برطانیہ اور اسکاٹ لینڈ-اتحاد ٹوٹنےکو ہے؟۔۔۔طاہر انعام شیخ

اسکاٹ لینڈ میں اس وقت برطانیہ سے آزادی کی تحریک اپنے تاریخی عروج کو پہنچ گئی ہے، 2020ء کے آغاز سے لے کر رائے عامہ کے تمام جائزے مسلسل بتا رہے ہیں کہ شاید وہ وقت آن پہنچا ہے جب کہ اسکاٹش عوام نے انگلینڈ سے علیحدگی کے بارے میں اپنا ایک مستقل ذہن تیار کرلیا ہے اور اب آزادی ایک نوشتہ دیوار بن چکی ہے۔

گزشتہ 5 ماہ سے ہونے والے مسلسل 9 سروے کے نتائج آزادی کے حق میں ہیں، آزادی چاہنے والوں کی اوسط 46 کے مقابلے میں 54 فیصد ہے، جبکہ بعض سروے میں یہ شرح 40 اور 60 تک چلی گئی ہے۔

2014ء کے آزادی کے ریفرنڈم کو جس کی قیادت ا سکاٹش نیشنل پارٹی اور سکاٹش حکومت کے سربراہ الیکس سالمنڈ کررہے تھے 45 کے مقابلے میں 55 فیصد سے مسترد کردیا گیا تھا۔ اگرچہ آزادی کے خلاف یہ ایک واضح فیصلہ تھا لیکن یہ تعداد ہرگز اتنی کم بھی نہ تھی کہ آزادی پسندوں کے حوصلے ٹوٹ جاتے۔ عوام کی 45 فیصد بھی ایک بڑی تعداد تھی، چنانچہ انہوں نے اپنی تحریک کو بدستور زور و شور سے جاری رکھا۔ 2016ء میں صورتحال اس وقت ایک بار پھر ڈرامائی طور پر تبدیل ہوگئی جب یورپی یونین سے علیحدگی کے لئے بریگزٹ ریفرنڈم ہوا جس میں اسکاٹش عوام کی بھاری اکثریت یعنی 62 فیصد نے 38 کے مقابلے میں بدستور یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیئے۔

شمالی آئرلینڈ  کے عوام بھی اس حق میں تھے لیکن مجموعی طور پر یوکے کے عوام نے غیر متوقع طور پر بریگزٹ کے لئے فیصلہ دیا۔ برطانوی حکومت بغیر کسی ڈیل کے یورپی یونین سے نکلنے کی خواہش رکھتی ہے۔ جس پر اسکاٹ لینڈ کے عوام خاصے ناراض ہیں۔

واضح رہے کہ بریگزٹ سے پہلے ہی برطانیہ کے چند سابق وزرائے اعظم اس خدشے کا اظہار کرچکے تھے کہ یورپی یونین سے یوکے کی علیحدگی کی صورت میں اسکاٹ لینڈ بھی برطانیہ سے علیحدہ ہوسکتا ہے جب کہ آئرلینڈ کے سلسلہ میں بھی زبردست مسائل پیش آئیں گے۔ گڈ فرائی ڈے کا معاہدہ متاثر ہوسکتا ہے، امریکہ کے نئے صدر جوبائیڈن بھی جن کے آباؤاجداد آئرش تھے آئرلینڈ میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے گڈ فرائی ڈے معاہدے کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں۔

اس وقت ا سکاٹش نیشنل پارٹی اور اسکاٹش حکومت کی سربراہ نکولا سٹرجن آزادی کے نئے ریفرنڈم کی تحریک کی سربراہی کررہی ہیں۔ بریگزٹ کی صورت میں ان کو ایک نیا زبردست کارڈ مل گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2014ء کے سکاٹش آزادی کے ریفرنڈم میں عوام نے برطانیہ کے ساتھ رہنے کے لئے جو ووٹ دیئے تھے وہ اس صورتحال کے لئے تھا کہ اسکاٹ لینڈ اور برطانیہ یورپی یونین کا حصہ تھے۔

اب صورتحال میں ایک بنیادی تبدیلی آچکی ہے جس میں لازمی طور پر ایک نئے ریفرنڈم کے ذریعے عوام سے دوبارہ رائے لینے کی ضرورت ہے۔ آزادی کی حمایت میں ایک بڑی سپورٹ مارچ میں کرونا وائرس شروع ہونے کے بعد اس کے پھیلاکو روکنے کی پالیسی پر بھی ملی۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے شروع میں کرونا وائرس کو سنجیدگی سے نہ لیا، بدقسمتی سے وہ خود بھی بعدازاں اس موذی مرض کا شکار بن گئے اور بمشکل موت کے منہ سے بچے، چنانچہ انتظامی طور پر وہ شروع میں ہی ایسے اقدامات نہ کرسکے جن پر عمل کرکے کرونا کی تباہیوں کو کم کیا جاسکتا تھا۔

ان کے مقابلے میں ا سکاٹش حکومت کی سربراہ نکولا سٹرجن نے معاملات کو نسبتاً بہتر طریقے سے نپٹایا، اور دعویٰ کیا کہ وہ اپنے تمام معاملات کو برطانوی حکومت کے مقابلے میں بہتر طور پر حل کرسکتے ہیں۔ آزادی کے حامیوں کی تعداد بڑھنے کی ایک وجہ نئی نسل کے نوجوان بھی ہیں۔ 2014ء کے ریفرنڈم میں جو بچے ووٹ ڈالنے کے اہل نہ تھے اب وہ جوان ہوچکے ہیں اور ان کی بہت بڑی تعداد جو کہ ماضی میں بدستور برطانوی یونین میں رہنے کے حق میں تھی، رائے عامہ کے نئے جائزوں کے مطابق اب وہ بھی آزادی چاہتی ہیں۔

اسکاٹش پارلیمنٹ کے نئے الیکشن 6 ماہ بعد مئی 2021ء میں ہورہے ہیں اورا سکاٹش نیشنل پارٹی ان میں آزادی کے بنیادی نعرے کی بنیاد پر ہی حصہ لے رہی ہے، اس کا کہنا ہے کہ اگر اسکاٹش عوام نے اسے نئے الیکشن میں فیصلہ کن اکثریت کے ساتھ ووٹ دیئے تو یہ آزادی کے ایک نئے ریفرنڈم کےلئے مینڈیٹ ہوگا جس کے بعد وہ برطانوی حکومت سے 2014ء کی طرز کے ریفرنڈم کے دوبارہ انعقاد کے لئے بات چیت کرے گی۔ لیکن برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور ان کے وزراء کسی دوسرے ریفرنڈم کے انعقاد کے لئے واضح طور پر انکار کرچکے ہیں، ان کی دلیل ہے کہ 2014ء کے ریفرنڈم میں خود اسکاٹش نیشنل پارٹی کے لیڈروں نے کہا تھا کہ یہ ریفرنڈم ایک پوری نسل کے لئے ہے اور ایک نسل کا عرصہ 25 سے 40 سال تک ہوتا ہے۔ آئینی طور پر نئے ریفرنڈم کو کرانے کا اختیار اسکاٹش پارلیمنٹ یا حکومت کے پاس نہیں بلکہ لندن میں یوکے کی مرکزی حکومت اور پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ اسکاٹش پارلیمنٹ اپنے طور پر بھی قرارداد منظور کرکے آزادی کا ریفرنڈم کروا سکتی ہے، لیکن اس کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہوگی۔

نکولا سٹرجن برطانیہ سے آزادی حاصل کرکے چونکہ دوبارہ یورپی یونین کاممبر بننا چاہتی ہیں اس لئے وہ تمام معاملات آئینی اور قانونی طور پر ہی چاہتی ہیں، کیونکہ اپنے طور پر کرائے گئے یکطرفہ ریفرنڈم کو دنیا اور نہ ہی یورپی یونین تسلیم کرے گی۔ نکولا سٹرجن کو امید واثق ہے کہ 2021ء کے اسکاٹش پارلیمنٹ کا الیکشن اگر بھاری اکثریت سے جیت جاتی ہیں تو برطانوی حکومت پر نئے ریفرنڈم کے لئے زبردست دباؤ  پڑے گا اور ان کو اس کی اجازت دینے کے لئے مجبور کیا جاسکتا ہے، نئے ریفرنڈم کی اجازت نہ دینے پرا سکاٹش نیشنل پارٹی کو یہ پروپیگنڈا کرنے کا موقع ملے گا کہ انگلش حکومت اسکاٹش عوام کو دوسرے درجہ کا شہری سمجھتی ہے ان کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتی، جیسا کہ اس نے بریگزٹ کے لئے کیا ہے اس سے آزادی کی تحریک مزید تیز اورمضبوط ہوگی، انگلینڈ کے خلاف غصہ بڑھے گا جس کے بعد وہ نیا ریفرنڈم کرانے کیلئے لازمی طور پر مجبور ہوجائیں گے۔

ا سکاٹش نیشنل پارٹی کو کمزور کرنے کے لئے ویسٹ منسٹر میں کنزرویٹو پارٹی کی حکومت اور برطانوی اسٹیبلشمنٹ کی زبردست خواہش اور کوشش ہے کہ اسکاٹ لینڈ جو کسی زمانے میں لیبرپارٹی کا قلعہ ہوا کرتا تھا اور اب اس کی مقبولیت کم ہوکر تیسرے درجے پر آچکی ہے۔ دوبارہ یہ طاقت پکڑے اور اپنی پرانی مضبوط نشستوں پر کامیاب ہو۔ رائے عامہ کے تمام جائزوں پر برطانوی حکومت کی بھی گہری نظر ہے، اس وقت کسی نئے ریفرنڈم کی اجازت دینا ان کی طرف سے ملک توڑنے کی اجازت دینے کے مترادف ہے، لیکن بعدازاں حالات تبدیل ہوجانے پر اگر ان کو نئے ریفرنڈم کی اجازت دینی بھی پڑی تو وہ شاید ساراجاتا دیکھ کر کم پر راضی ہو جائیں اور اسکاٹ لینڈ کو بدستور برطانیہ میں شامل رکھنے کے لئے ریفرنڈم میں اسکاٹش نیشنل پارٹی کے مکمل آزادی کے نعرے کے مقابلے میں ایک ایسا پیکج لے کر آئیں جس میں اسکاٹ لینڈ کو مزید خود مختاری، سہولتیں اور اختیارات دے کر برائے نام طور پر سہی لیکن ایک متحدہ برطانیہ کو قائم رکھا جاسکے۔




بشکریہ

جواب چھوڑیں