خلجان۔۔مختار پارس | مکالمہ


SHOPPING

پسِ دیوارِ دل ایک ہنگامہ لگا رہتا ہے؛ جیسے کسی پابندِ سلاسل کی شوریدہ سری ہے یا پھر جیسے کسی نے بڑھتے ہوۓ چشموں کو روک لیا ہو۔ دیواروں سے سر ٹکرانا بھی ایک اظہارِ راۓ ہے کہ آنکھوں کی بھی زبان ہوتی ہے اور یدِ طولیٰ کو شکنجوں میں جکڑنا ممکن نہیں۔ زنداں میں موجود شخص سے انصاف کا تقاضا کسی طور مناسب نہیں کہ ایک آزاد بندہِ خدا ہی میزان کی ضمانت دے سکتا ہے۔ انصاف کرنے کی ذمہ داری قید کرنے والے پر ہے مگر غلام گردشوں میں رینگنے والے لکھے ہوۓ پرعمل نہیں کرتے۔ اگر کسی گھر پر قفل لگا دیا جاۓ تو دروازوں پر بندش لگانے والے خود بھی مقید ہو جاتے ہیں۔ چست لباس اور ہشاش چہرے آزادی کی علامت نہیں ہوتے۔ آزاد وہ ہوتا ہے جو بیڑیاں پہن کر بھی اس فکر سے آزاد ہوتا ہے کہ باطل اور باطن ملکر اس سے متعلق کیا سوچ رہے ہیں۔

تو پھر کیا یہ احسن نہیں کہ یہ طے کر لیا جاۓ کہ اس خلجان کا موجب عِلم ہے یا اَلم ۔ اگر علم کی ایک تشریح ممکن ہوتی تو آج کہیں کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔ حاکمیت شاید جنس نہیں، جبلت ہے, اپنے موقف کی برتری کو ثابت کرنے کی کوشش تہذیبوں کو جنم دے سکتی ہے اور سلطنتیں اجاڑ سکتی ہے۔ مفروضوں کی بنیاد پر حاصل کی گئی دانش سے کردارسازی کرنے کی کوشش، بےسروپا اقوام کو ہی جنم دے سکے گی۔ انسانی تہذیب کا حاصل سائینس کے چند فارمولے ہیں جو ہر دس سال بعد غلط ثابت ہو کر کسی اور تلاش میں غلطاں ہو جاتے ہیں۔ سب سچے ہیں مگر انجانی قوتیں کسی اور ذہن کی اختراع پر یقین نہیں کرنے دیتیں۔ آنکھ جو دیکھتی ہے، اسے دل نہیں مانتا۔ دل جس کےلیے دھڑکتا ہے، وہاں چشم کشائی کی اجازت نہیں ملتی۔ جہاں ہوا کا دباؤ کم ہوا، وہیں تند و تیز جھونکے چل پڑے؛ داستانِ حیات اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

یہ غلط العام ہے کہ انسان بھوک اور پیاس سے مر جاتا ہے۔ جس زمین کے تین حصوں پر پانی بہتا ہو، کیا وہاں پیاس سے مر جانے کی کوئی مناسب توضیح ہو سکتی ہے۔ یہ غلط الحال ہے جس نے ابنِ آدم کو رزق کی تقسیم میں الجھا دیا ہے۔ قحط میں خدا کی ناراضگی کا اتنا ہاتھ نہیں جتنا قحط الرجال کا ہے۔ انسان کے حواس بجا ہوں تو کوئی اس کے ہمسائے میں بھوکا نہیں سو سکتا، چہ جائیکہ کہ بستیاں فاقہ کشی کا شکار ہوں جائیں۔ یہ بے چارگی ہے جو خود پر طاری ہو جاۓ تو کچھ کرنے نہیں دیتی۔ یہ لاعلمی کی دیوارِ چَفش ہے جو محتاجوں تک پہنچنے نہیں دیتی۔ یہ بدنظمی کا منڈپ ہے جو فقیروں کو قطاروں میں کھڑا کر دیتا ہے۔ وسائل کم ہونے سے لوگ نہیں مرتے۔ لوگ فقر کے معبد میں نہیں، فکر کی خانقاہ سے آتی ہوئی آہ و بقا سے مر جاتے ہیں۔

بذر کو بشر بننے میں طاقت سے زیادہ توفیق چاہیئے۔ انسان کو حیوان سے جو چیز جدا کرتی ہے وہ اس کی جدت پسندی ہے۔ جانور ایک طرح کے صبح شام گزارتے ہیں۔ ان کی زندگی حرکات و سکنات کے اعادے کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ کچھ نیا ہو جاۓ تو ان کی زندگی کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اور وہ باقی نہیں رہتے۔ اس کے برعکس انسان کی بقا نئی سوچ اور نئے  پن سے جڑی ہے۔ وہ روایات کی چوکھٹ پر نئے  سجدے نہ کرے تو گمراہ اور ہلکان ہو جاتا ہے۔ ہر نیا خیال اسے اگلی صدی میں دھکیل دیتا ہے۔ جو نسلیں نئی روشنیوں سے ڈر کر منہ چھپا لیتی ہیں، وہ ماضی میں دھکیل دی جاتی ہیں۔ نوح کی کشتی میں سوار ہونے سے انکار کرنے والے ہمیشہ زیادہ ہوتے ہیں۔ نئے  زمانے پر نظر رکھنے والے ہی طوفانوں کا سامنا کر پاتے ہیں۔ تاریخ میں ایک طرح کے شب و روز گزارنے والوں کو جتنا پریشان ان گناہگاروں نے کیا ہے، اتنا کسی شیر یا چیتے نے نہیں کیا۔ سونگھ کر خوراک تلاش کرنے اور سوچ کر زندگی گزارنے میں فرق ہی انسان کی میراث ہے۔ ایک عرصے سے کسی نے نئی بات نہیں کہی۔ ہر خطے میں کولہو کے بیل کھوپے چڑھاۓ دائروں میں گھوم رہے ہیں۔ لگتا ہے خدا کی زمین پر سوہنی بُہاری پھرنے والی ہے۔

اس آزمائش سے صرف وہی بچ سکتا ہے جو رابطے میں ہے۔ ہر وہ چیز جو گفتگو کر سکتی ہے، رابطے کا موجب بن سکتی ہے۔ ہر وہ چیز جو اظہار پر قدرت نہیں رکھتی، ڈر اور نفرت کو جنم دیتی ہے۔انسان گھر میں رکھے جانوروں سے محبت اس لیے کرتا ہے کہ وہ اس سے اظہارِ وفا کرتے ہیں۔ سگ اور گربہ سے نہ ڈرنے والا انسان سانپ اور چھپکلی سے اس لیے ڈرتا ہے کہ وہ مکالمہ نہیں کرتے۔ گفتگو اگر ہو تو محبت کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ فکر کی بات یہ ہے کہ انسان جگمگاتے پتھروں کی طرف بہت راغب ہوتا ہے، حالانکہ وہ کبھی کلام نہیں کرتے۔ اسے خون کی خوشبو کھینچتی ہے جو بہتا ہے مگر کچھ کہتا نہیں ہے۔ فولاد کے نیزوں کی کوئی زبان نہیں ہوتی؛ وہ جسم میں اتر جاتے ہیں مگر دل میں نہیں۔

زندگی تو ایسے ہے جیسے کنارِ آب کھڑے بچوں کے ہاتھ میں ٹھیکریاں اور کنکر۔ ہر دل میں ایک معصوم جستجو ہے کہ دیکھیں کس کا پتھر پانی پر اچھلتا ہوا کس قدر دور جا کر گرتا ہے۔ ہر آنکھ میں شوقِ دید ہے کہ پتھر کے ڈوبنے کے مقام پر کتنے بھنور بنتے ہیں اور کتنی دیر رہتے ہیں۔ ہر گرنے والے پتھر نے تالاب کی تہہ میں گر کر نظروں سے اوجھل ہو جانا ہے۔ شام کی کرنیں جب گدلے پانیوں پر پڑتی ہیں تو سب سنہرا ہو کر دھندلا جاتا ہے۔ گھروں کی جانب سے ماں کی آواز بچوں کو لوٹ آنے کو کہتی سنائی دیتی ہے۔ کچھ بچے دھندلکوں میں وہیں بیٹھ رہتے ہیں اور کچھ لوٹ جاتے ہیں۔ میرے خدا، تو ہی بتا، علم، بھوک، جدت اور جدائی کے اس خلجان میں ہم کیا کریں؟

SHOPPING




بشکریہ

جواب چھوڑیں