کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں بندے بھی ہو گئ…

کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں
بندے بھی ہو گئے ہیں خدا تیرے شہر میں
…..
خاطر غزنوی کا یومِ پیدائش
November 25, 1925

اردو اور ہندکو کے نامور شاعر اور ادیب خاطر غزنوی کا اصل نام محمد ابراہیم بیگ تھا اور وہ 25 نومبر 1925ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان پشاور سے کیا۔ بعدازاں پشاور یونیورسٹی سے اردو زبان میں ایم اے کیا اور اسی شعبہ میں تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ اس دوران وہ دو ادبی جرائد ’’سنگ میل‘‘ اور ’’احساس‘‘ سے بھی منسلک رہے۔ 1984ء میں انہیں اکادمی ادبیات پاکستان کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ خاطر غزنوی کے شعری مجموعوں میں روپ رنگ، خواب درخواب، شام کی چھتری اور کونجاں اور نثری کتب میں زندگی کے لئے، پھول اور پتھر، چٹانیں اور رومان، رزم نامہ، سرحد کے رومان، پشتو متلونہ، دستار نامہ، پٹھان اور جذبات لطیف، خوشحال نامہ، چین نامہ، اصناف ادب اور ایک کمرہ کے نام شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ ٭7جولائی 2008ء کو خاطر غزنوی پشاور میں وفات پاگئے اور پشاور ہی میں قبرستان رحمن بابا میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانےگئے
….
یہ کون چپکے چپکے اٹھا اور چل دیا
خاطرؔ یہ کس نے لوٹ لیں محفل کی دھڑکنیں
….
لوگوں نے تو سورج کی چکا چوند کو پوجا
میں نے تو ترے سائے کو بھی سجدہ کیا ہے
….
انساں ہوں گھر گیا ہوں زمیں کے خداؤں میں
اب بستیاں بساؤں گا جا کر خلاؤں میں
….
تو نہیں پاس تری یاد تو ہے
تو ہی تو سوجھے جہاں تک سوچوں
…..
سر رکھ کے سو گیا ہوں غموں کی صلیب پر
شاید کہ خواب لے اڑیں ہنستی فضاؤں میں
…..
گلوں کی محفل رنگیں میں خار بن نہ سکے
بہار آئی تو ہم گلستاں سے لوٹ آئے
….
خاطرؔ اب اہل دل بھی بنے ہیں زمانہ ساز
کس سے کریں وفا کی طلب اپنے شہر میں
….
ایک ایک کر کے لوگ نکل آئے دھوپ میں
جلنے لگے تھے جیسے سبھی گھر کی چھاؤں میں

What is the wind in your city now?
I have also become a man in your city, God.
…..
Birthday of Khair Ghaznavi
November 25, 1925

The real name of Ghaznavi was Muhammad Ibrahim Baig, a renowned poet of Urdu and Hindko, and was born in Peshawar on 25 November 1925 He started his practical life from Radio Pakistan Peshawar. After Peshawar University He was an MA in Urdu language and was associated with the profession of teaching in the same department. Meanwhile he was also connected to two literary magazines ′′ milestone ′′ and ′′ Ehsas In 1984 he was an Academy of Literature Pakistan. Appointed Director General of Khair Ghaznavi's poetry collections in Rup Rang, Khawab Darkhawab, Syria's umbrella and Kunjan and Nisri books for life, flowers and stones, rocks and Roman, Razm Nama, Roman of the border, Pashto Matlona, Dastar Nama, Pathan and Jhabat Latif, Khushal Nama, Chinnama, Genesis Literature and a Room. The Government of Pakistan was awarded them the Presidential Medal of Performance as acknowledged their literary services. * 7 Khaar Ghaznavi died in Peshawar on July 2008, and died in the graveyard of Rehman Baba in Peshawar. See a poetry of him:
Go for a little bit, friends of years went away
But so much happened that some people will recognize
….
Who is this secretly woke up and walked away
For the sake, who robbed the heartbeats of the gathering
….
People worshipped the sun's chakuka chand
I have bowed down to your shadow too.
….
I am a human being, I have gone home to the gods of the earth.
Now I will make the towns settle in space.
….
You are not with me, I remember you.
Only you can understand as far as I think
…..
I have slept with my head on the cross of sorrows.
Perhaps dreams will fly in smiling air.
…..
The gathering of flowers could not become thorns in colors.
When spring came, we returned from the garden
….
For the sake, now the people of the heart have also become the makers
Whom should I ask for loyalty in my city
….
One by one people came out in the sun
As if everyone was burning in the shade of the house

Translated


جواب چھوڑیں