عربی ادب پر علامہ احمد حسن الزیات صاحب کی لکھی ہوی…

عربی ادب پر علامہ احمد حسن الزیات صاحب کی لکھی ہوی کتاب بنام"تاریخ ادب عربی" کا مطالعہ کرنے سے زمانہ جاہلیت کے اھل عرب کی مثبت زندگی کا مختصر پہلو۔
شعر۔زہے عشق زہے خوبی ہوی رخصت یہ محبوبی۔
اٹھا گھونگٹ تو حق دیکھا ازل عشقاء ابد عشقاء۔
زمانہ جاہلیت میں جہاں عرب شعراء اشعاری
محافل میں باہمی تنقیدی و ہجوگوئی کرتے تھے
جس سے ان کی جاہلیت کا تقاضا کیا گیا ہے لیکن ان جھلاء
میں بعض ایسے بھی شاعر تھے جن کی شاعری کو پڑھنے
سے ان کے جذبات و تفکرات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہیکہ
جس طرح وہ اپنے جھل میں نکھرے ہوے تھے اسی
طرح وہ محبت میں بھی کھلتے ہوے پھولوں کی مانند
اپنی مثل آپ تھے۔
انہیں میں سے ایک کثير نامی شاعر نے اپنی محبوبہ بنام
عزہ کے فراق میں اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوے ایک قصیدہ لکھا ہے جس کے چند اشعار آپ کی خدمت میں
پیش کرنا چاہتا ہوں

1-وکل قرينی الفۃ التفرق
۔ستاتا و ان ضنا وطال التعاشر۔
محبت میں جڑے تمام جوڑے ایک دن جدا ہو جائیں گے،
خواہ وہ ایک دوسرے کو کتنا ہی چاہتے ہوں،اور کتنے ہی عرصے تک اکٹھے رہے ہوں۔

2- فما انا بالداعی لعزۃ بالجوی۔
ولا شامت ان نعل عزۃ زلت۔
میں عزہ(محبوبہ)کو یہ دعا نہیں دوں گا کہ وہ بھی محبت میں بے چین ہو۔ اور میں اس بات پر بھی خوش نہیں ہؤوں گا کہ کبھی اس کا جوتا بھی بھسل جائے۔

4-فو اللہ ثم اللہ ما حل قبلھا۔
ولا بعدھا من خلۃ حیث حلت۔
اللہ کی قسم پھر دوبارہ اللہ کی قسم مجھے اس (محبوبہ)سے جو محبت ہے اس سے پہلے اور اس کے بعد کسی سے بھی اس طرح کی محبت نہیں ہوی۔

5-وما انت ادری قبل عزۃ ما البکا۔
ولا موجعات القلب حتیٰ تولت۔
عزہ(اے میری محبوبہ) مجھے پہلے یہ معلوم نہ تھا کہ رونا کیا ہوتا ہے۔درد کیا ہوتا ہے دل کی آہ کیا ہوتی ہے۔جب تم بچھڑ گئی ہو تو اب مجھے یہ سب معلوم ہوگیا ہے۔

6-وکانت لقطع الحبل بینی و بینھما۔
کنا ذرۃ نذرا فاوفت وحلت
اس نے(محبوبہ) نے میرے اور اپنے درمیان موجود تعلق کی رسی کو کاٹ دیا۔جس طرح کوی نذر ماننے والی عورت نذر پوری کرکے مطمئن ہوجاتی ہے۔

7-فان تکن العتبی فاھلا ومرحبا۔
وحقت لھا العتبی لدینا و قلت۔
اگر وہ(محبوبہ) مجھ سے راضی ہوتی ہے۔تو خوش آمدید اور اس پر لازم ہے کہ مجھ سے راضی رہے اگرچہ تھوڑی ہی رہی۔
#shahid_ansari


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2957101331187047

جواب چھوڑیں