( غیر مطبوعہ ) قدم قدم صَـــر صــر ِ تعلّق …

( غیر مطبوعہ )

قدم قدم صَـــر صــر ِ تعلّق سے ڈر رہا ہوں
مَیں اتنا یکــ جـــا نہیں تھـا ' جتنا بکھر رہا ہوں

کبھی پس ِ لفـــــظ اپنا ادراکــــــــــ مجھ کو دے گی
مَیں جس مَحبّت کی اِتنی ترتیــــــــــل کر رہا ہوں

پھر اکـــــ تمنّا کی ناوؑ میرے لئے کھــڑی ہے
پھر ایک خـــــواہش کی رتھ سے نیـچے اتر رہا ہوں

کہیں کسی زرد رُت کی تنہــــــائی بانٹنی ہے
یہ میں جو پیڑوں کا رنگ آنکھــوں میں بھر رہا ہوں

یہ بے کلی سی جو دل کے تہہ میں بھڑک رہی ہے
مَیں اُس کی لِپٹوں میں لمحــہ لمحـــہ اُتر رہا ہوں

مَیں سطــــر ِ نو کے الگ جہانوں کا ایک زائر
نئے نئے منظروں کی حیرت سے ڈر رہا ہوں

تری مَحبّت کی ریشـــــــمی دُھوپ میں ہُمک کر
کچھ اتنی جیــنے کی آرزُو ہے کہ مر رہا ہوں

( شہـــزادؔ اظہَـــر )

— with Shehzad Azher.

جواب چھوڑیں