سائمن کا منہ کھلا اور اس کے ہونٹوں سے سرگوشی برآمد…

سائمن کا منہ کھلا اور اس کے ہونٹوں سے سرگوشی برآمد ھوئی، "یہ صرف ایک چھڑی پر لگا سور کا سر ھے !"
سور کا سر بولا، "عجیب بات ھے نا کہ تم سمجھے کہ تم بلا کا شکار کر سکتے ھو اور اسے مار سکتے ھو !" چند لمحوں میں جنگل اور ارد گرد کی تاریک جگہوں میں قہقہے کا ناٹک گونجنے لگا۔ "تم جانتے ھو نا ؟ میں تمہارا حصّہ ھوں ؟ کچھ ایسا ھی ھے ! میں ھی وہ وجہ ھوں کہ تم کچھ نہیں کر سکتے ؟ میں ھی وہ وجہ ھوں کہ حالات ایسے ھیں جیسے یہاں ھیں ؟"
قہقہہ پھر سے کپکپانے لگا۔
مکھیوں کا دیوتا پھر بولا، "اچھا چلو، اب دوسروں کے پاس چلے جاؤ اور یہ سب بھول جاؤ !"
سائمن کا سر گھومنے لگا۔ اس کی آنکھیں نیم وا تھیں جیسے لکڑی پر اٹکی اس کریہہ چیز کی نقل اتار رھا ھو۔ وہ جانتا تھا کہ اس پر وھی کیفیت طاری ھونے لگی ھے۔ مکھیوں کا دیوتا غبارے کی مانند پھولتا جا رہا تھا۔ "یہ حماقت ھے۔ تم خوب جانتے ھو کہ یہاں تمہیں صرف میں ھی ملوں گا۔۔۔ اس لئے بچنے کی کوشش مت کرو !"
سائمن کا جسم اینٹھن سے اکڑنے لگا۔ مکھیوں دیوتا کسی سکول ماسٹر کی آواز میں بول رھا تھا۔ "بس بہت ھو چکا۔ میرے بیچارے بھولے بھٹکے گمراہ بچے، تم کیا سمجھے کہ تم مجھ سے زیادہ جانتے ھو ؟"
ایک وقفہ۔ "میں تمہیں بتائے دے رھا ھوں۔ مجھے طیش آ رھا ھے۔ دیکھ رھے ھو نا ؟ یہاں تمہاری ضرورت نہیں ھے۔ سمجھے ؟ ھم اس جزیرے پر کھیلیں کودیں گے۔ سمجھے ؟ ھم اس جزیرے پر کھیلیں کودیں گے ! اس لئے کوئی ایسی ویسی حرکت مت کرنا، میرے گمراہ بچے، ورنہ۔۔۔" سائمن ایک تاریک وسیع و عریض منہ میں جھانکتا گیا۔ اس منہ میں تاریکی تھی، تاریکی جو پھیلتی جا رھی تھی۔ مکھیوں کا دیوتا بولا، "ورنہ، جانتے ھو نا کہ ھم تمہارے ساتھ کیا سلوک کریں گے ؟ جیک اور راجر اور ماریس اور رابرٹ اور بل اور پگی اور رالف۔ جانتے ھو نا ؟ کیا کریں گے ؟" سائمن اب اس منہ کے اندر دھنس چکا تھا۔ وہ نیچے گرا اور بے ھوش ھو گیا۔

ناول : "لارڈ آف دی فلائیز"
مصنف : ولیم گولڈنگ
زیر تکمیل ترجمہ : شوکت نواز نیازی


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2953952844835229

جواب چھوڑیں