( غیر مطبوعہ ) پُرکھــــوں کے آثار اٹھـــــائے، د…

( غیر مطبوعہ )

پُرکھــــوں کے آثار اٹھـــــائے، دور نکلنے والا تھا
نوح کی کشتی چھوڑ کے جتّھا، پیدل چلنے والا تھا

کس اسٹیشن پر جاتی تھی برزخ کی خاموش سرنگ
روح نتھـاری جــانی تھا یا جســـــــم بدلنے والا تھا

گرد اوَدھ کی اڑ جانی تھی، اور بنارس لٹنے تھـے
میں اپنے لاہـــــــور کی مٹّی منہ پر مَلنے والا تھا

اچّھا ہے' اب آگ کو دھونکو، اور جلنے کی مشق کرو
نکلے ہو جس راہ پہ کیــــا یہ رستا چلنے والا تھا

ہاں بھّیا درویش مسافر اپنی اپنی کھوہ میں ہیں
اتنی تھی برسات کہ پورا برگد جلنے والا تھا

مولا کیا معصوم جگر بھی تیر سے چھدنے والے تھے
پیغمبر کے پاک بدن پہ آرا چلنے والا تھا

( احـــمد جہــاں گیر )

— with ‎احمد جہاں گیر‎.

جواب چھوڑیں