے آواز دے کر اسے بلایا۔
بیٹے! بیٹے!
لڑکے نے پیچھے مڑ کر آواز کی طرف دیکھا۔
ادھر آؤ۔
لڑکا اس کی طرف چلا آیا۔
لڑکے کی عمر بارہ تیرہ سال تھی۔ شکل و صورت عام سی تھی۔ اس کے چہرے پر کیل مہاسے تھے جو پچکا سا لگ رہا تھالیکن معصوم تھا۔ آنکھیں گول گول سی تھیں۔ اس نے اخبارات کا بنڈل فرش پر رکھا اور کہا، جی جناب۔
اس شخص نے لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس کا جائزہ لینے کے لئے ایک انگلی اس کی ٹھوڑی پر رکھی۔ اس کے چہرے کو اِدھر ااُدھرموڑا اور کہا۔میں تم سے محبت کرتا ہوں۔
کیفے میں بیٹھے لوگ اس شخص کی بات پر ہنسنے لگے۔ لڑکا یہ سن کر سہم گیااور گھبرا کر کاؤنٹرکے ایک طرف ہو گیا۔ کیفے کا مالک بھی گاہک کی بات سن کر طنزیہ انداز میں مسکرانے لگا۔ اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔ اڑی رنگت کے ساتھ لڑکا بھی پھیکی ہنسی ہنسا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس حیران کن لمحے کا سامنا کیسے کرے۔ ردعمل کیا دے۔ دوسری طرف کاؤنٹر کے کونے میں کھڑے گاہک جس نے اسے بلایا تھا بالکل سنجیدہ تھا۔
میر ا مقصد تمہیں چھیڑنے یا بد سلوکی کا نہیں۔ آؤ میرے ساتھ بیئر پیو۔ میرا نام جوزف ہے۔ تمہاراکیا نام ہے؟ اس نے بات جاری رکھتے ہوئے پوچھا۔
میں ٹیلر ہوں۔ مجھے جانے دو۔ میں نے اخبار بانٹنے ہیں اورکام میں دیر ہوجائے گی، لڑکے نے جواب دیا۔
رکو۔ مجھے اس وقت تمہاری سخت ضرورت ہے۔ جب تک میں نہ کہوں تم نہ جاؤ۔ اس شخص نے کہا۔
براہِ مہربانی مجھے جانے دو۔مجھے اخباریں بانٹنی ہیں۔ لڑکے نے التجا کی۔
گھبراؤ نہیں میں تمہارے وقت اور نقصان کی تلافی کر دوں گا۔جوزف نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
کیفے کے مالک رابرٹ نے معنی خیز نظروں سے جوزف کو دیکھ کر یہ کہا، خیال رہے کہ یہ کم سن ہے۔
جوزف نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ اس نے اپنے پتلون کی جیب سے ایک تصویر نکالی اور لڑکے کو دیتے ہوئے کہا۔اسے غور سے دیکھو۔
لڑکے نے وہ تصویر پکڑی۔ اس میں اسے کوئی خاص بات نظر نہیں آئی۔ وہ ایک مبہم تصویر تھی جس میں خاتون کا آدھے سے زیادہ چہرہ تو ہیٹ میں چھپا ہوا تھا۔ پیٹ ننگا تھا۔ پھولوں والی قمیض اور تنگ سکرٹ پہنا ہوا تھا۔ وہ ایک عام سی عورت لگ رہی تھی اور لڑکے کو اس میں اور کوئی قابل ذکر چیزنظرنہ آئی۔
اس پر جوزف نے پتلون کی پچھلی جیب سے ایک اور تصویر نکالی اور ٹیلر کو دے کر کہا۔ اب اس کو دیکھو۔
لڑکے نے دیکھا کہ اس تصویر میں وہ خاتون تیراکی کے لباس میں ملبوس ساحل سمندر پر لہروں سے اٹھکیلیاں کر رہی تھی۔ اس کا پیٹ موٹا اور باہر کو نکلا ہوا تھا۔
شائلا نے مجھے چھوڑ دیا۔ اس نے یہ بات لڑکے کے چہرے پر نگاہیں گاڑتے ہوئے کہی۔ ایک رات میں نوکری سے واپس آیا تو گھر خالی پایا ۔۔۔ وہ جا چکی تھی۔
کسی اور کے ساتھ؟ ٹیلر نے سوال کیا۔
ظاہر ہے۔ ایک خاتون ہنستے بستے کھر کو کیسے بلا وجہ اجاڑ سکتی ہے؟
تو تم اس اخلاق باختہ عورت کا پچھلے گیارہ سال سے تعاقب کر رہے ہو؟ تم سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہو۔کیفے کے مالک رابرٹ نے فقرہ کسا۔
براہِ مہربانی غلیظ زبان استعمال نہ کرو رابرٹ۔میں تم سے مخاطب نہیں ہوں، جوزف پر زور لہجے میں بولا اور پھر لڑکے کی طرف دیکھتے ہوئے کہاس کی کسی بات پر دھیان نہ دے۔
ٹیلر نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
شادی سے پہلے میں منچلا تھا۔ لا ابالی تھا۔ ایسا شخص تھا جو کبھی فارغ نہیں بیٹھ سکتا۔ ہر لمحہ کسی نہ کسی سر گرمی میں مصروف رہتا۔ قدرتی نظاروں سے لطف انداز ہوتا، محفلوں کی جان ہوتا تھا۔ سیر سپاٹے سے فرصت نہ ملتی تھی۔ زندگی سے بھرپور لیکن لا ابالی انداز میں وقت گزار رہا تھا۔۔۔ یہ کہنے کے بعد اس کی آنکھیں بوجھل ہو کربند ہو گئیں۔ بالکل ایسے جیسے کہ کسی ڈرامے کا ایک سین ختم ہونے پر سکرین کا پرہ اٹھ جاتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد پردہ اٹھا یعنی اس کی آنکھیں کھلیں اور اس نے بات جاری کرتے ہوئے کہا۔
پھر میری زندگی کو طوفان نے آ لیا اور مجھے شائلا سے محبت ہو گئی۔ میری عمر اس وقت اکیاون سال تھی اور وہ ہمیشہ اپنی عمر تیس سال ہی بتاتی تھی۔
ہماری پہلی ملاقات ایک پٹرول پمپ پر ہوئی۔ ملاقات چاہت میں بدل گئی اورتین چار دنوں کے اندر اندر ہم نے شادی کر لی۔ پہلی نظر میں ہی اس کی محبت میں مبتلا ہو گیا۔ کیا تم جانتے ہو کہ اس کے بعد میری زندگی میں کیا انقلاب آیا؟
میری زندگی ماضی کے بر عکس ہو گئی۔ میں انتہائی ذمہ دار شخص بن گیا۔ میرا لاابالی پن ختم ہو گیا۔ میں شائلا کی محبت میں گرفتار ہو کر ہر وہ قدم اٹھانے لگا جس سے اس کی سہولیات میں اضافہ ہو۔اسے زیادہ سے زیادہ آسودگی حاصل ہو۔ میری محبت اس کے لئے روز بروز بڑھتی رہی لیکن۔۔۔ لیکن اس نے گھر سے بھاگ کر سب کچھ ختم کر دیا۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ اپنے خیالات کو منظم کرنے کی کوشش کرتا رہا پھر بولا کہ میں اپنے جذبات و احساسات صحیح طور پر ادا کرنے سے قاصر ہوں۔ یوں کہنا چاہئیے کہ وہ خاتون میرے لئے سب کچھ تھی۔ اس نے مجھے جسمانی کے ساتھ ساتھ روحانی تسکین بھی دی تھی۔ میں خود کو ایک مکمل انسان سمجھنے لگا تھا۔
کیا تم نے اسے کبھی واپس لانے کی کوشش کی؟ ٹیلر نے پوچھا۔
جوزف بولا۔تم جانتے ہو کہ ایسی سنگین صورت حال میں میری ذہنی کیفیت کیسی رہی ہو گی؟ میں نے فوراً ریٹائر منٹ لے لی اور اس بحران کا حل تلاش کرنے لگا۔
اس دوران کیفے مالک نے ایک گاہک کو سینڈوچ بنا کر دیا۔ ایک گاہک اس کے پاس کافی کا کپ دوبارہ بھروانے کے لئے لے آیاجس کے اس نے مزید پیسے وصول کئے۔ وہ گاہکوں کو دوبارہ کافی کبھی مفت نہیں دیتا تھا۔ اس دوران جوزف نے بولنا بند کر دیا تھا کیونکہ اس کے ساتھ کاؤنٹر پر اور چند اور گاہک بھی آگئے تھے۔
جب وہ کاؤنٹرسے چلے گئے تو لڑکے نے جوزف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔تو تم نے اسے دوبارہ پھر کہیں نہیں پایا؟ ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اس آدمی نے صرف اسے ہی کیوں روکا تھا۔ اس کے ساتھ اصل مسئلہ کیا ہے؟ وہ اسے ہی کیوں اپنی رام لیلا سنانا چاہتا ہے؟ لڑکے کا اس علاقے میں اخبار بانٹنے کا پہلا دن تھا اور اسے پتہ نہیں تھا کہ اسے اس کام میں کتنی دیر لگے گی لیکن جوزف اسے روکے ہوئے تھا۔
ہاں! میں نے اسے ڈھونڈنے کی مقدور بھر کاوشیں کی۔ میں اس ہر جگہ پہنچا جہاں اس کی موجودگی کا ذرا سا بھی شائبہ تھا۔ میں اس کے والدین کے ہاں ُ ٹلسا ُ بھی گیا۔ میں ان تمام لوگوں کے پاس بھی گیا جن کا اس سے کبھی نہ کبھی تعلق رہا تھا۔ میں ہر اس مقام پر بھی پہنچا جس کا اس نے کبھی ذکر کیا۔ پورٹ لینڈ، کلیو لینڈ، سان فرانسسکو، اٹلانٹا، شکاگو، ورجینیا، نیو یارک، کیلیفورنیا ہر جگہ چھان ماری مگر وہ نہ ملی۔ میں دو سال تک پاگلوں کی طرح مارا مارا اسے ڈھونڈتا رہا۔
وہ جوڑا اس جہان سے ہی غائب ہو گیا، کیفے کے مالک نے لقمہ دیا۔
اس کی بات پر دھیان نہ دو ٹیلر۔ ان دو سالوں کی جستجو تو جیسے جیسے بیت گئی لیکن میری بری حالت تو تیسرے سال شروع ہوئی۔ میری اندرونی کیفیت عجیب و غریب ہونے لگی۔
وہ کیسے؟ ٹیلر نے پوچھا۔
محبت۔۔۔ محبت ایک ایسی ہیجانی کیفیت ہے جوبے جان اشیاء میں جان ڈال دیتی ہے۔ وہ فرد میں حوصلہ پیدا کرتی ہے۔ ندگی جینے کا سلیقہ دیتی ہے، عزم فراہم کرتی ہے، مقصد بناتی ہے۔۔۔ اور اس میں ناکامی تمام جذبات اور محرکات کو سرد کر دیتی ہے۔ ابتدائی ایام میں تو اسے واپس لانے کا عزم بھی تھااور لگن بھی۔ پھر تم جانتے ہو کہ کیا ہوا؟ جوزف نے پوچھا۔
نہیں! لڑکے نے سر ہلا کر جواب دیا۔
مجھ میں بیگانہ پن پیدا ہو گیا۔ ایک رات میں سونے کے لئے لیٹا تومیں اس کی شکل تک بھول چکا تھا۔ میرے پاس اس کی جو تصاویر تھیں، وہ نکالتا اورانہیں گھنٹوں گھورتا رہتا۔ میرا ذہن ماؤف ہو چکا تھا۔ جب دماغ خالی ہوتا ہے تو پتہ ہے کیا ہوتا ہے؟ ۔۔۔ ایک فٹ پاتھ پر شیشے کا گلاس گرے یا جیوک باکس میں اپنی فرمائشی نغمہ سننے کے لئے کوئی سکہ ڈالا جائے تو جو آواز پیدا ہوتی ہے ویسی ہی جھنکار میرے ذہن میں بھی سنائی دیتی رہتی۔ اس تخیلاتی آواز نے مجھے کہیں کا نہ رکھا۔ ہر دم وہ آواز میرے دماغ میں گونجتی رہتی اور مجھے بے سکون کرتی رہتی۔ میں اپنا سر دیواروں اور کھمبوں سے ٹکرانے لگتا۔ میں ہر طرف دیکھتا، سنتا اور وہ آواز محسوس کرتا رہتا۔ اس کے بعد وہ کھنک اس خاتون کی آواز میں تبدیل ہو جانے لگی۔ اب ہر وقت اس کی آوازیں میری کانوں میں گونجتی رہتیں۔ انہوں نے میرا ہر جگہ تعاقب شروع کر دیا۔ وہ میرے دل و دماغ پر چھا گئیں۔ میری روح کو ہر وقت کچوکے لگاتی رہتیں۔
یہ کیفیت کب طاری ہوئی؟ تم اس وقت ملک کے کس حصے میں رہتے تھے؟ ٹیلر نے سوال کیا۔
اوہ! مجھے یاد نہیں۔ اس وقت میں نے خود کو چیچک زدہ شخص تصور کرنا شروع کر دیا تھا۔ میں نے کثرت سے شراب نوشی شروع کر دی۔ ہر وہ کام کرنے لگا جو میرے من میں آیا۔ میں عورتوں کا رسیا ہو گیا۔ میرا ذہن و جسم پراگندہ ہوتا چلا گیا۔ میں اپنے گناہوں کا اعتراف تو نہیں کرنا چاہتالیکن کہے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔ اس دوران شہلا کا تصور ایک جمے ہوئے دہی کی طرح میرے ذہن کے ہر گوشے میں جما ہوا تھا۔ یہ ایک بہت تکلیف دہ احساس تھا اس لئے اسے بیان کرنے میں عافیت سمجھی ہے۔ شاید اس اعتراف سے ضمیر کی چبھن کم ہو جائے۔ بات کرتے کرتے وہ گم سم کھڑا ہو گیاپھر اس نے اپنا سر جھکایا اور ماتھے کو کاؤنٹر پر مارنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر اُٹھ کھڑا ہوا۔ اب اس کی افسردگی نے ا لٹ رخ اپنا لیا تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا اور اس کا چہرہ دمکنے لگا تھا۔
پھر وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولا، میری وہ مانیائی کیفیت شائلا کے بھاگنے کے پانچ سال بعد پیدا ہوئی تھی۔
کیفے کے مالک نے جوزف کی باتیں سن کر برا سا منہ بنایا اور کہا، ہماری عمریں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ تم ساٹھ کے پیٹے میں ہو ڈریگن کی دم والے احمق۔ خدا کا خوف کرو کس عمر میں چونچلے کر رہے ہو بوڑھے رومیو۔
جوزف یہ سن کر بولا، شانت رہو۔ زیادہ مستی نہ دکھاؤ اور خاموشی سے میرا قصہ سنو۔ میری ایسی دگرگوں حالت کی توضیح معروضی انداز میں مشکل ہے لیکن ایسا کہا جا سکتا ہے کہ میں اور شائلا تخیلاتی طور پر دنیا بھر میں بھٹکتے رہے۔ ہم مسافروں کی طرح ایک طویل عرصے تک ٹھوکریں کھاتے رہے۔ یہ سراسر میری ذہنی حالت تھی جس میں وہ میرے ہر دم ساتھ ہوتی تھی جبکہ حقیقت میں وہ الگ تھی۔ رفتہ رفتہ حقیقت کا احساس ہوا تو ہار مان لی۔ وہ تلاطم تھم گیا۔ اذیت ختم ہو گئی اور ایک عجیب و غریب دلکش و دلربا ہوش باختگی پیدا ہو گئی۔
پورٹ لینڈ میں ایک رات اپنے بستر پر لیٹے ہوئے اچانک مجھے آمد ہوئی کہ میریتمام تر پریشانیوں کا مداوا تو دنیا تیاگنے سے ہے۔میں مراقبے کرنے لگا۔ آنکھیں بند کر کے دنیا و مافیہاسے بے خبر ہو کر سوچنے لگتا۔ اس دوران ایک ایک انگ مجھ سے باتیں کرتا۔ تواتر سے کسی شئے کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہتا جس سے ارد گرد کی اشیاء کو نظر انداز کر کے صرف خصوصی چیز پر ہی دیتا لیکن۔۔۔؟
اتنے میں کیفے کے سامنے والی سڑک پر سٹریٹ کار آ کر رکی۔ راہگیر اور تینوں فوجی بال سنوارتے ہوئے باہر نکل گئے جبکہ مزدور بیٹھے رہے۔
ان کے جانے کے بعد جوزف نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا۔۔۔ تو میں کہہ رہا تھا کہ مراقبے کی اہمیت مجھے پورٹ لینڈ میں معلوم ہوئی۔ پھر میں نے مراقبے کی ورزشیں شروع کر دیں۔ یہ آسان فعل نہیں تھا۔ پہلے پہل میں گلی کوچے سے کوئی بھی چیز اٹھا کر لے آتا۔ اسے گھنٹوں ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا اور ذہن میں محبت کا تصور لاتا۔ ابتدا ئی دنوں میں ذہن منتشر ہو جاتا تھالیکن مسلسل مشق سے اس میں مہارت پیدا ہوتی گئی۔ اس کے بعد میں پورٹ لینڈ سے سان فرانسسکو چلا آیا۔ وہاں آ کر مراقبے کی مشق کے لئے پالتو مچھلیاں رکھ لیں اور انہیں ٹکٹکی باندھ کر اپنے اعصاب مضبوط کرتا رہا۔ میرے طبق آہستہ آہستہ روشن ہونے لگے۔ محبت میں رسوائی کا غم جاتا رہا۔ میری توانائیا ں پھر سے اجاگر ہونے لگیں۔
اپنی بکواس بند کرو اور مزید کچھ نہ کہو، کیفے کے مالک رابرٹ نے اسے کہا۔اگر ٹھیک ہوگئے ہوتے تو یہ حالت نہ ہوتی۔ خواہ مخواہ بچے کو گمراہ کر رہے ہو۔
جوزف نے سنی ان سنی کر دی۔ اس نے لڑکے کی جیکٹ کا کالر پکڑا اور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، اب چھ سال ہو گئے ہیں اور میں مراقبے میں کسی حد تک ماہر ہو گیا ہوں۔ کسی بھی شئے، سوچ یا موضوع کا انتخاب کرتا ہوں اور اس پر مراقبہ کرتا ہوں۔ دماغ روشن ہو جاتا ہے۔ میں اپنے من میں لوگوں کی چہل پہل دیکھتا ہوں۔ اب میں مراقبے میں کم و بیش ہر مقصد حاصل کر سکتا ہوں۔ اب مجھے غم جاناں اور غم دوراں کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اب میں ہر شئے سے محبت کر سکتا ہوں۔ میں اس عمل کے دوران تمام قدرتی نظارے دیکھ سکتا ہوں۔ کسی ایک سے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان سے محبت کر سکتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔۔۔پھر بولا۔ اس بات کا پتہ نہیں چلا کہ قرار کیوں نہیں آتا۔یہ سب کہہ کر اس نے چھوٹے لڑکے سے پوچھا۔ کیا تم جانتے ہو محبت کی شروعات کیسے ہوتی ہے؟
ٹیلر خاموش رہا۔
محبت ایک درخت، ایک چٹان اور ایک بادل کی مانندہے، جوزف بولا۔
باہر زوروں کی بارش ہونے لگی۔ فیکٹری میں صبح کی شفٹ شروع ہونے کا سائرن بجا۔ مزدور اٹھ کر ڈیوٹی ادا کرنے فیکٹری چل پڑے۔ اب کیفے میں رابرٹ، جوزف اور ٹیلر ہی رہ گئے۔
محبت ناکام اس لئے ہوتی ہے کیونکہ لوگ محبت غلط سمت سے شروع کرتے ہیں۔ اغاز میں آہیں، سسکیاں، نیند اڑنا، جذبات و احساست میں تلاطم پیدا ہوتاہے۔ محبت کی خاطر ہر ایک مشکل کا سامنا کیا جاتا ہے۔ ایک تن آور درخت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ محبت اور گہری ہوتی ہے تو ایک چٹان بن جاتی ہے۔ جان تک نچھاور کر دی جاتی ہے پھر ٹھہراؤ پیدا ہوتا ہے جو بعد میں زوال پذیر ہوتے ہوتے بادل بن کر اڑ جاتا ہیاور اپنے پاس کچھ نہیں رہتا۔سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔۔۔ میرے نزدیک محبت کو برگد درخت بنانے کے لئے یہ ترتیب الٹ ہونی چاہیئے۔ شروع میں جذبات کم ہوں۔ ہلکی پھلکی ملاقاتیں َ ہوں۔ اگر ناکامی بھی ہو اور بادل بن کر اڑ جائیں تو صدمہ برداشت کرلیا جائے۔ اس مرحلے کے بعد رفتہ رفتہ مشترکہ ایسے کام کئے جائیں جو دونوں کے لئے دلچسپ اور خوشگوار ہوں ان حسین یادوں کو مضبوط کیا جائے تو محبت چٹان کی طرح مضبوط ہو جائے گی جو لازوال ہو کر برگد درخت بن جاتی ہے۔ جولانی پر پہنچ کر لازوال ہو جاتی ہے۔
توکیا تم مراقبے کے ذریعے اس خاتون سے دوبارہ محبت میں گرفتار ہوئے؟ ٹیلر نے متجسس انداز میں پوچھا۔
یہ بات سن کر جوزف اداس ہو گیا۔ اس نے لڑکے کی جیکٹ کا کالر چھوڑ دیا۔ اس کی سبز آنکھیں بے نور ہو گئیں۔ وہ خلا میں گھورنے لگا۔ بئیر کی بوتل اٹھائی اور منہ سے لگا لیاور غٹاغٹ پی گیا۔۔ اس پر ہلکا سا رعشہ طاری ہو گیا۔
مراقبے کا یہ مرحلہ ابھی طے کرنا باقی ہے۔ میں احتیاط سے اس بات کی مشق کر رہا ہوں کہ یہ کیفیت بھی حاصل کر لوں لیکن ابھی اس میں کامیاب نہیں ہوا۔ تاہم کوشش جاری ہے، جوزف یہ کہہ کر باہر کی طرف چل پڑا۔
تم نے میرا وقت کیوں ضائع کیا؟ لڑکے ٹیلر نے اسے روک کر پوچھا۔
تم کم سن ہو۔ تمہیں یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ عام لوگوں کی طرح محبت ایسے شروع نہ کرنا جیسے عام لوگ کرتے ہیں بادل، چٹان اور درخت کے نظریے پر عمل کرنا۔ جو سدا قائم رہتا ہے۔ ہر موسم کا بہادری سے مقابلہ کرتا ہے، پریمیوں کے کندہ ناموں میں محبتیں پروان چڑھاتا ہے،، منتوں کے دھاگوں سے مراد بر آنے کی آس دلاتا ہے۔ ہر خاص وعام کو سایہ فراہم کرتا ہے۔یہ کہہ کر جوزف لڑکھڑاتاہوا باہر نکل گیا۔
چھوٹا ٹیلر کافی دیر تک گم سم کھڑا رہا پھر اس نے اپنے اخباروں کی گٹھری اٹھائی اور کندھوں پر رکھ لی۔ کیا وہ نشے میں تھا؟
نہیں۔ وہ تمہیں پیغام دے گیا۔رابرٹ نے جواب دیا۔
میری سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ عجیب و غریب ہےٹیلر یہ کہتے ہوئے باہر کو چل دیا۔۔۔ سمجھ میں کیسے آتا۔ یہ عمر ایسے معاملات کو سمجھنے والی نہیں تھی


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2940378269526020

جواب چھوڑیں