پیغمبر حریت ؐاور حکمرانوں کے غلامانہ فیصلے۔۔ثاقب اکبر



SHOPPING

پوری دنیا میں ان دنوں عید میلاد النبی ؐ کی تیاریاں ایمان افروز ولولوں کے ساتھ جاری ہیں اور دوسری طرف وہ سرزمین جہاں پر انسانیت کو آزادی اور مستضعفین کو نجات بلکہ حکمرانی کی بشارت دینے والے نبی ؐتشریف لائے یعنی سرزمین عرب، وہاں کے حکمران یکے بعد دیگرے عالمی صیہونزم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرے عرب ملک کے سرنگوں ہونے کی وحشتناک خبر آرہی ہے۔ اس میں عجیب ترین پہلو شاید یہ ہو کہ سعودی عرب اور اس کے اردگرد موجود ریاستوں خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے مذہبی راہنماؤں کی جانب سے دنیا بھر میں توحید پرستی کا غلغلہ رہا ہے اور وہ بات بات پر مسلمانوں میں رائج بعض مذہبی مظاہر کو شرک کے مظاہر قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔ ہمیں اس امر میں کوئی شک نہیں کہ توحید پرستی کا نبوی تصور انسانیت کی آزادی پر مشتمل ہے۔ ایک خدا کی عبودیت یعنی ہر دوسری غلامی کا انکار۔ حکیم الامت علامہ اقبال نے بھی لا الہ الا اللہ اور خدا کے حضور سجدہ ریز ہونے کا مطلب یہی سمجھا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں:
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

قرآن حکیم نے خدا کو ماننے والی دیگر اقوام سے مشترکات کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کی دعوت دی تو توحید پرستی کا یہی مطلب اہل ایمان کو سمجھایا کہ ان تعلقات کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کسی دوسری قوم کی بالادستی کو قبول کیا جائے، چنانچہ ارشاد فرمایا: قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْءًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ(آل عمران: ۴۶) “کہیے اے اہل کتاب! وہ ایک بات جو ہمارے اور تمھارے درمیان مشترک ہے، آؤ اس پر اکٹھے ہو جاتے ہیں اور وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بنائیں اور یہ بھی کہ اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو رب قرار نہ دیں۔” یہی نہیں بلکہ انسانیت پر جو طرح طرح کے بوجھ لدے تھے اور جس طرح سے انسانوں کی ایک بڑی تعداد انفرادی طور پر غلامی کا شکار تھی اور کئی قومیں اس دور کی استعماری طاقتوں کے زیر نگیں چلی آرہی تھیں، سب کو نجات کا پیغام دیا اور واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ: وَیَضَعُ عَنْہُمْ إِصْرَہُمْ وَالْاَغْلَالَ الَّتِی کَانَتْ عَلَیْہِمَ (الاعراف:۷۵۱) “اور نبی اس لیے آئے، تاکہ لوگوں پر پڑے ہوئے بوجھ اور ان کی گردنوں میں پڑے طوق ہٹا دیں۔”

جاہلیت، غلامی اور پسماندگی قرآن کے نزدیک معاشروں کی موت سے عبارت ہے اور آنحضرت ؐ تشریف لائے، تاکہ انسانوں کو حیات نو بخشیں اور پھر جنھیں ایمان سے سرشار کرکے نئی آزاد زندگی سے آپ ؐ نے آشنا کر دیا، ان کے بارے میں قرآن حکیم نے ارشاد فرمایا: وَلَن یَجْعَلَ اللَّہُ لِلْکَافِرِینَ عَلَی الْمُوْمِنِینَ سَبِیلً (النساء:۱۴۱) “اور اللہ نے مومنوں پر کافروں کو ہرگز بالادست قرار نہیں دیا۔” یعنی اللہ کو یہ منظور نہیں کہ مومن کافروں کی بالادستی کو قبول کریں، البتہ اس کے لیے شرط یہی ہے کہ مومن حقیقی مومن رہیں، چنانچہ ارشاد فرمایا: وَلَا تَہِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَاَنتُمُ الْاَعْلَوْنَ إِن کُنتُم مُّوْمِنِینَ (آل عمران:۹۳۱) “اور دل نہ ہارنا، نہ غم کرنا کیونکہ تمھی غالب رہو گے، اگر تم مومن ہو۔” قرآن حکیم ایسی آیات سے بھرا پڑا ہے، جس میں مسلمانوں کو عزت و افتخار کا راستہ دکھایا گیا ہے۔ ہمیں جو مناسک اور عبادات کے طریقے سکھائے گئے ہیں، وہ بھی بندہ خدا بن کر ہر طرح کی بندگی سے نجات پر منتہی ہوتے ہیں۔ خدا کے گھر کے گرد طواف کا حکم دے کر ہمیں بتایا گیا ہے کہ کسی اور کے گھر کا طواف نہیں کرنا۔

افسوس آج کے حکمران آزادی اور حریت کا یہ سبق فراموش کرکے اور توحید کے اس درس کو نظر انداز کرکے اغیار سے توقعات باندھے ہوئے ہیں اور ان کی چشم و ابرو کے اشاروں پر عمل کر رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ یہ عرب حکمران امریکہ کے اشارۂ ابرو پر اسرائیل کے حضور سر جھکا رہے ہیں اور دنیا بھر کے توحید پرستوں کو شرمسار کر رہے ہیں۔ خدا سے ترک تعلق کرکے اور اس سے اپنی امید کا رشتہ منقطع کرکے اس دور کے بتوں کے سامنے سرنگوں ہوئے چلے جا رہے ہیں۔ علامہ اقبال کہتے ہیں:
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
ہم جانتے ہیں کہ مسلمان عوام اسرائیل کو ایک ناجائز اور ظالم ریاست سمجھتے ہیں اور امریکہ کی غلامی کو ہرگز قبول نہیں کرتے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمران امریکہ ہی کو اس دور کا رب الارباب اور رب اعلیٰ مانے ہوئے ہیں۔ ان حکمرانوں میں سے اگر کوئی نماز پڑھتا ہے تو رکوع میں ضرور سبحان ربی العظیم اور سجدے میں ضرور سبحان ربی الاعلی کہتا ہوگا لیکن اس دور کے فرعون کو آج بھی دعویٰ ہے کہ انا ربکم الاعلی۔

یہ حکمران رکوع و سجود میں جو بھی کہتے ہوں، عملاً اس فرعون اعظم ہی کو رب اعلیٰ سمجھے ہوئے ہیں۔ افسوس ان کے پاس کوئی معقول دلیل بھی نہیں۔ ان کی اسرائیل سے پینگیں بڑھانے کے لیے سب سے بڑی دلیل ایران کا خوف ہے۔ امریکہ انھیں ڈراتا ہے کہ دیکھو جیسے ایرانی عوام نے وہاں انقلاب برپا کرکے قدیمی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا، اگر تم اس کے مقابل کھڑے نہ ہوئے تو تمھاری بادشاہتیں بھی زمین بوس ہو جائیں گی۔ وہ انھیں یقین دلاتا ہے کہ میں دنیا بھر میں جمہوریت کا چیمپئین ہونے کے باوجود تمھاری بادشاہت کا رکھوالا ہوں۔ کیا یہ حکمران نہیں جانتے کہ امریکہ کو ان کی دولت اور وسائل کے علاوہ کسی چیز سے کوئی سروکار نہیں۔ وہ انھیں دودھ دینے والی گائے سمجھتا ہی نہیں، کہتا بھی ہے اور یہ پھر بھی دن بدن غلامی کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتے چلے جا رہے ہیں۔

آج جب کہ ہم میلاد مصطفیٰ ؐ منا رہے ہیں، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پیغمبر اسلام ؐ آزادی و حریت کے پیغمبر ہیں۔ وہ ہر دور کے فرعون و نمرود سے نجات دلانے کے لیے آئے ہیں۔ انھوں نے پسے ہوئے اور مستضعف انسانوں کو نجات اور اقتدار کا مژدہ سنایا ہے۔ سچے نبی ؐ کی ساری باتیں تاریخ میں سچ ثابت ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ یہ وعدہ بھی پورا ہونا ہے، لیکن تاریخ میں استعماری اور صہیونی طاقتوں کے حضور سر جھکا لینے والے ہمارے یہ حکمران ذلت و رسوائی کی علامت کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ آئیے دلوں میں روشن مستقبل کی امید کو زندہ کرتے ہیں، جسے قرآن حکیم نے یوں بیان کیا ہے: وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَھُمْ اَءِمَّۃً وَّ نَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَ (قصص:۵) “اور ہمارا ارادہ ہے کہ ہم ان لوگوں پر احسان کریں، جنھیں زمین پر کمزور کر دیا گیا ہے، انھیں ہم پیشوا بنائیں اور انھیں ہی اس سرزمین کا وارث قرار دیں۔”

SHOPPING




بشکریہ

جواب چھوڑیں