میں بھاگ رہا تھا۔ مرد و زن کے قہقہے مجھ پر برس رہے…

میں بھاگ رہا تھا۔ مرد و زن کے قہقہے مجھ پر برس رہے تھے۔ وہ سب کہہ رہے تھے "میں پاگل ہو چکا ہوں"۔

میں بھاگ رہا تھا اور مردو زن مجھ سے خوفزدہ تھے۔ وہ اپنے گھروں کی اونچی دیواروں کی اوٹ میں چھپ رہے تھے۔ وہ چیخ رہے تھے کہ "میں پاگل ہو چکا ہوں"۔

میں بھاگتا ہانپتا بڑے چوک میں جا پہنچا۔ میں نے دیکھا میرا ایک محبوب چہرہ اپنے گھر کی چھت پر کھڑا بری طرح روتے ہوئے میری طرف دیکھ رہا ہے اور چلا رہا ہے کہ "میں پاگل ہو چکا ہوں"۔

میں نے اس کیطرف نظر اٹھائی تو سورج کی روشن کرنوں نے میرے برہنہ چہرے کا پہلی مرتبہ بوسہ لیا۔

اچانک مجھے احساس ہوا میرا چہرہ تو برہنہ ہے۔ مجھے یاد آیا کہ بہت سارے خداؤں کی پیدائش سے قبل میں ایک گہری نیند سے بیدار ہوا تھا۔ اور پتہ چلا کہ میرے چہرے کے لبادے تو چوری ہو چکے۔ وہ سات لبادے جو میرے چہرے کی برہنگی چھپاتے تھے۔

وہ میرے سات روپ
وہ میرے سات بہروپ

میں تب باہر بھاگا تھا اور چیخنے لگا ۔۔۔ چور چور چور
مگر میرا اصل چہرہ سب نے دیکھ لیا اور وہ سبھی کہہ رہے تھے کہ "میں پاگل ہو چکا ہوں"

روشن کرنوں کے بوسے سے میرے دل میں روشنی ہوئی۔ مجھے روشنی سے محبت محسوس ہوئی۔ میری روح آزاد ہوگئی مگر میرا وجود تنہا ہو گیا۔ میں دوسروں سے الگ ہو گیا۔

میں سمجھے جانے سے محفوظ ہو گیا۔

لیکن کیا میں واقعتا محفوظ ہو گیا؟

قید خانہ ہی تو ایک جگہ ہے جہاں ایک چور بھی دوسرے چور سے محفوظ ہوتا ہے۔

میں پاگل ہو چکا ہوں

(خلیل جبران کی نظم The Madman کا نثری تخیل)

You ask me how I became a madman. It happened thus: One day, long before many gods were born, I woke from a deep sleep and found all my masks were stolen,—the seven masks I have fashioned and worn in seven lives,—I ran maskless through the crowded streets shouting, “Thieves, thieves, the cursed thieves.”

Men and women laughed at me and some ran to their houses in fear of me.

And when I reached the market place, a youth standing on a house-top cried, “He is a madman.” I looked up to behold him; the sun kissed my own naked face for the first time. For the first time the sun kissed my own naked face and my soul was inflamed with love for the sun, and I wanted my masks no more. And as if in a trance I cried, “Blessed, blessed are the thieves who stole my masks.”

Thus I became a madman.

And I have found both freedom and safety in my madness; the freedom of loneliness and the safety from being understood, for those who understand us enslave something in us.

But let me not be too proud of my safety. Even a Thief in a jail is safe from another thief.

Via: Amir Mughal


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2959676050929575

جواب چھوڑیں