جب اگلے سال یہی وقت آ رہا ہو گا یہ کون جانتا ہ…

جب اگلے سال یہی وقت آ رہا ہو گا
یہ کون جانتا ہے کون کس جگہ ہو گا

تُو میرے سامنے بیٹھا ہے اور میں سوچتا ہوں
کہ آئے لمحوں میں جینا بھی اِک سزا ہو گا

ہم اپنے اپنے بکھیڑوں میں پھنس چکے ہوں گے
نہ تجھ کو میرا نہ مجھ کو تیرا پتا ہو گا

یہی جگہ جہاں ہم آج مِل کے بیٹھے ہیں
اِسی جگہ پہ خدا جانے کل کو کیا ہو گا

یہی چمکتے ہوئے پل دُھواں دُھواں ہوں گے
یہی چمکتا ہوا دِل بجھا بجھا ہو گا

لہُو رُلائے گا وہ دھوپ چھاؤں کا منظر
نظر اٹھاؤں گا جس سِمت جھٹپٹا ہو گا

بچھڑنے والے تجھے دیکھ دیکھ سوچتا ہوں
تو پھر ملے گا تو کتنا بدل چکا ہو گا

(ریاض مجید)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

When this time next year is coming
Who knows who will be in which place

You are sitting in front of me and I think
Living in moments will also be a punishment

We must have been stuck in our own goats
Neither you will know mine nor I will know you

This is where we are sitting together today
In this place, God knows what will happen tomorrow

These shining moments will be smoke
This shining heart will be extinguished

The scene of sunshine and shade will make you cry
I will look at the side which will be shaken.

O the one who left me, I think after seeing you
If you meet again, how much you have changed

(Riyadh Majeed)

Marsal :-: Abul Hasan Ali Nadvi

Translated

جواب چھوڑیں