"بایزید کی پُراِسرار خُماری" مثنوی روم…

"بایزید کی پُراِسرار خُماری" 💃🍷💧🌊
مثنوی روم | ماخذ ترجمہ از #مُسافرِشَب
ءFor excerpt source, see the endء

“سُنو! مَیں خُدا ہُوں..“ درویش بایزید بسطامی نے ایک سرد گہری شَب یہ کہہ کر اپنے طلباء کو شدید حیرت میں مبتلا کر دیا۔

مُلک فارس کے شمالی علاقوں میں کوہ البرص کے بلند پہاڑوں نے برفوں کی قبائیں اوڑھی ہوئی تھیں.. اِس جگہ جہاں یہ خانقاہ موجود تھی، نظر نہ آتا تھا کہ برفانی کوہ البرص کے پیچھے شمال میں دنیا کی سب سے بڑی جھیل موجود تھی.. وہ اتنی عظیم جھیل تھی کہ اُسے جھیل نہیں سمندر کہا جاتا تھا…. اُس کے کناروں پر جھیلوں کی ہلکوروں جیسی لہریں نہیں آتی تھیں بلکہ سمندروں جیسی لہریں اُٹھتی تھیں.. وہ جھیل بحرِ قزوین تھی۔ کوہِ البرص کے عین نیچے جنوبی جانب، بحر کے منظر سے پوشیدہ یہ شہرِ بسطام تھا۔ اے میرے دوست! اُس شہر میں بحرِ قزوین نظر نہیں آتا مگر نمکین سمندری ہوائیں اعلان کرتی تھیں کہ شہر والو سمندر موجود ہے۔

یہ جِس گہری شَب کا واقعہ ہے، اُس شَب سمندری ہوائیں کوہِ البرص کی برفوں کو چُھو کر سرد ہوتی تھیں اور بسطام میں آوارہ گردی کرتی تھیں۔ خانقاہ میں جھیل جیسا ایک درویش ایسی خماری پر آیا کہ اپنے طلباء کے سامنے خود کو سمندر کہہ بیٹھا.. قصور اُس کا بھی نہ تھا.. سمندری ہوا کا تھا۔ ساغر و ساگر میں فرق نہ رہا تھا۔

”بے شک کوئی خدا موجود نہیں، سوائے میرے.. اب میری عبادت کرو..“ بایزید نے کہا۔ طلباء کو اپنے معلم درویش کی خوب خبر تھی، لہذا انہوں نے صبر سے کام لیا۔ جب علی الصبح سیاہ آسمان کا رنگ بدل گیا تب درویش بایزید کی خماری اُتری۔ طلباء نے کہا ”حضور آپ رات میں کچھ ایسا کہہ بیٹھے ہیں جو سراسر شرک میں آتا ہے.. بلکہ یہ شرک کی جانے کون سی قسم ہو گی جس میں انسان اپنے آپ کو ہی خُدا کہہ بیٹھے۔“

درویش جب ہوش میں ہو تب اُس سے زیادہ عاجز کوئی اور نہیں ہوتا۔ پس بایزید نے کہا ”اف، یہ کیا ہو گیا۔ چلو اگلی بار ایسا ہو تو مجھ پر خنجروں سے وار کر دینا.. واقعی ایسی غلطی کی سزا معمولی نہیں ہونی چاہیے۔ خدا لامحدود ہے جبکہ مَیں ایک محدود جسم ہُوں۔“

اگلی شَب، بحرِ قزوین جھیل کی ہوائیں ایک بار پھر بسطام کے گلی کوچوں اور کھڑکیوں میں آوارہ گردی کرنے لگیں.. پتا نہیں جھیل کو بیک وقت بحر کہنا بھی چاہیے یا نہیں۔ بایزید دوبارہ ایک جامِ نامعلوم سے شدید مخمور ہو گیا۔ اُسے اپنے اور طلباء کے مابین ہونے والی گفتگو بھول گئی۔ وہ ایسی شیرینی میں ڈوب گیا جس میں مروجہ نظریات تحلیل ہو جاتے ہیں، زبان و لغت بے کار ہو جاتے ہیں۔ وہ ایسی آگ میں جل اُٹھا جو رات کو دن میں بدل دے اور منطق کی شمعوں کو بے حیثیت کر دے۔

منطق بے شک ہونہار طالبہء علم ہے.. مگر معلم کے سامنے اُسے کم تر مباحث کی اجازت نہیں ہوتی۔ منطق خدا کا سایہ ہے.. مگر جب خدا سورج کی مانند روشن ہو تو پھر کوئی سایہ موجود نہیں رہ سکتا۔

اگر کوئی جِن کسی انسان میں آ جائے تو پھر وہ انسان جو کچھ بھی کہے، ہم یہی سمجھتے ہیں کہ جِن کہہ رہا ہے، انسان نہیں کہہ رہا۔ تو پھر جس نے جِن کو تخلیق کیا ہے، اُس کے اختیارات کا شمار کیسے ممکن ہے!

اگر کوئی انسان نہایت پرخمار شراب نوش کرنے کے بعد نشہ میں ڈوب کر کسی شیر کو ہلاک کر دے تو ہم کہتے ہیں کہ شراب نے شیر کو ہلاک کیا ہے، اِس انسان نے نہیں۔ اور اگر ایسا مخمور انسان زبردست شاعری تخلیق کرنے لگے تب بھی ہم یہی کہیں گے کہ قصور سارا ساغر و مینا کا ہے، اِس شخص کا نہیں۔

اگر ایک جام تجھے تُجھ میں سے نکال باہر کر سکتا ہے تو پھر نُورِ خدا کی طاقت کیا ہو گی! اُس کائناتِ نُور کی روشنی میں جسم کا شعلہ کہاں نظر آتا ہے!

اور تو اور.. بے شک قرآن پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک لبوں سے ادا ہوا ہے.. لیکن اگر کوئی یہی کہے کہ قرآن تو پیغمبر کے لبوں سے ادا ہوا ہے، تو یہ گستاخی ہے۔ ہم یہی کہیں گے کہ قرآن خدا کا کلام ہے، پیغمبر کا نہیں۔

تو اُس اگلی شَب بایزید کی بے خودی کا عقاب ایک بار پھر بلندی کی ہواؤں میں پرواز کرنے لگا۔ خُماری اتنی شدید تھی کہ پہلے سے بھی زیادہ ناقابلِ برداشت الفاظ میں بولنے لگا… ”میری جِلد کے اندر خدا ہی خدا ہے، اور کچھ نہیں۔ اے دنیا والو! تُم خدا کو ارض و سماوات میں کاہے کو تلاش کر رہے ہو؟ وہ اِدھر ہے، میرے اندر۔“

طلباء کے لیے اب یہ معاملہ برداشت کے قابل نہ رہا۔ وہ بھاگے بھاگے باورچی خانہ اور ہر اُس جگہ گئے جہاں کوئی نہ کوئی خنجر یا اِس قسم کا ہتھیار برآمد ہو سکتا تھا۔ انہوں نے بایزید پر حملہ کر دیا اور جسم کا کوئی حصہ نہ چھوڑا۔

مگر یہاں ایک حیرت ناک منظر وجود میں آ گیا۔ جو جہاں حملہ کرتا تھا خود اُس کے اپنے جسم پر اُسی جگہ خون بہہ نکلتا۔ جس نے بایزید کے گلے پر وار کیا، اُس کا اپنا گلا کٹا۔ جس نے بایزید کے سینے پر وار کیا، اُس کا اپنا سینہ زخمی ہوا۔ سب طلباء خون میں لت پت ہو گئے مگر بایزید کے جسم پر ایک نشان تک نہ تھا۔

طلباء میں چند ایک ایسے بھی تھے جنہیں حملہ آور طلباء جتنا اپنے علم پر اعتماد نہ تھا، نہ ہی انہیں ابھی اپنے معلم کی کیفیات کی حقیقی وجوہات معلوم تھیں، وہ تو خیر کسی کو بھی معلوم نہ تھیں سوائے خود معلم کے۔ ان طلباء نے متذبذب ہونے کی وجہ سے حملہ نہیں کیا، وہ جائے وقوعہ سے فرار ہو چکے تھے اس لیے بچ گئے۔ اگر بایزید کسی خمار میں کچھ کہہ گیا تھا تو حملہ آور بھی کسی خمار میں ہی حملے کر رہے تھے۔ ابھی اُس خاص طالبِ علم کا ظہور نہیں ہوا تھا جس نے بایزید کے پراسرار علم میں ڈوبنا تھا۔

اگلی صبح اہلِ شہر تک گزشتہ شب کے واقعہ کی خبر ہوئی۔ وہ جوق در جوق بایزید کی خانقاہ پہنچے۔ انہوں نے بایزید کو پوچھا ”اے عجیب شخص، تُم صرف ایک محدود انسان ہو، ہم جیسے جسم کے مالک ہو، تمہاری تو بوٹی بوٹی الگ ہو جانی چاہیے تھی، تو پھر تمہیں کیوں کچھ نہ ہوا؟“

بایزید نے کہا ”یاد رکھو کہ اگر تُم کسی مخلص، بے لوث اور محبت میں فنا شخص پر حملہ کرو گے تو خود نقصان اُٹھاؤ گے۔ اگر کوئی شخص خدا میں فنا ہو جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے حفاظت میں آ جاتا ہے۔ خدا اپنی ذات میں گُم ایسے شخص کو ایک آئنہ میں بدل دیتا ہے۔ اُس شخص کا چہرا خدا کا چہرا ہو جاتا ہے۔ یہی کلیہ ہے۔ جس سے شدید محبت کرو گے، اُسی میں فنا ہو جاؤ گے۔ عطر سے محبت کرو گے، خود مہک آور ہو جاؤ گے۔ سمندر سے محبت کرو گے، سمندر ہو جاؤ گے۔ قزوین جھیل ساگر کے ساغر میں ایسی ڈوبی کہ خود بحر کہلائی۔ ایسے آئنہ شخص سے یہ علم نہیں سیکھا جا سکتا، اُس کے ہمراہ مل کر غوطہ لگانا پڑتا ہے۔

”ایسے آئنہ پر تھوکو گے، اپنے منہ پر ہی تھوکو گے۔ آئنہ کو گالیاں بکو گے، خود کو ہی بکو گے۔ آئنہ میں غلیظ چہرا دیکھو گے، اپنے آپ کو ہی دیکھ رہے ہو گے۔ مریم و عیسیٰ کو دیکھو گے، اپنے نیک کردار کو ہی دیکھو گے۔

”حقیقت یہ ہے کہ آئنہ بس آئنہ ہوتا ہے، کائنات کی اٹل حقیقت۔ وہ اچھا یا بُرا نہیں ہوتا۔ دوسرا جو جیسا ہوتا ہے، ویسا ہی خود کو دیکھتا ہے۔

”اس لیے اگر تُم کبھی کسی پرخمار شخص میں غلاظت دیکھو تو فوراً حملے نہ شروع کر دینا۔ خاموش رہ کر صبر کرنا۔ یہ تمہارا پہلا قدم ہو گا کائناتی حقیقت کی جانب۔ ورنہ دوسری صورت میں تُم شدید نقصان اُٹھاؤ گے۔“

اور ہاں، میرے زمانے سے ہزار برس بعد نوعِ انسان میں سے اہلِ علم ذروں کا سینہ پاش کر دیں گے اور اُس دور کی عام عوام بھی میرے زمانے کے بظاہر پراسرار علم کو پا لے گی۔ وہ نوعِ انسان بہت خوش قسمت ہو گی۔ وہ محدود فانی ذرے میں لامحدود و لافانی کائناتی خلا دریافت کر لے گی۔

واصف ہے میرا نام مگر راز ہُوں گہرا
ذرے نے جگر چیر کے رکھا میرے آگے

•••
From English book "Tales of Mystic Meaning"
Excerpts of Masnavi Rum | Page 168-171
by R.A.Nicholson
Translation from Eng to Urdu by مُسافرِشَب
Note: Extended translation.
#TalesOfMysticMeaningByAhsanStory 14
#Rumi #Bayazid #Bistami #Iran #Caspian #Sea


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2946208368943010

جواب چھوڑیں