بھرے مجمع میں تُو بولا تو کیا بولا

مسز جمشید خاکوانی
نواز شریف نے بھرے مجمع میں جو باتیں کیں اس کے ذریعے ریاستی اداروں اور عوام میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ انہیں اگر عوام کا درد ہوتا توسارا ملک گروی اور خزانہ خالی کر کے یہ نہ کہتے، اب دیکھتے ہیں عمران خان حکومت کیسے چلاتا ہے تین سال تو یہ ملک اٹھ ہی نہیں سکتا ۔یہ الفاظ تھے تو عمران خان ہوا میں وعدے پورے کرتا ۔ چلیں مان لیتے ہیں عمران خان کی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو گئی لیکن اس کا الزام اداروں پر کیوں ؟ یہ وہی لوگ ہیں جو مسلسل این آر او کی بھیک مانگتے رہے اور جب مکمل انکار ہو گیا تو ملک اور اداروں کےخلاف کھل کر سامنے آ گئے۔ اس وقت بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے ایسے میں ملک کے اندر انتشار اور جلسے جلوسوں کے ذریعے امن و عامہ کا مسئلہ فورسز کو بیک وقت کئی محاذوں پر مصروف کیے ہوئے ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپوزیشن اداروں کی پشت پر کھڑی ہوتی لیکن یہاں تو تین بار کے وزیر اعظم 1971ءمیں ہتھیار ڈالنے کا طعنہ اپنے ہی اداروں کو دے رہے ہیں حالانکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کا تنازعہ سیاستدانوں کا پیدا کردہ تھا۔اِ دھر ہم اُدھر تم کا نعرہ کس نے لگایا تھا؟ یہ الفاظ بھٹو کے تھے جو ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ انہی سیاستدانوں نے کرسی کی خاطر عوام میں لسانیت اور رنگ و نسل کے بیج بوئے ،اسی نفرت کے بل پر مشرقی پاکستان بھارت کے قریب ہوا مکتی باہنی تشکیل پائی مغربی پاکستان کو چند سیاستدانوں کی ضد کی وجہ سے غاصب سمجھا جانے لگا تب فوج کو مشرقی پاکستان بھیج دیا گیا جہاں کے سکولوں میں پاکستان مخالف تعلیم دی جا رہی تھی ۔جب عوام میں نفرت پیدا ہو جائے تو دنیا کی کوئی فوج اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور ایسی صورت میں تو بالکل نہیں جب آپ کی فوج بے سرو سامان رہ جائے۔ اس ہار کے پیچھے جو بھی عوامل تھے اس سے قطع نظر ایک اور زاویہ سے دیکھتے ہیں ۔
1940ءمیں فرانس کی حکومت نے ہتھیار ڈالے ۔کیا فرانس کے وزیر اعظم نے طعنہ زنی کی ؟جاپان کے وزیراعظم نے جاپان کی فوج کو 1945ءمیں ہتھیا ڈالنے پر مجرم ٹھیرایا ؟ کیا جرمنی کے وزیر اعظم نے 1918.1945 میں ہتھیار ڈالنے پر جرمن فوج پر طعنہ ذنی کی ؟ کیا امریکہ بہادر کا ٹرمپ اپنی فوج کی افغانستان میں شکست پر میڈیا میں آکر اپنی فوج کی مذمت کرے گا ؟ ارے نہیں بھئی یہ اعزاز تو صرف بعض پاکستانی سیاستدانوں کو حاصل ہے کہ وہ دنیا کی نمبر ون فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے دشمنوں کو خوش کر تے ہیں ۔یاد رکھیں کہ ہماری عوام پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف کوئی لفظ نہیں سن سکتے ۔
ایک مشہور کہاوت ہے بندر آپس میں مل جائیں تو مل کر پورا باغ کھا جاتے ہیں اور اگر آپس میں لڑ پڑیں تو مل کر پورا باغ اجاڑ دیتے ہیں ۔ان سیاستدانوں نے بھی خود ہی ایک دوسرے کو غدار قرار دیا ایک دوسرے کے خلاف مقدمے بنائے خود ہی ایک دوسرے کی کرپشن کا پیچھا کیا خود ہی ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کیس درج کروائے ۔کیا کوئی یہ ثبوت دے سکتا ہے کہ جتنے مقدمات ہیں ان سے متعلق کوئی فوجی افسر پٹیشن لے کر عدالت گیا ہو کوئی ایک مقدمہ بتا دیں ۔ نواز شریف نے ہمیشہ اداروں کو تقسیم کرنے کی کوشش جاری رکھی ۔اکتوبر 1999ءکو جنرل مشرف کے بیرونی دورے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ضیاءالدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کیا،رینک لگا رہے تھے جو گھبراہٹ میں لگ نہ سکے ۔ اس کے فوراً بعد جنرل مشرف جو کہ پاکستان کے آرمی چیف تھے، ان کے طیارے کا رخ بھارت کی طرف موڑنے کا حکم دیا ۔بہر حال یہ زمین پر طیارہ ہائی جیکنگ کی انوکھی واردات تھی جسے اس ادارہ نے ماننے سے انکار کیا ۔کارگل میں فوج کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا ابھی تازہ تھا کہ جو کہ نواز شریف کے تختہ الٹنے کی وجہ بنا ،اب ہر بار تو باندر کے ہاتھ میں استرا نہیں دیا جا سکتا ۔ نواز شریف نے اپنی حکومت کا تختہ الٹنے پر مشرف کو غدار قرار دیا جبکہ آج جب آرمی چیف کہتے ہیں ہم منتخب جمہوری حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں تو اس پہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے۔آخر ریاستی ادارے کیا کریںکہ ان سیاستدانوں کی تسکین ہو سکے۔
پاکستان کی فوج دنیا کی بہادر افواج میں شمار کی جاتی ہے جس نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ پاک فوج کے متعلق بین الاقوامی وقائع نگاروں کی آرا اور کچھ واقعات سناتی ہوں ۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ امریکی ہفت روزہ ،ٹائمز کے نمائندے لوٹس کرار نے ستمبر 1965ءکے شمارے میں جنگ ستمبر کے محاذوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر لکھا تھا ۔
میں پاک بھارت جنگ کو شائد بھول جاﺅں گا لیکن پاک فوج کا جو افسر مجھے محاذ پر لے گیا تھا اس کی مسکراہٹ کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ یہ مسکراہٹ مجھے بتا رہی تھی کہ پاکستانی نوجوان کس قدر نڈر اور دلیر ہیں۔ جوان سے جرنیل تک میں نے اسی طرح آگ سے کھیلتا دیکھا ہے جس طرح بچے گولیوں سے کھیلتے ہیں ۔لوٹس کرار نے اپنی رپورٹ اس فقرے کے ساتھ شروع کی تھی جو قوم موت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنا جانتی ہو اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا ۔
برطانیہ کا مشہور اخبار ڈیلی میل کا جنگی وقائع نگار ایلفرڈ کک بھی پاکستان میں ہی موجود تھا اس نے لاہور کا آخری اور انتہائی خون ریز معرکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس نے اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے۔
لاہور کے محاذ پر بھارتیوں نے بھینی (باٹا پور سے پانچ میل شمال کی جانب )بی آر بی پل کے مقام پر تمام رات گولہ باری جاری رکھی پونے تین بجے یعنی صبح فائر بندی کے وقت انہوں نے بھینی پل پار کرنے کے لیے انفینٹری سے دو شدید حملے کیے ان حملوں کی پشت پناہی کے لیے بھاری توپ خانے کی جو گولہ باری کی وہ اس سیکٹر کی شدید ترین گولہ باری تھی معاہدے کے مطابق جنگ بندی کے طے شدہ وقت کے پندرہ منٹ بعد تک گھمسان کی جنگ جاری رہی اور پاکستانیوں نے بھارتیوں کے یہ دونوں حملے پہلے حملوں کی طرح پسپا کر دیئے پھر کہیں جا کر فائر بندی ہوئی۔ جنگ بندی کے بعد دور کہیں بھارتی سر زمین سے دھویں کے کالے سےا ہ بادل اٹھنے لگے۔ میں نے پاک فوج کے افسر کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا وہ ہلکی سی ہنسی ہنس کر بولا ” ہندوستانی اپنی لاشوں کو جلا رہے ہیں “۔ تھوڑی دیر بعد انڈین آرمی کے بہت سے ٹرک میدان میں آہستہ آہستہ چلتے نظر آنے لگے وہ لاشیں اٹھانے آئے تھے جبکہ پاک فوج کے پیادہ اسٹریچر اپنے جوانوں کی لاشیں ڈھونڈ رہے تھے۔ اس وسیع و عریض میدان میں شہدا ءکی کل تعداد چھپن تھی۔ یہ گذشتہ رات کے شہدا تھے ان کے مقابلے میں بھارتی صرف ڈوگرئی کے علاقے سے لاشوں کے چودہ ٹرک بھر کر لے گئے۔ وہ صرف تازہ لاشیں لے گئے گلی سڑی لاشوں کو وہ ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے۔ وہ لاشوں کو ٹانگوں اور بازووں سے اٹھا کر لکڑی کے گٹھوں کی طرح ٹرکوں میں پھینک رہے تھے بلکہ لاشوں کو ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر لے جاتے اور اندر پھینک دیتے۔ ایک ایک ٹرک میں وہ نوے ،سولاشوں کو بھر کر لے گئے۔ یہ لاشیں پسماند گان تک نہیں پہنچائی گئیں بلکہ واہگہ بارڈر کے قریب ہی ڈھیر لگا کر ان پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جاتی۔ یہ سلوک ان سپاہیوں کے ساتھ ہو رہا تھا جو اپنے عیار حکمرانوں کی پاکستان دشمنی پر قربان ہو گئے تھے ۔ اس کے بر عکس پاک فوج اپنے جوانوں کی لاشیں اتنے احترام اور آہستگی سے اٹھاتی جیسے ان کو ہلکے سے جھٹکے سے بھی تکلیف ہوگی ۔جب شہید کی میت آتی تو افسر اس کے ہاتھ چومتے چہروں سے مٹی صاف کرتے باری باری سیلوٹ کرتے۔ اس محاذ پر پاک فوج کے پانچ ہزار جوانوںنے دشمن کا چالیس ہزار کا لشکر روک رکھا تھا جو جنگوں کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ ایک جوان سے میں نے پوچھا یہ کیسے کیا ؟ اس نے خون اور مٹی سے ملا ہوا پسینہ پونچھتے ہوئے کہا پہلے روز جب ٹینک گرجے اور توپوں کے دھماکے ہوئے تو خیال آیا ہندو اٹھارہ برسوں کی تیاری کے بعد پاکستان مٹانے آ گیا ہے اس وقت تھرڈ بلوچ رجمنٹ کے ایک جوان نے مورچے سے گلا پھاڑ کر نعرہ لگایا کہ ”پاکستانیو آج بے غیرت نہ ہو جانا “ کسی اور مورچے سے نعرہ اٹھا کہ ”مسلمانو آج پیٹھ نہ دکھانا “
بس ان نعروں کے بعد ہم نے مارنے یا مر جانے کی ٹھان لی……..اور آج ہم نے آٹے چینی کے لیے مرنے مارنے کی ٹھان لی ہے ۔ غیرت ہم سے منہ چھپائے پھر رہی ہے غدارِ وطن ہمیں تھپکیاں دے دے کر اکسا رہے ہیں بریانی کی ایک پلیٹ ہے اور ہم ہیں دوستو ۔
عمران خان نے صحیح فیصلہ کیا ہے جب تک سخت ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا یہ باتیں بڑھتی جائےں گی !
(کالم نگارسماجی اورسیاسی ایشوز پرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭



بشکریہ

جواب چھوڑیں