نظم : تمہاری مسکراہٹ شاعر : پابلو نیرودا ترجمہ :…

نظم : تمہاری مسکراہٹ
شاعر : پابلو نیرودا
ترجمہ : قدیر

مجھ سے روٹی لے لو
اگر تم چاہو, تو ہوا بھی
لیکن مجھ سے اپنی ہنسی مت لو

مجھ سے گلاب مت لو,
تیز دھار پھول جسے تم نمو دو
چشمہ جو اچانک خوشی سے پھوٹے
چاندی کی اچانک لہر جو تم میں پیدا ہو

میری جدوجہد سخت ہے
اور میں تھکی آنکھوں سے واپس آیا ہوں
زمانوں سے ایک ہی زمین دیکھتے ہوئے
لیکن جب تمہاری ہنسی ملتی ہے
یہ مجھ کو لیے آسمانوں تک اٹھتی ہے
اور میرے لیے زندگی کے تمام دروازے کھولتی ہے

میری پیاری! تاریک ترین لمحے
تمہاری ہنسی سے چھٹتے ہیں
اور اگر تم اچانک دیکھو
میرا خون گلیوں کے پتھروں کو بھگو رہا ہے
مسکراؤ! کیونکہ تمہاری ہنسی
میرے ہاتھوں میں تیز تلوار کی طرح ہو گی

خزاں میں سمندر کے قریب تمہاری ہنسی
جھاگ کی سطحوں کو ضرور ابھارے گی,
اور بہار میں, پیاری! میں تمہاری ہنسی چاہتا ہوں
پھولوں کی طرح جن کا میں انتظار کرتا رہا ہوں
نیلے پھول, میرے گونجتے ہوئے ملک کے

رات پہ ہنسو, دن پہ, چاند پہ
جزیرے کی خمدار گلیوں پہ ہنسو
اس نادان لڑکے پہ ہنسو
جو تمہیں چاہتا ہے
لیکن جب میں آنکھیں کھولوں اور بند کروں
جب میں قدم بڑھاؤں , جب میں قدم لوٹاؤں
مجھے روٹی سے روک دو,
ہوا, روشنی اور بہار سے بھی
لیکن اپنی ہنسی سے نہیں
کہ میں مر جاؤں گا.


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2955436821353498

جواب چھوڑیں