خمیر ۔۔ مختار پارس | مکالمہ



Shopping Revolution

زندگی اس بات کا امتحان ہے کہ ہم کیا سوچتے ہیں۔ ہم جو سوچتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔ ہماری سوچ کے خیموں کے اندر ہمارا خدا چھپ کر بیٹھا سب سن رہا ہوتا ہے اور وہ کسی کو انکار نہیں کرتا۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی خانقاہ میں بیٹھا ہے یا راجدھانی میں؛ کوئی نگاہ کا فقیر ہے اور کوئی لکیر کا فقیر ہے مگر اس کے ہاتھ پر سکہ وہی آ کر گرتا ہے جسے وہ مانگتا ہے۔ میرے خالی ہاتھوں کو دیکھ کر لوگ کہتے ہیں کہ تم سوچتے کیوں نہیں؟ اس لمحہء استفسار میں ان کے لہجے، جھنجھلاہٹ اور غصے میں لرز رہے ہوتے ہیں اور میں اپنی خاموشی کی ردا اوڑھے مسکراتا رہتا ہوں۔ انہیں کیا بتاؤں کہ جھاگ بناں دُدھ جمدے ناہیں؛ میرا خمیر مجھے کچھ سوچنے دے تو میں سوچوں !
ہم سمجھتے ہیں کہ لو گ مر کر زیادہ سمجھدار ہو جاتے ہیں اور دنیا سے پردہ کر جانے کے بعد ان پر وہ سارے حقائق آشکار ہو جاتے ہیں جن کے پہلے عیاں نہ ہونے کی وجہ سے زندگی میں ان کی سوچ مفلوج رہی ہو۔ جھوٹ اگر ایک زندہ شخص کو گمراہ کر سکتا ہے تو مردنی میں بھلا ایسی کونسی کستوری ہے جو سچ کو سامنے لا کر ڈھیر کر سکتی ہے۔ یہ بھی ایک توقع ہے کہ سچ اگر اس جہانِ فانی میں نہیں پنپ سکا تو اگلے جہان وہ اپنا قصہ ضرور سناۓ گا۔ اس توقع کے پیچھے اس خدا کی ذات ہے جو دلوں میں بیٹھا دھڑک رہا ہے، جو کبھی خیال بن کر چونکا دیتا ہے اور کبھی خواب بن کر جگا دیتا ہے۔ میری سوچ کے خیموں میں میرا خدا بیٹھا ہے؛ یہ کیسے ممکن ہے کہ سچ میرے سامنے آشکار نہ ہو۔ اگر میں کسی کو پہچان کر منہ پرے کر لوں تو پھر اس میں خدا کا تو کوئی قصور نہیں۔ زندگی میں اگر مناجات کام نہیں آۓ تو موت کے بھجن کون سن سکے گا؟ کوئی نہیں۔
مردہ بھائی کا گوشت کھانے والے کس قدر طمطراق سے بولتے ہیں۔ انہیں خبر نہیں کہ کچھ راز صرف رکھنے کےلیے ہوتے ہیں، بولنے کےلیے نہیں۔ کسی کو گتھیاں سمجھ آ جائیں تو یہ رب کہ عطا ہے اور ہر سمجھ آ جانے والی بات پر واویلا نہیں بنتا۔ کائنات کے ہر کونے کدھرے میں راز یاقوت کی طرح بکھرے ہوۓ ہیں۔ قدرت رازداں ہے اور خود سرگوشیاں کرتی نظر آتی ہے۔ نرم لہجوں میں بات کرنے میں حکمت ہے کہ بادہِ سرکش و سارنگ، آوازِ سگاں اور صُورِ حمار، دیدہ و دل پر قفل لگا دیتے ہیں۔ جو آنکھیں نہیں پڑھ سکتا وہ گنہگار ہے؛ جو لفظ نہیں چن سکتا وہ سزاوار ہے اور جو راز نہیں رکھ سکتا وہ مردار ہے۔ خاموشی کا خمیر صرف زندوں میں ہوتا ہے؛ یہ مر جانے والوں کے بس کی بات نہیں۔ سب سے بڑی حقیقت کا نام خدا ہے؛ دیکھا نہیں کہ وہ کتنا خاموش ہے؟
حرکات و سکنات کبھی اسرار نہیں کہلاتے کہ وہ سب سامنے ہوتا ہے۔ بہتیرے ایسے ہیں جو طور طریق کو بھی نہیں سمجھ سکتے اور ان کی کم فہمی لوگوں کو پراسرار بنا دیتی ہے۔ راز کی بات صرف وہی ہے جو دل میں ہے یا زبان پر ہے۔ زبان پر لازم ہے کہ وہ حسنِ انتظام سے اظہار کرے کہ سچ کانچ کی طرح ہوتا ہے۔ نظر کا جام ذرا بھی چھلک گیا تو صاحبِ جام گیا کام سے۔ کچھ باتیں راز کے انداز میں کہنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فتنہ سر اٹھاۓ۔ کچھ باتیں کہہ دی جاتی ہیں تاکہ جوار بھاٹا چاند کو دیکھ کر پریشان نہ ہو۔ کبھی لب کشائی محترم کر دیتی ہے اور کبھی نہ بولنا بہتر رہتا ہے۔ پیمانہء گفتار کا زمانے کی رفتار سے نہیں سروکار نہیں؛ اس کا تعین انسان کا کردار کرتا ہے، کوئی اور نہیں۔
انسان کا خمیر اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے اصل کی طرف لوٹے۔ ایک اصل وہ ہے جو اسے نظر آتا ہے اور ایک اصل وہ ہے جو اسے سمجھ آتا ہے۔ جو اسے نظر آتا ہے اس پر اسے اختیار نہیں مگر جو اسے سمجھ آتا ہے، اس پر وہ پوری طرح قادر ہے۔ ہرگز ضروری نہیں کہ جو نظر آتا ہو وہ اصل بھی ہو۔ ایک ناصح بھی منبر پر بیٹھ کر لوگوں کو گمراہ کر سکتا ہے۔ سخاوت بھی ایمان کا دامن تار تار کر سکتی ہے۔ خوش اخلاقی اس بات کی ضمانت ہرگز نہیں کہ منافقت کا ساتھ ہرگز نہیں۔ کوئی بھی شخص، کسی بھی لمحے، اپنی جبلتوں کے زیرِ اثر احسنِ تقویم کے درجے سے اسفل اسافلین کی پاتال میں گر سکتا ہے۔ اسی طرح تلاشِ حق کا خمیر زیاں کار نہیں بننے دیتا۔ ہم نے دیکھا کہ ایک ‘اُمی’ نبیؐ بن گیا۔ کئی بادشاہوں کا مکتب سے کوئی تعلق نہ تھا، مگر انہیں ہم نے اندازِ حکمرانی نبھاتے دیکھا۔ حضرتِ داوؑد بکریاں چرا رہے تھے جب انہوں نے پسپا ہوتے ہوۓ لشکر کی کمان سنبھالی اور اسے فتحیاب کرایا۔ اس سے کوئی فرق نہ پڑا کہ موسیٰ نے فرعون کے گھر میں پرورش پائی یا یوسفؑ کو بھیڑیوں کی خوراک بنانے کےلیے صحرا میں چھوڑ دیا گیا۔ کوئی بھی شخص، کسی بھی لمحے، اپنے اصل کی جانب لوٹ سکتا ہے۔ نیتیں ناراض نہ ہوں تو کبھی بھٹکنے نہیں دیتیں۔ نظر دھوکا کھا جاۓ تو کبھی دل آگے بڑھ کر ہاتھ تھام لیتا ہے اور کبھی روح مرہم پٹی کر دیتی ہے۔ بہتی ندی کے صاف اور چمکیلے پانیوں میں جھک کر خود کو دیکھنا ضروری ہے۔ سطحِ آب پر ارتعاش کے باوجود اگر خود کو پہچان لیا تو مقام ابراھیمؑ عطا ہو سکتا ہے۔ بر سرِ لبِ جو اگر آبِ حیاتِ حق کے دو گھونٹ بھی بھر لیے تو عمرِ خضرؑ بھی مقدر میں لکھی جا سکتی ہے۔ اور پھر اس کے بعد بھی ایک دن ہم سب کو اسی کی طرف لوٹ جانا ہے۔

Shopping Revolution




بشکریہ

جواب چھوڑیں