ہمارا کسان مفلوج آزادی سے بغل گیر ہوئے مجروح ہوا ہے۔۔اسد مفتی


گزشتہ دنوں اٹلی کے دارالحکومت روم میں اقوامِ متحدہ کی عالمی خواراک کانفرنس نے “اعلان ِ خوراک” کرتے ہوئے بتایا ہے،کہ2005تک دنیا بھر میں بھوکوں کی تعداد میں پچاس فیصد تک کمی کردی جائے گی،اور دنیا بھر میں کسانوں کو اناج کی کاشت کے لیے ترغیبات دی جائیں گی۔
اس موقع پر ممبروں،ملکوں اور عالمی اداروں کی جانب سے عالمی خوراک پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے ساڑھے چھ ارب ڈالر کے فنڈز کی فراہمی کے وعدے کیے گئے۔
اسلامی ترقیاتی بنک نے اپنے بیت المال سے ڈیڑھ ارب،ورلڈ بنک نے اپنے خزانے سے ایک ارب بیس کروڑ ڈالر اور افریقی ترقیاتی بنک نے اپنے جھولے سے ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔امریکی وزیر خوراک اور ای یو کے سیکرٹری نے اس موقع پر کیا ہے،کہ امریکہ دنیا سے بھوک کے خاتمے کے لیے اپنا “کردار”ادا کرنے کو تیار ہے۔
دنیا کی 6.8بلین(ارب)آبادی کا 12 فیصد حصہ قحط سالی کا شکار ہے۔خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے مختلف ممالک کی حکومتوں کو متبادل ایندھن کی جانب توجہ مبذول کرنی پڑ رہی ہے۔جس کے نتیجے میں بائیو فیول پودوں کی پیداوار میں اضافہ کردیا گیاہے۔اور غذائی اجناس مثلاً گیہوں،سویابین،چاول،مکئی اور،پال آئل کی پیداوار میں کمی واقع ہوگئی ہے۔،یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دنیا آج معاشی و قحط سالی کے بحران کا شکار ہے۔مہنگائی میں بے تحاشا اجافہ،ضروریاتِ زندگی کی بنیادی اشیاٗ کی قلت،قدرتی وسائل کا غیر ضروری استعمال،اشیاء کی قیمت کے تعین پر ملٹی کمپنیوں کی اجارہ داری،فصلوں کی پیداوار میں گراوٹ جیسے امراض نے پوری معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔جس کے سبب پوری انسانیت مسائل کو پریشانیوں میں مبتلا ہوچکی ہے۔ان مسائل کو حل کرنے اور عالمی خوراک و معاشی بحران کے کاتمہ کے لیے سوشلسٹ نظام معیشت وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔
آج دنیا ایک فیصلہ کُن موڑ پرکھڑی ہے۔۔
سرمایہ دارانہ نظام پر مشتمل صدیوں پرانا نطام معیشت زمین دوز ہورہا ہے۔اور ایک ایسے نظامِ معیشت کا طلبگار ہے،جو سرمایہ دارانہ نظام کی لغت سے نکال کر تمام لوگوں کو معاشی ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرسکے،آج دنیا میں 33ممالک ایسے ہیں،جہاں لوگوں کو غذا نہ ملنے کی وجہ سے فسادات ہورہے ہیں،ان میں ایک ملک کشورِ حسین شاد باد بھی ہے،ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم و بیش نصف پاکستانی مہنگائی میں اضافہ کے باعث خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔
گزشتہ ماہ بھوک و افلاس کا شکار افراد کی تعداد میں 35فیصد اضافہ ہوا ہے،جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 6کروڑ کے لگ بھگ تھی،جو آج بڑھ کر 7کروڑ 70لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے،غریب آدمی کی قوتِ خرید قریباً 50فیصد تک کم ہوگئی ہے۔
عالمی خوراک پروگرام کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 60 ملین ٹن آتا (سالانہ)استعمال ہوتا ہے جو اب نایاب یا کمیاب ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاک سرزمین کے 35اضلاع کے باشندے غذائی قحط سالی کا شکار ہیں۔
یہ گمبھیر صورتحال صرف پاکستان ہی میں نہیں پائی جاتی،آسٹریلیا جو گیہوں برآمد کرنے والوں ملکوں میں سرِ فہرست تھا،اسے بھی 60سالہ تاریخ کے شدید ترین بحران کا سامنا ہے۔وہاں 2017میں 22.5ملین ٹن گیہوں کے مقابلے میں 2018کے دوران 15.5ملین ٹن گیہوں پیدا ہوئی،امریکہ کو بھی اسی قسم کے حالات کا سامنا ہے۔
ترکی میں تو گزشتہ سال 15.5ملین ٹن گیہوں کے مقابلے میں صرف 5لاکھ ٹن پیداوار ہوئی،یہاں تک کہ کینیڈا،فرانس،برازیل،چین،بھارت،جرمنی اور ارجنٹینا، سمیت گندم اور گیہوں اگانے والے تمام ممالک اس خشک سالی کا شکار ہوئے،یہاں میں ملکِ عزیز کا مقابلہ بھارت سے کرنا چاہوں گا۔۔۔
تقسیمِ ملک کے بعد زرخیز پنجاب ہمارے حصے میں آیا اور بھارت کو بنجر،ناہموار،غیر زرخیز پنجاب ملا،لیکن ہوا یہ کہ بھارتی پنجاب میں 33لاکھ ایک ہزار رقبہ پر گیہوں کاشت کی جاتی ہے،جبکہ مملکتِ خداداد کے کسان 59لاکھ 34ہزار ایکڑ ے رقبہ پر بوائی کرتے ہیں،لیکن ہم بھارتی کسان ایک ایکڑ سے قریباً 5ہزار کلوگرام گیہوں حاصل کرتا ہے۔جبکہ پاکستانی کاشتکار قسمت کا دھنی ہوتو پھر بھی پیداوار 2400کلوگرام سے آگے نہیں بڑح پاتی۔
ہمارے پنجاب کے 2لاکھ پانچ ہزار 349مربع کلومیٹر رقبے میں سے ایک کروڑ 11لاکھ 40ایکڑ اراضی قابلِ کاشت ہے،جبکہ ہمارے “دشمن نمبر 1″کے50ہزار362کلو میٹر رقبے میں سے صرف 42لاکھ 66ہزار ایکڑ زمین پر فصل اگائی جاسکتی ہے۔
یہاں میں آسٹریلیا،برازیل،کینیڈا کی بات نہیں کررہا،
آخر کیا وجہ ہے کہ بھارت کم زرعی رقبہ رکھنے کے باوجود ہم سے زیادہ پیداوار کرنے کا اہل ہے۔ہم سے زیادہ فصل حاصل کرتا ہے۔؟
آخر کچھ تووجہ ہوگی،ان دنوں پنجابوں کی آب و ہوا،رہن سہن،رسم و رواج اور محنت و مشقت ایک ہے تو نتائج کیوں ایک سے نہیں ہیں؟
کیا ان دونوں پنجابوں کی زمینیں زرخیزی میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔؟
پھر بھارتی پنجاب ہم سے آگے کیوں ہے؟
یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔۔جو ہم اگلے کالم کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔
چلتے چلتے ایک خبر سُن لیجیے۔۔سندھ کا کُل رقبہ 11لاکھ ایکڑ کے قریب ہے۔جس میں سے قریباً 8لاکھ ایکڑ سے زائد پانچ بڑے خاندانوں کی ملکیت اور جاگیر ہے۔ان پنج پیروں میں مخدوم طالب المولیٰ،جتوئی،بھٹو،تالپور اور پیر آف رانی پور شامل ہیں۔
بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینا
مجھے تو آج طلب کرلیا ہے صحرا نے!




بشکریہ

جواب چھوڑیں